افغانستان کے آل راؤنڈر محمد نبی نے راشد خان کے ہمراہ انڈیا کے شہر گریٹر نوئیڈا میں شاپور زدران سے ملاقات کی، جہاں وہ کئی ماہ سے ایک نایاب اور جان لیوا بیماری کے خلاف زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
محمد نبی نے سوشل میڈیا پر جذباتی پیغام میں لکھا کہ میدان میں ہمیشہ بہادری سے لڑنے والے، لمبے قد اور مضبوط شخصیت کے مالک شاپور کو ہسپتال کے بستر پر دیکھنا دل توڑ دینے والا لمحہ تھا۔ انہوں نے شاپور کی جلد اور مکمل صحتیابی کے لیے دعا بھی کی۔
مزید پڑھیں
-
افغان کرکٹر شاہ پور زدران حملے میں بچ گئےNode ID: 38571
39 سالہ شاپور زدران ہیموفیگوسائٹک لیمفو ہسٹیوسائٹوسس (HLH) نامی نایاب بیماری میں مبتلا ہیں، جس میں جسم کا مدافعتی نظام خود ہی جسم کے اعضا کو نقصان پہنچانا شروع کر دیتا ہے۔ یہ بیماری عموماً بچوں میں دیکھی جاتی ہے، تاہم بعض اوقات بالغ افراد بھی اس کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بیماری کے باعث جسم میں شدید سوزش پیدا ہوتی ہے، جو بون میرو، جگر، تلی اور لمف نوڈز سمیت مختلف اعضا کو متاثر کرتی ہے۔
شاپور زدران گزشتہ سال اکتوبر میں پہلی بار بیمار ہوئے تھے، جس کے بعد افغانستان میں ڈاکٹروں نے انہیں فوری طور پر انڈیا جا کر علاج کروانے کا مشورہ دیا۔ رپورٹس کے مطابق راشد خان اور افغانستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین مِرویس اشرف کی کوششوں سے شاپور کا انڈین ویزا تیزی سے منظور ہوا، جس کے بعد وہ جنوری میں نئی دہلی منتقل ہوئے۔
Today in Greater Noida, India, along with @rashidkhan_19, we met our dear brother Shapoor Jaan.
Seeing the same tall, passionate and strong-hearted Shapoor, whom we have always admired fighting bravely on the cricket field, lying on a hospital bed was truly heartbreaking.
May… pic.twitter.com/uTjPcj6vvx
— Mohammad Nabi (@MohammadNabi007) May 13, 2026
ابتدائی معائنے میں ان کے جسم میں شدید انفیکشن اور ٹی بی کی تشخیص ہوئی، جو دماغ تک بھی پھیل چکی تھی۔ کچھ عرصے علاج کے بعد ان کی حالت بہتر ہوئی اور انہیں ہسپتال سے ڈسچارج بھی کر دیا گیا، تاہم بعد ازاں دوبارہ انفیکشن، بخار اور پھر ڈینگی نے ان کی کمزور قوتِ مدافعت کو مزید متاثر کر دیا۔
رمضان کے دوران ہونے والے بون میرو ٹیسٹ میں انکشاف ہوا کہ شاپور زدران اس بیماری کے سٹیج فور میں داخل ہو چکے ہیں۔ ان کے بھائی کے مطابق شاپور اب بہت کم بولتے ہیں، زیادہ تر وقت سوتے رہتے ہیں اور ان کا وزن بھی تقریباً 14 کلو کم ہو چکا ہے۔
افغانستان کرکٹ ٹیم کے موجودہ اور سابق کھلاڑی مسلسل شاپور زدران کی عیادت اور مدد کر رہے ہیں۔ سابق کپتان اصغر افغان جنوری سے ان کے ساتھ موجود ہیں جبکہ راشد خان بھی مسلسل ڈاکٹروں سے رابطے میں ہیں۔ شاہد آفریدی سمیت مختلف ممالک کے کرکٹرز نے بھی شاپور کی خیریت دریافت کی ہے۔
شاپور زدران افغانستان کرکٹ کی ابتدائی نسل کے اُن اہم کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے ٹیم کو عالمی سطح پر متعارف کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے 2009 سے 2020 کے درمیان افغانستان کے لیے 44 ون ڈے اور 36 ٹی20 انٹرنیشنل میچز کھیلے۔











