مدینہ ریجن: اعلٰی معیار کی ’العیص گندم‘ جس کی بیرون مملکت میں مانگ ہے
سعودی عرب میں گندم کی پیداوار کے حوالے سے مدینہ منورہ ریجن کی العیص کمشنری کا شمار اہم خطوں میں ہوتا ہے اور یہ اپنی پوزیشن کو مضبوط بنا رہا ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی کے مطابق ’العیص گندم‘ ایک اعلٰی معیار کی مقامی قسم ہے۔ گندم کی اس قسم کو بارانی زرعی ماڈل کو استعمال کرتے ہوئے کاشت کیا جاتا ہے۔ اپنی قدرتی خصوصیات کے باعث ملکی اور بین الاقوامی منڈیوں میں اس کی قدر ہے۔
ان دنوں گندم کی فصل کی کٹائی کا سیزن عروج پر ہے جسے مقامی طور پر ’الصرام‘ کہا جاتا ہے۔ اس دوران کھیت ایک طرح سے کھلے ورکشاپ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں جہاں گندم کی بالیاں جمع کر کے گٹھوں کی صورت میں باندھ دی جاتی ہیں۔
یہ منظر زرعی ورثے کے تسلسل اور اجتماعی محنت کے اس جذبے کی عکاسی کرتا ہے جو یہاں کے لوگ نسل در نسل منتقل کرتے آ رہے ہیں۔
العیص کمشنری میں پیدا ہونے والی مقامی گندم خالص مانی جاتی ہے کیونکہ اس میں کسی قسم کی ملاوٹ نہیں کی جاتی تاکہ اس کی قدرتی خصوصیات اور معیار برقرار رہے۔

زرعی عمل کے دوران فصل کو بھوسے سے الگ کرنے کے لیے ایک مشین استعمال کی جاتی ہے جسے مقامی طور پر ’الدراسہ‘ کہا جاتا ہے۔ اس میں گندم کی بالیوں کو وقفے وقفے سے ڈالا جاتا ہے جس سے اناج کے دانوں کو بھوسے سے جدا کیا جاتا ہے۔
گندم کو بھوسے سے جدا کرنے کے بعد دوسرا مرحلہ اسے ذخیرہ کرنے کا ہوتا ہے جس کے لیے روایتی اور جدید دونوں ہی طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔

گندم ذخیرہ کے لیے قدیم طریقہ ’القصر‘ کو اختیار کیا جاتا ہے جس میں زیر زمین تیار کیے جانے والے خصوصی گڑھے میں گندم کو طویل عرصے تک محفوظ رکھا جاتا ہے۔
کمشنری میں زرعی طریقہ کار میں بھی اب تبدیلی آچکی ہے، اونٹوں کی مدد سے روایتی ہل چلانے کے طریقوں کی جگہ جدید ٹریکٹر اور دیگر آلات نے لے لی ہے۔ اس سے پیداوار کی رفتار اور کارکردگی میں اضافہ ہوا ہے۔

گندم کی کٹائی کے سیزن میں علاقے کے لوگ کئی دن تک اپنے کھیتوں میں رہتے ہیں، زرعی کاموں میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں۔ پیداوار کو آپس میں تقسیم کیا جاتا ہے جو ایک قدیم سماجی روایت ہے۔
علاقے سے حاصل ہونے والی گندم نہ صرف مملکت کی مارکیٹوں کو سپلائی کی جاتی ہے بلکہ بیرون مملکت بھی اپنی جگہ بنا رہی ہے جس کی وجہ اس کا اعلٰی معیار اور قدرتی پیداوار کا طریقہ ہے۔
