لیجیے! ایک بار پھر وہی بحث چل نکلی ، یعنی ریفارمز کی، یعنی سسٹم کے تباہ ہونے کی، یعنی ان تِلوں میں تیل باقی نہیں۔ لہٰذا اصلاحات لازم ہوا چاہتی ہیں، سسٹم ری سیٹ مانگتا ہے۔ تو کیا واقعی نظام دبڑ دوس ہوچکا؟ اگر ہاں، تو پھر اس کا علاج کیا ہے؟ نئے صوبے؟ نئے انتظامی یونٹ؟ یا بااختیار بلدیاتی نظام؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بحث کا کوئی باقاعدہ آغاز کسی تحریک کی صورت میں اپوزیشن نے نہیں کیا۔
چند ماہ پہلے اسلام آباد میں کاروباری شخصیات کے ایک اہم اجلاس سے ایک ایسی آواز بلند ہوئی جسے معمول کی خبر سمجھ کر نظر انداز کر دیا گیا۔ ایس آئی ایف سی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز احمد نے صاف الفاظ میں کہا کہ ’پاکستان میں کاروبار کرنا حد سے زیادہ مشکل ہو چکا ہے۔ ٹیکسوں اور سرکاری رکاوٹوں نے سرمایہ کاری کا ماحول اس قدر خراب کر دیا ہے کہ موجودہ طریقۂ کار کے ساتھ آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔‘
مزید پڑھیں
-
کشمیر میں بے چینی، مرہم کس کے پاس ہے؟ اجمل جامی کا کالمNode ID: 905237
-
کیا واقعی ہواؤں کا رُخ بدل رہا ہے؟ اجمل جامی کا کالمNode ID: 905473
-
مرار جی ڈیسائی اور ہمارے حکمران! اجمل جامی کا کالمNode ID: 906710
یہ کسی مخالف سیاست دان کی تقریر نہیں تھی، بلکہ ریاست کے اسی نظام کے ایک اہم ستون کی جانب سے کی گئی تشخیص تھی۔
پھر اسلام آباد میں ملک بھر سے آنے والے سینکڑوں کاروباری رہنماؤں کے سامنے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے موجودہ نظام کی ناکامی کا ذکر کیا۔ اور ذکر بھی گج وج کے کیا۔ کاکروچوں سے ڈراتے ہوئے لیپ ٹاپ کہانی کو بھی زمین بوس کر دیا۔ یہ کوئی جلسہ نہیں تھا، نہ ہی سیاسی نعرے بازی کا موقع۔ الفاظ تول کر بولے گئے تھے۔ اس کے اگلے ہی روز پاکستانی فوج کے ترجمان نے ’ری سیٹ‘ کی ضرورت کی بات کی۔
ان تینوں واقعات کو الگ الگ نہیں، ایک ہی تصویر کے تین حصے سمجھ کر دیکھیے۔ پیغام بالکل واضح ہے۔ ریاست کے اندر بھی یہ احساس پیدا ہو چکا ہے کہ موجودہ نظامِ حکمرانی اپنی استعداد سے بہت کم نتائج دے رہا ہے۔ معیشت ہو، سرمایہ کاری ہو، عوامی خدمات ہوں یا ریاستی بیانیہ، ہر شعبے میں کارکردگی توقعات سے کہیں کم ہے۔
لیکن ہمارے سیاست دانوں نے اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی بجائے حسبِ روایت اسے بھی سیاسی جنگ میں تبدیل کر دیا۔ پی پی پی اور لیگی رہنماؤں نے رہنمائی کرنے کی بجائے ایک دوسرے کے ہی پول کھولنا شروع کر دیے۔ جعلی حکومت، ناکام نظام اور سازشوں کے الزامات کی گرد اڑنے لگی۔
حیرت اس بات پر ہے کہ دونوں جماعتیں ایک ہی حکومت کا حصہ بھی ہیں اور ایک دوسرے کی ساکھ بھی مجروح کر رہی ہیں۔ ایسے میں عوام کس پر اعتماد کریں؟

اب سوال یہ ہے کہ اگر واقعی نظام مطلوبہ نتائج نہیں دے رہا تو آگے بڑھنے کا راستہ کیا ہے؟
پہلا راستہ نئے صوبوں کا بتایا جا رہا ہے۔ لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ اس کی سیاسی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے۔ سندھ برسوں سے اس کی مخالفت کرتا آیا ہے جبکہ پنجاب کی نمائندہ جماعت بھی اس راستے پر چلنے کو تیار نہیں۔ وجہ بھی واضح ہے۔ ایک تو تکنیکی مسئلہ ہے یعنی سرمایہ اور نئے صوبوں کے لیے مشینری اور صوبائی بندوبست کے لیے درکار سرمایہ۔
دوسرا سیاسی مسئلہ ہے، یعنی نئے صوبے بنیں گے تو نئی قیادتیں ابھریں گی، نئے وزرائے اعلیٰ آئیں گے اور اقتدار چند خاندانوں کے گرد گھومنے کی بجائے پھیلنا شروع ہو جائے گا۔ موروثی سیاست کے لیے اس سے بڑا خطرہ اور کیا ہو سکتا ہے؟
دوسرا راستہ نئے انتظامی یونٹس کا ہے۔ اگر صرف نئے دفاتر، نئے کمشنر اور نئے سیکریٹری بنانے ہیں تو اس سے شاید فائلوں کی تعداد بڑھے گی، مسائل کم نہیں ہوں گے۔ اختیارات اور وسائل نیچے منتقل کیے بغیر صرف نقشہ بدلنے سے نظام نہیں بدلتا۔
تیسرا راستہ، اور خاکسار کی ادنیٰ رائے میں واحد قابلِ عمل راستہ، بااختیار بلدیاتی نظام ہے۔

یہ کوئی نیا نظریہ نہیں۔ آئین بھی یہی کہتا ہے۔ تقریباً ہر سیاسی جماعت اپنے منشور میں یہی وعدہ کرتی ہے۔ دنیا کے کامیاب ممالک بھی اسی ماڈل پر چلتے ہیں۔ لیکن اقتدار میں آتے ہی یہی جماعتیں سب سے پہلے بلدیاتی اداروں کو کمزور کر دیتی ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ اگر فنڈز یونین کونسل، تحصیل اور میئر کے پاس چلے گئے تو ایم این اے اور ایم پی اے کی سیاست ختم ہو جائے گی۔ پھر عوام کو گلی، نالی، سڑک، پانی، سیوریج اور ٹرانسفارمر کے لیے کسی وزیر یا رکن اسمبلی کے دروازے پر نہیں جانا پڑے گا۔ وہ کام مقامی حکومت کرے گی، جیسا دنیا بھر میں ہوتا ہے۔
ہمارے ہاں اُلٹا نظام چل رہا ہے۔ قانون سازی کرنے والوں کے ہاتھ میں ترقیاتی فنڈز ہیں، جبکہ مقامی حکومتیں وسائل سے محروم ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہر مسئلہ اسلام آباد، لاہور، کراچی یا صوبائی سیکریٹریٹ تک پہنچ جاتا ہے۔
میرے اپنے پروگرام میں گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما ندیم افضل چن نے اعتراف کیا کہ انہیں اپنے حلقے میں دو ٹرانسفارمر لگوانے کے لیے پیسے دینے پڑے، حتیٰ کہ اپنی زمین کی فرد حاصل کرنے کے لیے بھی رشوت دینا پڑی۔ اس سے قبل وزیرِ دفاع خواجہ آصف بھی ٹرانسفارمر کے معاملے پر اسی نوعیت کا تجربہ بیان کر چکے ہیں۔ اگر ایک سابق وفاقی وزیر، ایک موجودہ وزیر دفاع اور حکمران اتحاد کا سینئر رہنما بھی اسی نظام میں بے بس ہے تو ایک عام شہری کی کیفیت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
اسی لیے مصدقہ اطلاع ہے کہ اب یہ بحث کسی ایک بیان یا ایک شخصیت تک محدود نہیں رہے گی۔ چاہے سیاسی جماعتیں جنگ بندی کر لیں، چاہے وضاحتیں دے دیں، چاہے موضوع بدلنے کی کوشش کریں، پاکستان میں نظامِ حکمرانی پر مکالمہ اب رُکنے والا نہیں۔













