Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کوہِ نور کی الجھی ہوئی کہانی: صدیوں پرانا ہیرا مگر واپسی کا حق کس کا؟

زہران ممدانی نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ وہ ممکنہ طور پر بادشاہ چارلس کو کوہ نور واپس کرنے کا کہیں گے۔ (فوٹو: رائل کلیکشن ٹرسٹ)
حال ہی میں نیو یارک کے میئر زہران ممدانی ایک پریس کانفرنس میں موجود تھے جہاں اُن سے نائن الیون کی یادگار پر کنگ چارلس سے ممکنہ ملاقات کے بارے میں سوال کیا گیا۔
جواب میں ممدانی نے کوہِ نور ہیرا واپس کرنے سے متعلق ایک بات کی جس کے بعد اس معاملے پر سوشل میڈیا پر خاصی بحث شروع ہو گئی۔
ممدانی نے کہا کہ اگر وہ اس موقع سے ہٹ کر کنگ چارلس سے الگ بات کرتے تو شاید اُنہیں کوہِ نور واپس کرنے کا مشورہ دیتے۔
این بی سی کی رپورٹ کے مطابق کوہِ نور کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ 13ویں صدی میں جنوبی انڈیا کی ایک کان میں دریافت ہوا تھا۔ ابتدا میں اس کا وزن 186 قیراط تھا، اسی لیے اسے ’روشنی کا پہاڑ‘ کہا گیا۔
بہت سے لوگوں کا دعویٰ ہے کہ یہ ہیرا برطانوی سلطنت نے ایک متنازع معاہدے کے ذریعے حاصل کیا جو ایک 10 برس بادشاہ سے اُس وقت کیا گیا۔
سوشل میڈیا پر اسے واپس کرنے کے مطالبات ہوتے رہے ہیں تاہم اس بات پر بھی بحث موجود ہے کہ آیا انڈیا کا اس پر حق بنتا ہے یا نہیں کیونکہ یہ صدیوں تک مختلف حکمرانوں کے پاس منتقل ہوتا رہا۔
AP_521114044.jpg
کوہِ نور ہیرا ملکہ مادر الزبتھ کے لیے تیار کیے گئے تاج کے اگلے حصے میں جڑا ہوا تھا (فوٹو: اے پی / الیسٹر گرانٹ)

ممدانی نے یہ واضح نہیں کیا کہ ہیرا کس ملک کو واپس کیا جانا چاہیے جبکہ انڈیا، ایران، افغانستان اور پاکستان سمیت کئی ممالک اس پر دعویٰ رکھتے ہیں۔ ممدانی کا تعلق انڈین نژاد خاندان سے ہے اور اُن کے والدین پنجابی ہیں۔
بکنگھم پیلس نے بدھ کے روز ممدانی کے بیان پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
کوہ نور کی ملکیت کی طویل تاریخ
کوہِ نور ہیرا اس وقت برطانیہ میں شاہی تاج کے زیورات کا حصہ ہے۔ اس کی اصل دریافت کے بارے میں حتمی معلومات دستیاب نہیں تاہم خیال ہے کہ یہ سنہ 1100 سے 1300 کے درمیان دکن کے گولکنڈہ کی کانوں سے نکالا گیا۔ 
اس کا پہلا مستند تاریخی حوالہ 16ویں صدی میں ملتا ہے جب ایک حملہ آور نے انڈیا میں مغل سلطنت کی بنیاد رکھی۔ انٹرنیشنل اینٹیک جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق، 1628 میں مغل بادشاہ شاہ جہاں کے حکم پر تیار کیے گئے مشہور ’مور تخت‘ میں کوہِ نور بھی جڑا ہوا تھا۔
تقریباً ایک صدی بعد نادر شاہ نے دہلی پر حملہ کر کے یہ تخت حاصل کیا اور ہیرا اپنے قبضے میں لے لیا۔ اس کے بعد یہ افغانستان پہنچا، جہاں تقریباً 70 سال تک مختلف حکمرانوں کے درمیان لڑائیوں کے نتیجے میں منتقل ہوتا رہا۔
The True Story of the Koh-i-Noor Diamond—and Why the British Won't Give It Back
نادر شاہ مور تخت پر جلوہ افروز جس کے جواہرات میں کوہِ نور ہیرا بھی شامل تھا (فوٹو: وِکیمیڈیا کامنز)

سنہ 1813  میں یہ ہیرا سکھ حکمران مہاراجہ رنجیت سنگھ کے پاس آیا اور 1839 میں اُن کی وفات تک وہیں رہا۔ بعد ازاں اُن کے بیٹے اور جانشین دلیپ سنگھ کے پاس آیا جو صرف 10 سال کی عمر میں پنجاب کے آخری سکھ مہاراجہ تھے۔
برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے پنجاب کی سیاسی کمزوری سے فائدہ اٹھایا اور دلیپ سنگھ کو تخت سے ہٹا دیا۔ اُنہیں معاہدہ لاہور پر دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا جس کے تحت کوہِ نور ہیرا ملکہ وکٹوریہ کے حوالے کیا گیا۔ دلیپ سنگھ کو جلاوطن کیا گیا، ایک برطانوی فوجی کی نگرانی میں رکھا گیا اور اُنہیں عیسائیت قبول کرنے پر مجبور کیا گیا۔
The True Story of the Koh-i-Noor Diamond—and Why the British Won't Give It Back
کوہِ نور ہیرے کی ایک خاکہ نما تصویر، جیسا کہ اسے برطانیہ کے حوالے کیے جانے سے پہلے پہنا جاتا تھا (فوٹو: وِکیمیڈیا کامنز)

سنہ 1851 کی عظیم نمائش میں کوہِ نور کو برطانوی سامراجی طاقت کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔ بعد میں اسے یورپی ذوق کے مطابق تراش کر دوبارہ تیار کیا گیا تاکہ اس کی چمک میں اضافہ ہو۔
آج یہ ہیرا ملکہ کے تاج کے اگلے حصے میں نصب ہے۔
The True Story of the Koh-i-Noor Diamond—and Why the British Won't Give It Back
ملکہ وکٹوریہ 1887 میں کوہِ نور ہیرا بطور بروچ پہنے ہوئے۔ (فوٹو: وِکیمیڈیا کامنز / الیگزینڈر بسانو)

واپسی کا مطالبہ، مگر کہاں؟
کوہِ نور سے تعلق رکھنے والے متعدد ممالک، جن میں انڈیا، ایران، افغانستان اور پاکستان شامل ہیں، برطانیہ سے اس کی واپسی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ یہ مطالبات سوشل میڈیا کے بڑھتے اثر کے ساتھ مزید زور پکڑ چکے ہیں، خصوصاً ملکہ الزبتھ دوم کی وفات کے بعد۔
کارلٹن یونیورسٹی کی تاریخ دان ڈینیئل کنزی کے مطابق، بہت سے لوگ کوہِ نور کو ’سامراج کی نشانی‘ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ عملی طور پر ایک وقت ایسا آئے گا جب شاہی خاندان کے لیے اس ہیرے کو اپنے پاس رکھنا فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بن جائے گا۔
The True Story of the Koh-i-Noor Diamond—and Why the British Won't Give It Back
کوئین مدر اپنے تاج کے ساتھ، جو انہوں نے جارج ششم کی تاج پوشی کے موقع پر پہنا (فوٹو: الامی)

سمتھسونین انسٹیٹیوشن سے وابستہ جین میلوسچ کے مطابق نوآبادیاتی دور کے نوادرات کی ملکیت کا مسئلہ نہایت پیچیدہ ہے، کیونکہ وقت کے ساتھ سرحدیں اور ریاستیں بدل چکی ہیں۔ اُن کے بقول، کسی شے کی ملکیت کا مکمل سلسلہ سمجھنا آسان نہیں ہوتا۔
ممدانی اور کنگ چارلس کی مختصر ملاقات
بدھ کو نیویارک میں نائن الیون یادگار پر ممدانی کی کنگ چارلس سے مختصر ملاقات بھی ہوئی۔ ویڈیو میں دونوں مسکراتے ہوئے مصافحہ کرتے دکھائی دیے تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اُن کے درمیان کیا گفتگو ہوئی۔
کنگ چارلس بعد ازاں مین ہیٹن میں مختلف تقریبات میں شرکت کے بعد شام کو نیویارک سے روانہ ہو گئے جبکہ وہ اور اُن کی اہلیہ اپنے چار روزہ دورۂ امریکہ کے آخری مرحلے میں جمعرات کو ورجینیا میں موجود تھے۔

شیئر: