پاکستان میں فائیو جی سروس کے باقاعدہ آغاز نے جہاں ایک نئی ٹیکنالوجی کی امید پیدا کی، وہیں ابتدا میں ایک بڑا مسئلہ بھی سامنے آیا۔ جدید اور مہنگے سمارٹ فونز، خاص طور پر ایپل اور سام سنگ کے ڈیوائسز پر فائیو جی سروس دستیاب نہیں تھی جس نے صارفین کو حیران کر دیا۔
19 مارچ کو پاکستان میں فائیو جی سروس شروع کی گئی اور ابتدائی طور پر زونگ نے چند بڑے شہروں کے مخصوص علاقوں میں یہ سہولت فراہم کی۔ اس دوران چینی برانڈز جیسے شیاؤمی اور ویوو کے فونز پر فائیو جی چل رہا تھا لیکن آئی فون اور سام سنگ کے کئی جدید ماڈلز پر یہ آپشن ظاہر ہی نہیں ہو رہا تھا۔
مزید پڑھیں
اس مسئلے کی وجہ فون کا ہارڈویئر نہیں بلکہ سافٹ ویئر کی ایک تکنیکی شرط تھی جسے آسان الفاظ میں ’نیٹ ورک منظوری‘ کہا جا سکتا ہے۔
پاکستان میں ٹیلی کام سروسز کی نگرانی پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کرتی ہے جو نیٹ ورکس کو فائیو جی چلانے کی اجازت دیتی ہے۔
تاہم اس کے ساتھ ساتھ موبائل فون بنانے والی کمپنیوں کو بھی اپنے سافٹ ویئر میں متعلقہ ملک کے نیٹ ورکس کو شامل کرنا پڑتا ہے۔ جب تک یہ منظوری نہ دی جائے، فون میں فائیو جی کا آپشن ظاہر نہیں ہوتا اور ڈیوائس صرف فور جی یا ایل ٹی ای پر ہی چلتی رہتی ہے۔
حالیہ دنوں میں صورتحال اس وقت بدلی جب ایپل کی جانب سے iOS 26.5 Beta جاری کیا گیا۔ اس بیٹا اپڈیٹ کے بعد پاکستان میں کئی صارفین نے رپورٹ کیا کہ ان کے آئی فونز پر، خاص طور پر زونگ نیٹ ورک کے ساتھ، فائیو جی سگنل ظاہر ہونا شروع ہو گیا ہے۔ اس پیش رفت سے عندیہ ملتا ہے کہ ایپل نے پاکستان کے نیٹ ورکس کو اپنے سسٹم میں شامل کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

ابتدائی مرحلے میں فائیو جی سروس اسلام آباد (ریڈ زون اور بلیو ایریا)، کراچی، لاہور اور دیگر بڑے شہروں کے محدود علاقوں میں دستیاب ہے، جہاں صارفین اس نئی ٹیکنالوجی کا تجربہ کر رہے ہیں۔
وہ صارفین جو فائیو جی فیچر کو فوری آزمانا چاہتے ہیں، وہ ایپل کے بیٹا پروگرام کے ذریعے اپنے فون پر بیٹا اپڈیٹ انسٹال کر سکتے ہیں۔
اس کے لیے صارفین کو ایپل کے بیٹا پروگرام کی ویب سائٹ پر جا کر اپنے آئی فون کو رجسٹر کرنا ہوتا ہے جس کے بعد سیٹنگز میں جا کر اپڈیٹ ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔












