اکثر لوگوں کو لگتا ہے کہ مچھر دوسرے لوگوں کو نظرانداز اور ان پر کچھ زیادہ حملہ آور ہوتے ہیں، کیا واقعی ایسا ہے کہ مچھر کچھ لوگوں کی طرف زیادہ راغب ہوتے ہیں اس بارے میں ایک نئی تحقیق سامنے آئی ہے۔
اے ایف پی کے مطابق فرانس کے انسٹیٹیوٹ آف ریسرچ فار ڈویلپمنٹ سے وابستہ فریڈرک سیمرڈ نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ’یہ محض خام خیال نہیں ہے بلکہ مچھر واقعی کچھ لوگوں کی طرف زیادہ متوجہ ہوتے ہیں۔‘
ان کے مطابق ’کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے مچھر کچھ لوگوں کو دوسروں پر ترجیح دیتے ہیں ان میں جسم سے خارج ہونے والی بو، حرارت اور وہ کاربن ڈائی آکسائیڈ ہے جو ہم سانس کے ذریعے خارج کرتے ہیں۔‘
مزید پڑھیں
-
گھر سے مچھروں کو کیسے بھگایا جائے؟Node ID: 618121
-
جزیرہ ہوائی میں ڈرون کے ذریعے مچھر کیوں چھوڑے جا رہے ہیں؟Node ID: 891278
ریسرچ کے مطابق مادہ مچھر ان چیزوں کو تیزی سے محسوس کرتے ہیں اور پھر ان کی مناسبت سے ہی اپنے شکار کی طرف جاتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سانس کے ذریعے خارج ہونے والا کاربن ڈائی آکسائیڈ وہ پہلی چیز ہے جو مچھر کو درجنوں میٹر دور سے اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔
انہوں نے حال ہی میں ہونے والی ایک تحقیق جس میں وہ خود بھی شامل تھے، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’تقریباً 10 میٹر کے فاصلے سے ہی وہ ہمارے جسم کی بو کو محسوس کرنا شروع کر دیتے ہیں اور جب یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے ساتھ ملتی ہے تو مچھروں کے لیے کشش بڑھ جاتی ہے۔‘

ان کے مطابق ’جیسے جیسے وہ قریب آتے ہیں تو جسمانی حرارت اور نمی ان کو مزید کھینچتی لاتی ہے۔‘
انہوں نے اس معاملے میں کسی خاص خون کے گروپ کے تاثر کے حوالے سے کہا کہ یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی اور اس کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ملی جبکہ نہ اس کا تعلق جلد، بالوں یا آنکھوں کے رنگ سے ہے۔
ان کے مطابق اس سارے معاملے میں جسم کی بو سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا تحقیقی سے پتہ چلتا ہے انسانی جسم 300 سے ایک ہزار تک مختلف قسم کی بو پیدا کرنے والے مرکبات خارج کرتا ہے تاہم ابھی سائنس دان اس معاملے میں ابتدائی مرحلے میں ہیں کہ ان میں سے کون سے مچھروں کے لیے زیادہ کشش رکھتے ہیں اور ابھی تک چند ایک کا پتہ ہی لگ پایا ہے۔

ریکر ایگنل کے ایک حالیہ مطالعے میں محققین نے مچھروں کو ایک ایسے کمرے میں چھوڑا جہاں 42 خواتین موجود تھیں تاکہ پتہ چل سکے کن کی طرف مچھر زیادہ جاتے ہیں۔
ادارے کا کہنا ہے کہ جن خواتین کی طرف زیادہ مچھر گئے ان کے جسموں میں ایسے 27 مرکبات کی شناخت ہوئی جو دوسری خواتین کے جسموں میں کم تھے۔
جن خواتین کو زیادہ کاٹنے کی کوشش کی گئی ان میں تین ماہ کی حاملہ خواتین بھی شامل تھیں اور ان کے جسم میں ایک ایسا مرکب پایا جاتا ہے جس جلد کے آئل سیبم کے ٹوٹنے سے بنتا ہے۔












