خصدار: اسما جتک کے والد کے قتل کا مرکزی ملزم نامزد، مولانا ہدایت الرحمان کے ثناء اللہ زہری پر سنگین الزامات
جمعرات 6 اگست 2026 7:23
زین الدین احمد، اردو نیوز، کوئٹہ
اس واقعے پر بلوچستان اسمبلی میں شدید ردعمل سامنے آیا (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع خضدار میں اسماء جتک کے والد کے قتل کے مقدمے میں ملزم ظہور جمال زئی سمیت چار افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
اسماء جتک کے والد اور ریٹائرڈ سکول ٹیچر ماسٹر عنایت اللہ جتک کو منگل کو خضدار کے علاقے شہزاد سٹی میں گھر کے قریب گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔
یہ واقعہ صوبے بھر میں زیرِ بحث ہے اور اس پر سخت عوامی ردِعمل سامنے آیا ہے جبکہ بلوچستان اسمبلی میں بھی معاملہ اٹھایا گیا جہاں اراکینِ اسمبلی نے حکومت پر شدید تنقید کی۔
مقدمے کی تفصیلات
خضدار سٹی پولیس تھانے کے ایس ایچ او منیر احمد جتک کے مطابق مقدمہ مقتول کے بیٹے اور اسماء جتک کے بھائی پولیس کانسٹیبل حمید اللہ کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ مقدمے میں قتل، دھمکیاں دینے، مہلک ہتھیاروں کے استعمال اور بلوے سے متعلق تعزیراتِ پاکستان کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق مدعی حمید اللہ نے بتایا کہ ان کے والد مسجد میں اذان دینے جا رہے تھے کہ گلی میں پہلے سے موجود گاڑی میں سوار ملزمان ظہور احمد جمال زئی، نادر مگسی، شفیع محمد جمال زئی اور ظفر اللہ نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس سے وہ موقعے پر ہی دم توڑ گئے۔
ایس ایچ او کے مطابق ماسٹر عنایت اللہ پانچ وقت کی اذان دیتے تھے، ان کا گھر اور مسجد قریب قریب ہے۔ ملزم کو ان کے روزمرہ معمول کا علم تھا اور اس نے عصر کے وقت انہیں اس وقت قتل کیا جب وہ گھر سے نکل کر مسجد کی طرف جا رہے تھے۔
مدعی حمید اللہ کے مطابق مرکزی ملزم ظہور جمالزئی ان کی بہن اسماء جتک سے زبردستی شادی کے لیے والد کو مسلسل دھمکیاں دے رہا تھا۔ ایف آئی آر میں درج بیان کے مطابق ملزم نے دھمکی دی تھی کہ اگر بیٹی کی شادی اس سے نہ کرائی گئی تو بیٹے کے لیے کفن کا بندوبست کر لینا اور آپ کو بھی زندہ نہیں چھوڑوں گا۔
حمید اللہ کے مطابق اسماء جتک کی جانب سے سوشل میڈیا پر ویڈیو بیان جاری کیے جانے کے محض دو گھنٹے بعد ملزم اپنے ساتھیوں سمیت آیا اور والد کو قتل کر دیا۔
ایس ایچ او کے مطابق مقدمے میں نامزد دو افراد مرکزی ملزم ظہور جمال زئی کے قریبی رشتہ دار جبکہ ایک جھل مگسی کا رہائشی ہے جن کی گرفتاری کے لیے اب تک متعدد مقامات پر چھاپے مارے جا چکے ہیں تاہم وہ تاحال روپوش ہیں۔
بلوچستان اسمبلی میں معاملہ زیرِ بحث
اس واقعے پر بلوچستان اسمبلی میں شدید ردعمل سامنے آیا۔ حکومتی جماعت پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر علی مدد جتک اور اپوزیشن لیڈر یونس عزیز زہری نے مقدمے کے اندراج میں تاخیر اور ملزمان کی عدم گرفتاری کے خلاف علامتی واک آؤٹ کیا۔
خضدار سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن لیڈر یونس عزیز زہری نے ایوان کو بتایا کہ گزشتہ رات انہیں اسماء جتک نے فون پر رابطہ کیا، وہ آدھے گھنٹے تک مسلسل روتی رہی۔
یونس عزیز زہری نے اسماء جتک کے الفاظ نقل کرتے ہوئے کہا کہ ’متاثرہ بچی نے روتے ہوئے کہا کہ اللہ آپ سے پوچھے گا۔ آپ ہمارے منتخب نمائندے ہیں لیکن ہمارا حال یہ ہے کہ ہمیں سڑکوں پر گھسیٹا جا رہا ہے۔ ہماری نہ عزت محفوظ ہے، نہ جان اور نہ ہی مال۔‘
انہوں نے کہا کہ اس مظلوم بچی کی فریاد کے بعد وہ پوری رات سو نہیں سکے اور عوام اب نمائندوں سے سوال کر رہے ہیں کہ وہ آخر تحفظ اور انصاف کے لیے کہاں جائیں؟
انہوں نے صوبائی حکومت اور پولیس کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو وہ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیرِ داخلہ کو ذمہ دار ٹھہرائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسماء جتک کے خاندان کے ساتھ ظلم کے خلاف آواز اٹھانے پر ان کے سگے بھانجے کامران زہری اور جے یو آئی کے انتخابی امیدوار سمیت تین افراد کو بھی قتل کیا گیا مگر اس کے باوجود قاتل قانون کی گرفت سے آزاد ہیں۔
صوبائی وزیر علی مدد جتک نے کہا کہ پہلے متاثرہ خاتون اسماء جتک کے منگیتر کو قتل کیا گیا اس کے بعد انہوں نے علاقے سے نقل مکانی کی مگر اس کے باوجود انہیں دھمکیوں کا سامنا ہے۔ اسماء جتک کو اغوا کر کے کئی دنوں تک قید میں رکھا گیا۔ ان واقعات کے خلاف احتجاج کرنے پر تین سیاسی رہنماؤں کو بھی قتل کیا گیا۔
صوبائی وزیر نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس افسران کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ملزم کے خلاف پہلے سے چار مقدمات درج ہونے کے باوجود اسے گرفتار نہیں کیا جا سکا۔
نواب ثناء اللہ زہری پر سنگین الزامات اور تردید
جماعت اسلامی بلوچستان کے صوبائی امیر مولانا ہدایت الرحمان نے اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اسماء جتک کے والد اور ماموں کے قتل کا ذمہ دار پیپلز پارٹی رہنما سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری کو قرار دیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ واقعے میں ملوث ملزمان ان کے کارندے ہیں اور ان کی سرپرستی میں پناہ لیتے ہیں جبکہ پولیس دباؤ میں آ کر مقدمہ درج کر رہی ہے اور نہ کسی کو گرفتار کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں قبائلی دشمنیوں اور خواتین کے اغوا جیسے واقعات کے پیچھے نواب اور سردار طبقہ ملوث ہے جو سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کی چھتری تلے خود کو محفوظ رکھتا ہے اور اقتدار میں آنے کے لیے سیاسی جماعتوں کا سہارا لیتا ہے۔
مولانا ہدایت الرحمان کا کہنا تھا کہ ’اسماء جتک قرآن اٹھا کر انصاف کی فریاد کر رہی تھیں اور انہیں انصاف ان کے والد کے قتل کی صورت میں ملا۔‘
بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر عبدالخالق اچکزئی نے ملزمان کی عدم گرفتاری پر وضاحت پیش کرنے کے لیے پولیس افسران کو طلب کر لیا۔ مولانا ہدایت الرحمان نے آئی جی پولیس، متعلقہ ڈی آئی جی اور ایس ایس پی کو ایوان میں طلب کیے جانے کی مخالفت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ طلب کرنے کی بجائے نااہلی پر پولیس افسران کو فوری طور پر برطرف کر کے جیل بھیجا جائے۔
صوبائی وزیر ریونیو عاصم کرد گیلو نے اسمبلی میں نواب ثناء اللہ زہری پر الزامات کو غلط قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نواب ثناء اللہ زہری اور ان کے بیٹے وزیراعلیٰ کے مشیر حمزہ زہری گزشتہ ایک ماہ سے سعودی عرب میں مقیم ہیں اس لیے ان کا نام لینا درست نہیں۔ ان کے مطابق لڑکی کے والد کے قتل میں وہی ملزم ملوث ہے جو اس سے پہلے ان کے اغوا کے مقدمے میں نامزد ہے۔
نواب ثناء اللہ زہری کی رہائش گاہ خلق جھالاوان کی جانب سے جاری بیان میں بھی الزامات کو مسترد کیا گیا ہے۔ خلق جھالاوان کے ترجمان کے مطابق اسماء جتک کے اغوا اور ان کے والد کے قتل، دونوں واقعات سے خلق جھالاوان کا کوئی تعلق نہیں اور تخت جھالاوان نے کبھی کسی قاتل کی سرپرستی کی اور نہ آئندہ کسی ملزم کو پناہ دے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسما جتک کی حالیہ ویڈیو سے متعلق نواب ثناء اللہ خان زہری یا ان کے بیٹے نوابزادہ امیر حمزہ خان زہری کو کوئی علم نہیں، کیونکہ نواب ثناء اللہ خان زہری اور ان کے بیٹے دونوں بیرونِ ملک ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ متعلقہ انتظامیہ اور پولیس کو فوری کارروائی کر کے متاثرہ خاندان کی جانب سے نامزد افراد کو گرفتار کرنا چاہیے۔
اسماء جتک کون ہیں؟
28 سالہ اسماء جتک کا تعلق بلوچستان کے ضلع سوراب کے علاقے انجیرہ سے ہے۔ وہ ایک ریٹائرڈ سکول ٹیچر ماسٹر عنایت اللہ کی بیٹی ہیں۔ خاندان کے مطابق شادی سے انکار پر انہیں بااثر افراد کی مسلسل دھمکیوں کا سامنا ہے اور اس تنازع میں اب تک خاندان کے تین افراد سمیت قبیلے کے چھ افراد قتل کیے جا چکے ہیں۔
خاندان نے الزام لگایا ہے کہ ان واقعات میں سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری کے نائب کے بھائی اور ذاتی گارڈ ظہور جمال زئی ملوث ہیں تاہم نواب ثناء اللہ زہری نے ظہور جمال زئی سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔
اسماء جتک کے بھائی عطاء اللہ جتک نے اردو نیوز کو بتایا کہ یہ سلسلہ 2011 میں شروع ہوا جب اسماء جتک کا رشتہ ان کے کزن عبدالسلام سے طے پایا۔ ظہور جمال زئی نے بھی رشتے کا پیغام بھیجا تھا جسے مسترد کیے جانے پر اس نے دھمکیاں دینا شروع کر دیں اور 2013 میں اسماء جتک کے منگیتر عبدالسلام کو قتل کر دیا۔
ان کے مطابق اس کے 13 سال گزرنے کے باوجود ملزم کی دھمکیوں کے باعث اسماء جتک کا کسی دوسری جگہ رشتہ نہیں ہو سکا کیونکہ ملزم دھمکیاں دے رہا ہے کہ اگر کہیں اور رشتہ طے کیا تو ہونے والے شوہر کو بھی قتل کر دے گا۔
عطاء اللہ جتک کا کہنا تھا کہ خاندان نے آبائی علاقے سے خضدار نقل مکانی کر لی مگر اس کے باوجود ملزم نے پیچھا نہیں چھوڑا۔ فروری 2025 میں ظہور جمال زئی مسلح ساتھیوں کے ہمراہ گھر میں داخل ہوا اور اسماء جتک کو زبردستی اغوا کر لیا۔ احتجاج کے بعد لڑکی کو بازیاب کرا لیا گیا تھا تاہم ملزم گرفتار نہ ہو سکا۔
خاندان کے مطابق نومبر 2025 میں اسماء جتک کے لیے احتجاج کرنے والے ماموں محمد اشرف کو بھی خضدار میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ صوبائی وزیر علی مدد جتک کے مطابق 2025 میں ہی جے یو آئی سے تعلق رکھنے والے وڈیرہ غلام سرور، مولانا امان اللہ اور کامران جتک بھی اسی معاملے پر آواز اٹھانے کے سبب قتل کیے گئے۔
