وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ آرچرڈ سکیم فارم ہاؤس میں تاجر عامر اعوان کے قتل میں ملوث تمام ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
منگل کو وزیر مملکت نے اسلام آباد پولیس کے افسران کے ساتھ پریس کانفرنس میں بتایا کہ عامر اعوان کے قتل میں ملوث ملزمان کا تعلق منصور خان گینگ سے ہے جو ’بلٹ پروف جیکٹ گینگ ‘ کے نام سے بھی مشہور ہے۔
انھوں نے بتایا کہ گرفتار کیے گئے ملزمان کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا سے ہے اور اس گینگ میں افغان شہری بھی شامل ہیں۔
اسلام آباد پولیس کے سربراہ علی ناصر رضوی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ تحقیقات کی روشنی میں اسلام آباد پولیس کی کارروائی میں چارسدہ سے منصور خان گینگ کے سربراہ کو پکڑا گیا۔
چارسدہ کے بعد مردان میں چھاپے مارے گئے جہاں سے گینگ کے باقی چار ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد پولیس نے اس کیس کی تفتیش کے لیے 17 ٹیمیں تشکیل دیں، جبکہ چھ مختلف مقامات پر جیو فینسنگ کی گئی اور 137 کالز کا ریکارڈ سنا گیا جبکہ 257 کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا گیا۔
انھوں نے بتایا کہ ان تمام شواہد کی فرانزک جانچ، ہیومن انٹیلیجنس اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے ملزمان تک رسائی حاصل کی گئی۔
آئی جی اسلام آباد نے مزید بتایا کہ 93 افراد کو شاملِ تفتیش کیا گیا، جبکہ ایک خصوصی کنٹرول روم کے ذریعے تمام صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔
حاصل شدہ معلومات کی بنیاد پر 31 مقامات پر چھاپے مارے گئے جبکہ پولیس کی خصوصی ٹیم نے پہلے چارسدہ اور بعد ازاں مردان میں کارروائیاں کرتے ہوئے تمام ملزمان کو گرفتار کیا۔
مزید پڑھیں
’تاجر عامر اعوان کو گھر کے اندر خاندان کی موجودگی میں قتل کیا گیا‘
اتوار اور پیر کی درمیانی شب اسلام آباد کے تھانہ شہزاد ٹاؤن کے علاقے آرچرڈ سکیم کے فارم ہاؤس میں پانچ ملزمان نے اسلام آباد ٹویوٹا موٹرز شو روم کے مالک عامر اعوان کے گھر میں گھس کر انہیں قتل کیا۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے بیوی اور بچوں کے سامنے، بیڈ روم میں معروف تاجر عامر اعوان کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
مقتول کی اہلیہ نے پولیس کو دیے گئے بیان میں بتایا کہ وہ اور ان کے خاوند بیڈ روم میں موجود تھے جب اچانک تین ڈاکو شوہر پر حملہ کر رہے تھے، جبکہ دو دیگر ڈاکو اسلحہ لے کر کمرے کے باہر کھڑے تھے۔ اسی دوران ملزمان نے فائرنگ کی، جس سے عامر اعوان شدید زخمی ہوئے اور بعد ازاں ہسپتال میں دم توڑ گئے۔
ملزمان فرار ہوتے وقت سکیورٹی گارڈ سے بندوق اور موبائل فون بھی چھین کر لے گئے۔
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ملزمان کو سامنے آنے پر پہچانا جا سکتا ہے۔
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزمان اسلحے سے لیس فارم ہاؤس کی دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہوئے۔
اسلام آباد میں تاجر کے قتل کا واقعہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث رہا ہے جہاں شہر کی سکیورٹی صورتحال پر سوالیہ نشان اٹھائے جا رہے ہیں۔
منصور خان ڈکیت گینگ کو چارسدہ اور مردان سے گرفتار کیا گیا ہے: آئی جی پولیس اسلام آباد

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے آئی جی پولیس اسلام آباد سید علی ناصر رضوی نے بتایا کہ پانچ رکنی بین الصوبائی منصور خان ڈکیت گینگ کو چارسدہ اور مردان سے گرفتار کیا گیا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ اسلام آباد پولیس نے اس کیس کی تفتیش کے لیے 17 ٹیمیں تشکیل دیں، جبکہ چھ مختلف مقامات پر جیو فینسنگ کی گئی۔ مزید برآں 137 کالز کا ریکارڈ سنا گیا اور 257 کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا گیا۔
’ان تمام شواہد کی فرانزک جانچ، ہیومن انٹیلی جنس اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے ملزمان تک رسائی حاصل کی گئی۔‘
آئی جی اسلام آباد نے مزید بتایا کہ 93 افراد کو شاملِ تفتیش کیا گیا، جبکہ ایک خصوصی کنٹرول روم کے ذریعے تمام صورت حال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔
’حاصل شدہ معلومات کی بنیاد پر 31 مقامات پر چھاپے مارے گئے جبکہ پولیس کی خصوصی ٹیم نے پہلے چارسدہ اور بعد ازاں مردان میں کارروائیاں کرتے ہوئے تمام ملزمان کو گرفتار کیا۔’
اُن کا کہنا تھا کہ اس گینگ کی خاص بات یہ تھی کہ یہ بھاری اسلحہ ساتھ رکھتا تھا اور مزاحمت کی صورت میں فائرنگ سے بھی گریز نہیں کرتا تھا۔
’عامر اعوان قتل کیس میں بھی ملزمان نے مزاحمت پر فائرنگ کی۔ ابتدائی طور پر ان کا مقصد ڈکیتی تھا، تاہم فائرنگ کے بعد وہ موقعے سے فرار ہو گئے۔‘












