حج کے دوران ٹرانسپورٹ میں آسانی کے لیے سعودی عرب کا روڈ اپ گریڈ پلان
روڈ ٹرانسپورٹ کے لیے 33 ہزار بسیں اور پانچ ہزار ٹیکسیاں چلائی جائیں گی (فوٹو: ایس پی اے)
حج کے دوران عازمین کو محفوظ نقل و حرکت فراہم کرنے کے لیے سعودی عرب اپنے نیشنل روڈ نیٹ ورک کو تیزی سے بڑے پیمانے پر اپ گریڈ کر رہا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق اس حوالے سے حکام نے ٹرانسپورٹ کے مختلف شعبوں کے لیے جامع پلان تیار کر لیا ہے۔
وزارت ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک سروسز کے ماتحت کام کرنے والی روڈز جنرل اتھارٹی کا کہنا ہے کہ وہ مملکت کی شاہراہوں پر حفاظت اور کارکردگی کو بڑھانے کے لیے دنیا کا سب سے بڑا روڈ سروے اور اسسمنٹ کا فلیٹ تیار کر رہی ہے۔
یہ اقدام اس بڑی تبدیلی کا حصہ ہے جس نے سعودی عرب کو سڑکوں کے حوالے سے رابطوں کی عالمی رینکنگ میں نمایاں مقام دلایا ہے جبکہ یہ اقدام سعودی وژن 2030 کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ ہے جس کے تحت اس دہائی کے اختتام تک سالانہ تین کروڑ عازمین کی میزبانی کا ہدف رکھا گیا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق اس سپیشلائزڈ فلیٹ میں ہائی ریزولوشن کیمرے اور لیزر سینسر استعمال کیے جا رہے ہیں جو سڑکوں کی سطح پر 0.05 ملی میٹر تک کی باریک دراڑوں اور خرابیوں کو ڈھونڈ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ سسٹم سڑک کی موٹائی، سیدھ اور پھسلن کے خلاف مزاحمت کی پیمائش بھی کرتا ہے۔
اس ٹیکنالوجی کو مرمت کے فیصلوں کو جلدی کرنے اور خاص طور پر حج کے سیزن میں مجموعی طور پر سڑکوں کو تیار کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
اتھارٹی کا کہنا ہے کہ وہ انٹرنیشنل روڈ اسسمنٹ پروگرام کی جانب سے سیٹ کیے گئے انٹرنیشنل بینچ مارک کے تحت سڑکوں پر اموات کو ایک لاکھ میں سے پانچ سے بھی کم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے جبکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے کہ مقدس مقامات پر عازمین حج کی نقل و حرکت روانی سے جاری رہے۔

روڈ اپ گریڈ کرنے کا سلسلہ حج سیزن 2026 کے لیے تیار کیے جانے والے بڑے پیمانے پر ٹرانسپورٹ ایکوسسٹم کا حصہ ہے جبکہ وزارت نے گزشتہ مہینے اعلان کیا تھا کہ اس نے فضائی، ریل، بحری اور زمینی نقل و حرکت کے تمام آپریشنل مراحل مکمل کر لیے ہیں۔
ایوی ایشن سیکٹر میں 12 ہزار فلائٹس کے لیے 31 لاکھ سیٹیں مختص کر دی گئی ہیں جس میں چھ بڑے ایئرپورٹس پر تقریباً 22 ہزار اہلکار تعینات ہیں۔
اس میں ایئرپورٹ سے باہر سامان کا چیک ان اور زم زم پانی کے پہلے سے ترسیل کے انتظامات شامل ہیں۔
ریل نیٹ ورک کے ذریعے لاکھوں مسافروں کا سفر متوقع ہے جس میں مشاعر مقدسہ میٹرو پر 20 لاکھ سے زیادہ اور حرمین ہائی سپیڈ ریلوے پر 22 لاکھ سے زیادہ نشستیں فراہم کی جائیں گی۔

مشاعر میٹرو مکہ میں حج کے کچھ دنوں میں عازمین حج کو مقدس مقامات پر لے جانے کے لیے چلائی جاتی ہے۔ حرمین ریلوے مکہ اور مدینہ کے مقدس شہروں کو آپس میں جوڑتی ہے جس کے سٹاپ جدہ، کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ جدہ اور کنگ عبداللہ اکنامک سٹی رابغ میں ہیں۔
وزارت ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ روڈ ٹرانسپورٹ کے لیے 33 ہزار بسیں اور پانچ ہزار ٹیکسیاں چلائی جائیں گی جن کے ساتھ انسپیکشن اور ٹریفک مینیجمنٹ ٹیمیں ہوں گی۔
اس کے علاوہ لاجسٹک اور بحری آپریشنز کو بھی مضبوط بنایا جا رہا ہے جس میں سعودی پوسٹ نے اپنا ڈیلیوری فِلیٹ پھیلا دیا ہے اور سعودی پورٹس اتھارٹی نے جدہ اسلامک پورٹ پر آمد کے طریقہ کار کو حتمی شکل دے دی ہے۔
کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے نیشنل ٹرانسپورٹ سیفٹی سینٹر ہر وقت گراؤنڈ پر موجود رہے گا۔

یہ تمام اقدامات لاکھوں عازمین کو سفر کا بہترین اور مربوط تجربہ فراہم کرنے کے سعودی عزم کو ظاہر کرتے ہیں اور ساتھ ہی مملکت کو ایک عالمی لاجسٹک مرکز بنانے کی کوششوں کو بھی قوت فراہم کرتے ہیں۔
