نریندر مودی کا مغربی بنگال کے انتخابات میں ’تاریخی فتح‘ کا دعویٰ، ممتا بنرجی کی پارٹی کو بڑا دھچکا
نریندر مودی کا مغربی بنگال کے انتخابات میں ’تاریخی فتح‘ کا دعویٰ، ممتا بنرجی کی پارٹی کو بڑا دھچکا
پیر 4 مئی 2026 16:54
بی جے پی نے وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے جارحانہ انتخابی مہم چلائی (فوٹو: اے ایف پی)
انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے پیر کو ریاست مغربی بنگال کے ریاستی انتخابات میں اپنی جیت کا دعویٰ کیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ بی جے پی کے لیے اس ریاست میں ایک بڑی سیاسی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے جہاں وہ پہلے کبھی اقتدار میں نہیں رہی۔
انتخابات کے جزوی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ممتا بنرجی کی آل انڈیا ترنمول کانگریس کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی پوزیشن میں آ گئی ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں اس کامیابی کو ’تاریخی فتح‘ قرار دیتے ہوئے اپنی پارٹی کی کارکردگی کو سراہا ہے۔
اس سے قبل مغربی بنگال میں بی جے پی کی ممکنہ جیت کے آثار ظاہر ہوتے ہی نریندر مودی کے حامیوں نے سڑکوں پر نکل کر جشن منانا شروع کر دیا۔
لگ بھگ 10 کروڑ کی آبادی والی اس ریاست میں ووٹوں کی گنتی سخت سکیورٹی کے حصار میں کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ مغربی بنگال ان پانچ ریاستوں اور علاقوں میں شامل ہے جہاں اپریل اور مئی کے دوران انتخابات منعقد ہوئے اور ان سب کے نتائج پیر کو ہی متوقع ہیں۔
مرکزی حکومت میں برسرِاقتدار بی جے پی طویل عرصے سے ان ریاستوں میں اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے جہاں حزبِ اختلاف کی حکومتیں قائم ہیں۔
مغربی بنگال میں بی جے پی نے وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے ایک جارحانہ انتخابی مہم چلائی جو سنہ 2011 سے آل انڈیا ترنمول کانگریس کی قیادت کرتے ہوئے ریاست پر حکمرانی کر رہی ہیں۔
اس ریاست میں ماضی کے انتخابات بھی تشدد سے متاثر رہے ہیں (ٖفوتو: اے ایف پی)
الیکشن کمیشن آف انڈیا کے جاری کردہ رجحانات کے مطابق بی جے پی مغربی بنگال کی 294 میں سے 193 نشستوں پر برتری حاصل کیے ہوئے ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پورے ملک کی نظریں مغربی بنگال کے ان نتائج پر لگی ہوئی ہیں کیونکہ یہ مقابلہ انڈیا میں طاقت کا توازن بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس دوران ووٹوں کی گنتی کے مراکز کے باہر کشیدگی بھی دیکھنے میں آئی جہاں پولیس کو ہجوم پر قابو پانے کے لیے لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ ماضی کے انتخابات بھی اس ریاست میں تشدد سے متاثر رہے ہیں۔
دوسری جانب جنوبی ریاست تمل ناڈو میں بھی سیاسی ہلچل جاری ہے جہاں تجربہ کار سیاست دان ایم کے اسٹالن کو پہلی بار انتخابی میدان میں اترنے والے فلمی ستارے سی جوزف وجے سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔