Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایلون مسک کی نئی ایپ ’ایکس چیٹ‘، وہ سب کچھ جو آپ کو جاننا چاہیے

ایکس چیٹ 17 اپریل 2026 کو آئی او ایس پر متعارف ہونے کی توقع ہے۔ (فوٹو: ایکس)
ایلون مسک کی کمپنی ایکس ایک نئی میسجنگ سروس ’ایکس چیٹ‘ متعارف کرانے جا رہی ہے، جسے واٹس ایپ اور ٹیلیگرام کے مقابلے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ٹیک ویب سائٹ روٹ نیشن کی رپورٹ کے مطابق  یہ ایپ 17 اپریل 2026 کو آئی او ایس پر ایک الگ پلیٹ فارم کے طور پر متعارف ہونے کی توقع ہے اور اسے ایک محفوظ، اشتہارات سے پاک اور نجی چیٹنگ کے ماحول کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

ایکس چیٹ کیا ہے؟

ایکس چیٹ دراصل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے اندر ایک نئی میسجنگ سروس ہے تاہم اس کو ایک روایتی مسیجنگ سروس سے ہٹ کر ایک مکمل ایپ کی شکل دی گئی ہے، جس سے صارفین کو بغیر کسی خلل کے پرسکون چیٹنگ کا موقع ملنے کی توقع ہے۔ 
اس ایپ کو استعمال کرنے کے لیے فون نمبر کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ صارفین اپنے ایکس اکاؤنٹ کے ذریعے ہی ایک دوسرے سے رابطہ کر سکیں گے۔

اہم فیچرز

ایکس چیٹ میں اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن فراہم کی گئی ہے جس کے ذریعے پیغامات، فائلز اور کالز مکمل طور پر محفوظ رہیں گی اور ان تک رسائی صرف متعلقہ صارفین تک محدود ہو گی۔ 
اس کے علاوہ صارفین کو پیغامات میں ترمیم کرنے، انہیں مکمل طور پر حذف کرنے اور مخصوص وقت کے بعد خودکار طور پر ختم ہونے والے میسجز استعمال کرنے کی سہولت بھی دی گئی ہے۔
ایپ میں سکرین شاٹ بلاک کرنے یا اس کی اطلاع دینے جیسی خصوصیت بھی شامل ہے، جبکہ وائس اور ویڈیو کالز، گروپ چیٹس اور بڑی فائلز کی شیئرنگ جیسے فیچرز بھی اس کا حصہ ہیں۔

ٹیکنالوجی اور سکیورٹی

ایکس چیٹ کو جدید پروگرامنگ زبان رسٹ میں تیار کیا گیا ہے، جو بہتر سکیورٹی اور کارکردگی کے لیے جانی جاتی ہے۔ 
ایلون مسک کے مطابق اس میں استعمال ہونے والا انکرپشن سسٹم ’بِٹ کوائن طرز‘ کا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ڈیٹا کا کنٹرول مرکزی سرور کے بجائے صارفین کے اپنی ڈیوائسز پر ہوتا ہے، جس سے سکیورٹی مزید مضبوط بنائی گئی ہے۔

واٹس ایپ اور ٹیلیگرام سے مقابلہ

ایکس چیٹ کو واٹس ایپ اور ٹیلیگرام کے براہ راست مقابلے میں پیش کیا جا رہا ہے۔ جہاں یہ واٹس ایپ کی طرح انکرپشن فراہم کرتی ہے، وہیں ٹیلیگرام کے مقابلے میں اس کے گروپس نسبتاً چھوٹے ہیں۔
تاہم اس کی سب سے بڑی طاقت ایکس پلیٹ فارم کے ساتھ مکمل انضمام ہے جو اسے موجودہ صارفین کے لیے ایک آسان متبادل بنا سکتا ہے۔

پرائیویسی کے بارے میں دعوے اور حقیقت

اگرچہ ایکس چیٹ کو ’نو ایڈز اور نو ٹریکنگ‘ کے دعوے کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے لیکن دستیاب معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی صارفین کا کچھ ڈیٹا جیسے شناخت، کانٹیکٹس اور استعمال سے متعلق معلومات جمع کر سکتی ہے۔ 
اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مارکیٹنگ کے دعوؤں اور عملی ڈیٹا پالیسی کے درمیان کچھ فرق بہرحال ہے، جو پرائیویسی کے حوالے سے اہم نکتہ بن سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایکس چیٹ کی کامیابی صارفین کی منتقلی پر منحصر ہوگی۔ (فوٹو: ایکس)

مستقبل کے منصوبے

ایلون مسک کے وسیع منصوبے کے تحت ایکس چیٹ کو ایک بڑی ’سپر ایپ‘ کا حصہ بنایا جا رہا ہے، جس میں مستقبل میں مصنوعی ذہانت (گروک)، ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام اور دیگر سہولیات شامل کی جائیں گی، جبکہ اینڈرائیڈ اور ڈیسک ٹاپ ورژن بھی متعارف کرانے کا ارادہ ہے۔

کامیابی کے امکانات کیا ہیں؟

ماہرین کے مطابق ایکس چیٹ کی کامیابی کا انحصار صرف اس کے فیچرز پر نہیں بلکہ صارفین کی بڑی تعداد کے اس پلیٹ فارم پر منتقل ہونے پر بھی ہو گا۔ 
اگرچہ یہ سروس ایکس صارفین کے لیے ایک پرکشش متبادل بن سکتی ہے، تاہم واٹس ایپ اور ٹیلیگرام جیسے مضبوط پلیٹ فارمز کو مکمل طور پر پیچھے چھوڑنا فی الحال ایک مشکل ہدف دکھائی دیتا ہے۔

شیئر: