سرگودھا میں کلہاڑی کے وار سے خاتون اور پانچ بچوں کا قتل، سفاک قاتل کون تھا؟
سرگودھا میں کلہاڑی کے وار سے خاتون اور پانچ بچوں کا قتل، سفاک قاتل کون تھا؟
بدھ 18 مارچ 2026 15:52
رائے شاہنواز -اردو نیوز، لاہور
علاقہ مکینوں کے مطاق ’ملزم یاسین ملاح نے اہلیہ فرخندہ اور پانچ بچوں کو کلہاڑی کے وحشیانہ وار کر کے قتل کیا‘ (فائل فوٹو: گیٹی)
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا کے ایک نواحی گاؤں کے سادہ سے گھر میں رات کے اندھیرے میں ایک خوفناک خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ کمرے کی دیوار پر بچوں کے ہاتھوں سے لکھا ہوا ایک پیغام چمک رہا تھا ’پاپا جان لو یُو۔‘
دِل کی شکل میں بنایا گیا یہ پیغام، جیسے بچے اپنے باپ سے کہہ رہے ہوں کہ ہم آپ سے پیار کرتے ہیں۔ مگر اسی کمرے میں فرش پر خون میں لِتھڑی ہوئی چھ لاشیں پڑی تھیں۔
ایک ماں اور اس کے پانچ معصوم بچے۔ کلہاڑی کے وار سے چھلنی لاشیں، جہاں صرف چند گھنٹے پہلے ہی بچے ہنستے کھیلتے، باپ کو ’پاپا جان‘ کہتے تھے۔ وہ بچے جنہوں نے دیوار پر محبت کے الفاظ لکھے، انہی کی کٹی ہوئی لاشیں نیچے پڑی تھیں۔
یہ واقعہ سرگودھا کے نواحی چک 25 جنوبی، بھاگٹانوالہ کا ہے۔ 16 مارچ کی رات قریباً آدھی گزر چکی تھی جب یہ سفاکانہ واقعہ پیش آیا۔ انہی کٹی ہوئی لاشوں کے پاس آدھ موا یاسین ملاح بھی زخمی پڑا تھا جس کے یہ بچے ہیں۔
تھانے میں درج ایف آئی آر کی مزید تفصیل کے مطابق دو افراد گھر میں داخل ہوئے تو باپ کے علاوہ سب موت کی وادی میں جا چکے تھے۔
ایف آئی آر کے مطابق ان بچوں اور اُن کی ماں کو خود ملزم یاسین ملاح نے کلہاڑیوں کے وار کر کے قتل کیا۔ ایک بچے کی عمر محض چار ماہ تھی۔
علاقہ مکین محمد ظفر بتاتے ہیں کہ ’ملزم یاسین ملاح نے اپنے گھر میں اہلیہ فرخندہ اور پانچ بچوں پر کلہاڑی کے وحشیانہ وار کیے۔ بچے شاید سو رہے تھے، یا اچانک حملے سے جاگ اٹھے ہوں گے۔‘
’ایک بڑی بیٹی تھی جس کی عمر کوئی 15-14 سال ہو گی جس کا نام نُور فاطمہ تھا، 12 سال کا بیٹا علی حسن، 11 سال کا طیب، 2 سال کا حسنین اور ایک چند ماہ کا بچہ تھا۔‘
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ’جب ہمیں واقعے کا علم ہوا تو ہم اکٹھے ہو گئے اور ہم نے دیکھا کہ یاسین کا گلہ کٹا ہوا تھا اور چُھری اس کے ہاتھ کے قریب پڑی تھی۔‘
سرگودھا پولیس کا کہنا ہے کہ بظاہر ملزم نے ’غیرت کے نام پر‘ خُون کی یہ ہولی کھیلی (فائل فوٹو: اے ایف پی)
’ایسا لگ رہا تھا کہ اُس نے سب کو مارنے کے بعد خود بھی اپنے آپ کو مارنے کی کوشش کی۔ وہ کلہاڑی بھی وہیں پڑی ہوئی تھی جو خُون سے لَت پَت تھی۔‘
ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ ’قتل ہونے والی خاتون فرخندہ کے بھائی اپنی بہن سے ملنے اور ’عیدی‘ دینے کے لیے اُس کے گھر پہنچے تھے۔ گیٹ اندر سے بند تھا اور اندر سے چیخیں سنائی دے رہی تھیں۔‘
’بھائی نے دیوار سے جھانکا تو دیکھا کہ یاسین ملاح کلہاڑی سے اپنی اہلیہ اور بچوں پر وار کر رہا ہے۔ جب رشتہ دار قریب آئے تو ملزم نے خود پر وار کر لیا۔‘
ایف آئی آر کے مطابق ’پولیس اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر وہاں پہنچ گئیں، فورینزک اور کرائم سین یونٹ نے شواہد اکٹھے کیے۔ لاشیں ڈی ایچ کیو ہسپتال لے جائی گئیں اور پوسٹ مارٹم کے بعد مقتولہ کے بھائی (یا چچا) کے حوالے کر دی گئیں۔‘
ایف آئی آر تھانہ بھاگٹانوالہ میں مقتولہ کے بھائی کی مدعیت میں درج ہوئی ہے۔ اس میں دفعہ 302 (قصد قتل)، 311 اور 322 پی پی سی شامل ہیں۔
ایف آئی آر میں تفصیل ہے کہ بھائی اور ساتھیوں نے گیٹ بند دیکھا، چیخیں سُنیں، دیوار سے جھانکا اور حملہ ہوتے دیکھا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے ’غیرت کے نام پر‘ خون کی یہ ہولی کھیلی۔
ضلعی پولیس افسر کے مطابق ’مرکزی ملزم یاسین ملاح اور نامزد شخص مصطفیٰ دونوں گرفتار ہیں‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
اسے اپنی اہلیہ فرخندہ اور بیٹی نُور فاطمہ کے ایک مقامی شخص مصطفیٰ کے ساتھ ناجائز تعلقات کا شبہ تھا۔ ملزم نے واردات کے بعد ایک رشتہ دار کو فون بھی کیا، جس کے بعد رشتہ دار وہاں پہنچا اور اسے زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا۔
پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کرنے کے بعد ملزم کو حراست میں لے لیا، تاہم ابھی اس کا علاج ہو رہا ہے۔
ضلعی پولیس افسر محمد صہیب اشرف نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’مرکزی ملزم یاسین ملاح اور نامزد شخص مصطفیٰ دونوں گرفتار ہیں۔ ملزم کی حالت مستحکم ہے اور تفتیش جاری ہے۔‘
’ابتدائی شواہد سے لگتا ہے کہ گھریلو ناچاقی، ذہنی دباؤ یا غیرت کا جُنون اس کے پیچھے ہو سکتا ہے، مگر مکمل تفتیش کے بعد ہی حقیقت سامنے آئے گی۔ ملزم پر پولیس کی نگرانی میں پوچھ گچھ ہو رہی ہے۔‘