Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جنریشن زی، سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت فٹنس کے مستقبل کو کیسے بدل رہی ہے؟

ٹیکنالوجی اور فٹنس کو ایک دوسرے سے الگ کرنا ممکن نہیں (فوٹو: فٹ ٹیک گلوبل)
ویک اینڈ یا اس سے قبل کی رات کی محفلوں کو تو بھول ہی جائیے کیونکہ برطانیہ میں نوجوانوں کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد کے لیے اب جم ہی وہ جگہ بن چکی ہے جہاں وہ صرف آن لائن ہی نہیں بلکہ حقیقی دنیا میں بھی نظر آنا چاہتے ہیں۔
برطانوی اخبار دی گارڈین میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق ملک بھر میں جمز کا ماحول، مشینوں کی آوازیں اور روشنیوں کی چمک اب ایک متحرک سماجی مرکز کی شکل اختیار کر چکی ہے، جہاں جنریشن زی جم ممبرشپ میں اضافے کی بڑی وجہ بن رہی ہے۔
رات کی تفریح کے بجائے سخت ورزش کو ترجیح دینے کے علاوہ جنریشن زی ایک اور تبدیلی بھی لائی ہے جو اپنی ورزش کے معمول کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کا شوق ہے، چاہے اس میں ناکام کوششیں ہی شامل کیوں نہ ہوں۔
یہ صرف شہرت کے لیے نہیں بلکہ اس طرح ایک ایسی کمیونٹی تخلیق پاتی ہے جہاں لوگ ایک دوسرے کو مشورے دیتے ہیں، چیلنجز میں شامل کرتے ہیں اور کھلے عام ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ سادہ لفظوں میں، اپنی پیش رفت کو ریکارڈ کرنا بھی تربیت کا حصہ بن چکا ہے۔
ایسی ویڈیوز اور تصاویر اس قدر دلچسپ کیوں ہیں جن میں جم میں لی گئی سیلفیاں یا ذاتی ریکارڈ شامل ہے؟ اور وہ کون سے ٹولز ہیں جو لوگوں کو نہ صرف جمز میں بلکہ آن لائن بھی بہتر کارکردگی دکھانے میں مدد فراہم کرتے ہیں؟
ورزش کو ریکارڈ کرنے کے لیے بہترین اے آئی ٹولز
ٹیکنالوجی ہمیشہ سے فٹنس کے ساتھ جڑی رہی ہے، جیسے سمارٹ گھڑیاں یا نیند کو مانیٹر کرنے والی ڈیوائسز۔ اب مصنوعی ذہانت اس عمل کو مزید آگے لے جا رہی ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ ورزش کو کیسے ریکارڈ اور شیئر کیا جائے۔
آج 77 فیصد جنریشن زی ایتھلیٹس یہ کہتے ہیں کہ وہ سوشل میڈیا پر دوستوں کی سرگرمیاں دیکھ کر خود کو زیادہ جڑا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پوسٹ کرنا صرف دکھاوا نہیں بلکہ ایک اجتماعی عمل ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق، فٹنس کی دنیا میں مصنوعی ذہانت کا اثر تیزی سے بڑھ رہا ہے (فوٹو: فوربز)

لیکن حقیقت میں جم کا ماحول اکثر اس قدر پرکشش نہیں ہوتا جیسا ویڈیوز میں نظر آتا ہے مثال کے طور پر تیز روشنیاں، بکھرا ہوا پس منظر اور مسلسل حرکت۔
اس پورے منظرنامے میں جدید فونز کے فیچرز مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک فیچر کے ذریعے صارف غیر ضروری چیزیں جیسے جم بیگز یا پس منظر میں آنے والے لوگوں کو تصویر سے ہٹا سکتے ہیں تاکہ توجہ صرف ورزش پر مرکوز رہے۔ اسی طرح ویڈیوز میں غیر ضروری شور کو کم کرنے والے ٹولز بھی دستیاب ہیں تاکہ آواز صاف اور واضح رہے۔
جمز میں ٹرائی پوڈ کا استعمال کبھی عجیب لگتا تھا، لیکن جنریشن زی کے لیے یہ ایک عملی ضرورت ہے جس سے نہ صرف وہ اپنی تکنیک بہتر کرتے ہیں، اپنی سرگرمیوں میں پیش رفت دیکھتے ہیں اور چوٹ لگنے کے خطرے کو کم کرتے ہیں۔ رش والے جم میں ویڈیو بنانا مشکل ہو سکتا ہے، مگر جدید ٹولز ویڈیو کو بعد میں ایڈٹ کر کے بہتر بنا دیتے ہیں، جس سے زیادہ جگہ گھیرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔
فٹنس اہداف اور مصنوعی ذہانت
ایک رپورٹ کے مطابق، فٹنس کی دنیا میں مصنوعی ذہانت کا اثر تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ایتھلیٹس کی تقریباً نصف تعداد اب مصنوعی ذہانت کو ایک ’سمارٹ کوچ‘ کے طور پر اپنانے کے لیے تیار ہے اور اس رجحان میں جنریشن زی سب سے آگے ہے۔
اس کی وجہ بھی واضح ہے: کھیلوں کی بکنگ، کلاسز کا شیڈول اور گروپ سرگرمیوں کو منظم کرنا اکثر مشکل ہو جاتا ہے اور تسلسل ٹوٹ جاتا ہے۔

جب ترقی کو دوسروں کے ساتھ شیئر کیا جائے تو ذمہ داری اور کمیونٹی دونوں مضبوط ہوتے ہیں (فوٹو: گیٹی)

یہاں مصنوعی ذہانت ایک مددگار معاون کے طور پر کام کرتی ہے۔ یہ آپ کے پیغامات اور شیڈول کو دیکھ کر خود ہی ورزش کے لیے وقت مختص کرنے کی تجویز دے سکتی ہے، جس سے معمول بنانا آسان ہو جاتا ہے۔ اس طرح آپ کو صرف جم بیگ تیار کرنا ہوتا ہے، ہیڈفون لگانے ہوتے ہیں اور اپنی پسند کی موسیقی کے ساتھ ورزش شروع کرنی ہوتی ہے۔
مصنوعی ذہانت جب تینوں یعنی کوچ، ایڈیٹر اور منیجر کے کردار ادا کرتی ہے، تو جنریشن زی بھی یہ ثابت کر رہی ہے کہ اصل محنت اگرچہ جسمانی دنیا میں ہوتی ہے، لیکن اس کی رفتار ڈیجیٹل دنیا میں بھی برقرار رہتی ہے۔ اور جب ترقی کو دوسروں کے ساتھ شیئر کیا جائے تو ذمہ داری اور کمیونٹی دونوں مضبوط ہوتے ہیں۔

شیئر: