امریکہ نے قبضے میں لیا گیا ایرانی جہاز اور عملہ پاکستان کے حوالے کر دیا
امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان نے کہا کہ امریکہ نے پچھلے مہینے قبضے میں لیا گیا ایرانی جہاز اور عملے کو پاکستان کے حوالے کر دیا ہے۔
یہ پیش رفت آبنائے ہرمز کے معاملے پر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باوجود سامنے آئی ہے۔
اے بی سی نیوز نے امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹین ٹم ہاکنز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ٹوسکا نامی جہاز اور 22 ارکان پر مشتمل کریو کو پاکستان بھجوا دیا گیا ہے۔
امریکی صدر نے ایرانی جہاز کو قبضے میں لیے جانے کے وقت دعویٰ کیا تھا کہ اس نے 19 اپریل کو نافذ کی گئی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی تھی اور امریکی بحریہ کا حکم ماننے سے انکار کیا تھا۔
امریکہ نے پچھلے مہینے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا اور اسی کی خلاف ورزی کے الزام میں ایرانی جہاز کو قبضے میں لیا گیا۔
اس واقعے سے ان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا جو فروری کے اواخر میں اس وقت جنگ میں اتر گئے تھے جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا۔
سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کے مطابق ’آج امریکی فوج نے ایرانی جہاز کے 22 ارکان پر مشتمل کریو کی منتقلی کا کام مکمل کیا ہے، جبکہ چھ دیگر مسافروں کو پچھلے ہفتے وطن واپسی کے لیے خطے کے ایک ملک میں منتقل کیا گیا تھا۔‘
ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم نے پچھلے ہفتے رپورٹ کیا تھا کہ امریکہ نے پکڑے گئے جہاز کے 28 افراد میں سے چھ کو امریکہ نے رہا کر دیا ہے اور وہ ایران پہنچ چکے ہیں۔
ٹم ہاکنز کا یہ بھی کہنا تھا کہ توسکا جہاز کو اس وقت اس کی اصل ملکیت میں منتقل کیا جا رہا ہے، جس کو پچھلے مہینے ناکہ بندی کی خلاف ورزی پر پکڑا گیا تھا۔‘
پاکستانی و ایرانی حکام کا رابطہ، امن مذاکرات پر تبادلہ خیال
پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے اتوار کی رات کو فون پر بات کی۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس رابطے میں امن کے لیے ہونے والی کوششوں اور خطے میں ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔