گزشتہ سال فلوریڈا سٹیٹ یونیورسٹی کے کیمپس میں فائرنگ کے واقعہ میں میں دو افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوئے، لیکن یہ کارروائی کرنے سے قبل حملہ آور فینکس اکنر نے کسی سے گفتگو کی۔
یہ گفتگو کسی دوست، والدین یا ایسے شخص سے نہیں تھی جو اسے روک سکتا بلکہ مصنوعی ذہانت کے ایک چیٹ بوٹ سے تھی۔
فلوریڈا کے اٹارنی جنرل کی جانب سے جمع کروائے گئے شواہد کے مطابق، طالب علم نے چیٹ جی پی ٹی سے پوچھا تھا کہ اس کے حملے کے لیے کون سا ہتھیار اور گولہ بارود زیادہ موزوں ہوگا، اور وہ کب اور کہاں وہ زیادہ سے زیادہ جانی نقصان کر سکتا ہے؟
مزید پڑھیں
تفتیش کاروں کے مطابق، چیٹ جی پی ٹی نے اس کے سوالات کے جوابات دیے۔
اب اٹارنی جنرل جیمز اتھمایر یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا اس بنیاد پر اوپن اے آئی (چیٹ جی پی ٹی کی پیرنٹ کمپنی) کو مجرم قرار دیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’سکرین کی دوسری طرف اگر کوئی انسان ہوتا تو ہم اس پر قتل کا مقدمہ قائم کرتے۔‘ انہوں نے چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی کے خلاف فوجداری تفتیش کرنے کا اعلان کیا اور یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ کمپنی یا اس کے ملازمین پر فردِ جرم عائد کی جا سکتی ہے۔
اپریل 2025 کی اس فائرنگ کے واقعے نے ایک اہم قانونی سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت بنانے والوں کو اس جرم میں کردار ادا کرنے پر فوجداری طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے یا حتیٰ کہ کسی خودکشی کے معاملے میں بھی؟

ماہرین قانون کے مطابق یہ ایک ممکن مگر نہایت پیچیدہ معاملہ ہے۔
کیا مصنوعی ذہانت ’جرائم کو فروغ دینے والی ایک پراڈکٹ‘ ہو سکتی ہے؟
امریکی قانون کے تحت کمپنیوں کے خلاف فوجداری مقدمات ممکن ہیں، اگرچہ یہ رجحان نسبتاً کم رہا ہیں۔
حال ہی میں پرڈیو فارما پر اوپیئڈ ادویات کے غلط استعمال کے بحران میں کردار کے باعث 5 ارب ڈالر سے زائد جرمانہ عائد کیا گیا۔ اسی طرح ووکس ویگن کو اخراج گیسوں کے سکینڈل میں، فائزر کو ایک دوا کی تشہیر پر، اور ایکسون کو الاسکا میں تیل رساؤ کے واقعے پر مجرم قرار دیا جا چکا ہے۔
تاہم ان تمام کیسز میں انسانی فیصلوں کا عمل دخل تھے جیسے افسر، انجینئرز یا سیلز عملہ جنہوں نے غلط فیصلے کیے۔
فینکس اکنر کا کیس مختلف ہے، اور یہی فرق اسے قانونی طور پر مشکل بناتا ہے۔

یونیورسٹی آف یوٹاہ کے قانون کے پروفیسر میتھیو ٹوکسن کے مطابق: یہ دراصل ایک ایسی پراڈکٹ ہے جس نے جرم کی حوصلہ افزائی کی اور خود اس میں کردار ادا کیا اور یہی بات اسے منفرد اور پیچیدہ بناتی ہے۔
ماہرین نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ممکنہ الزامات میں غفلت یا لاپرواہی شامل ہو سکتے ہیں، جس کا مطلب ہے معلوم خطرات کو نظرانداز کرنا۔
ایسے الزامات عام طور پر سنگین جرائم کے بجائے کم نوعیت کے مقدمات میں آتے ہیں، جن کی سزائوں کی شدت نسبتاً کم ہوتی ہیں۔
ثبوت کا معیار بلند ہونا ناگزیر
ماہرین کے مطابق زیادہ مضبوط کیس تب بن سکتا ہے جب کمپنی کی اندرونی دستاویزات سے یہ ثابت ہو کہ وہ خطرات سے آگاہ تھی لیکن اس نے انہیں کم کرنے کے لیے سنجیدگی سے کام نہیں کیا۔
ڈیوک یونیورسٹی کے قانون کے پروفیسر برینڈن گیریٹ نے کہا کہ ’فوجداری مقدمات میں ثبوت کا معیار بہت زیادہ اہمیت ہوتا ہے، جہاں جرم کو ’بلاشبہ‘ ثابت کرنا ضروری ہوتا ہے۔‘
دوسری جانب، اوپن اے آئی کا مؤقف ہے کہ چیٹ جی پی ٹی اس حملے کا ذمہ دار نہیں۔

کمپنی کے مطابق، ہم مسلسل حفاظتی اقدامات کو بہتر بنا رہے ہیں تاکہ نقصان دہ ارادوں کی نشاندہی کی جا سکے، غلط استعمال کو محدود کیا جائے، اور خطرات کی صورت میں مناسب ردعمل دیا جا سکے۔
دیوانی مقدمہ یا فوجداری کارروائی؟
جو لوگ ذمہ داری طے کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے دیوانی مقدمہ زیادہ مؤثر راستہ ہو سکتا ہے۔
اس سے کمپنیوں پر دباؤ پڑ سکتا ہے کہ وہ اپنی مصنوعات زیادہ احتیاط سے تیار کریں، یا کم از کم انسانی نقصانات کا حساب مرتب کریں۔
امریکہ میں مصنوعی ذہانت کے خلاف کئی دیوانی مقدمات پہلے ہی دائر ہو چکے ہیں جن میں سے کئی خودکشی کے واقعات سے متعلق ہیں تاہم ابھی تک کسی کمپنی کے خلاف فیصلہ نہیں آیا۔
دسمبر میں سوزین ایڈمز کے خاندان نے اوپن اے آئی کے خلاف مقدمہ دائر کیا، یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ چیٹ جی پی ٹی نے ان کے بیٹے کے ہاتھوں ان کے قتل میں کردار ادا کیا۔
سوشل میڈیا متاثرین کے قانونی مرکز کے بانی وکیل میتھیو برگمین کے مطابق، چیٹ جی پی ٹی کے نئے ورژنز میں مزید حفاظتی اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’میں یہ نہیں کہہ رہا کہ یہ کافی ہیں، لیکن اب پہلے سے زیادہ حفاظتی حد بندیاں موجود ہیں۔‘
ماہرین کے مطابق، اگرچہ سزا کم بھی ہو، فوجداری فیصلہ کمپنی کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
لیکن بعض ماہرین کے نزدیک، ایسے مقدمات چاہے کتنے ہی سنسنی خیز کیوں نہ ہوں، اُس خلا کو پُر نہیں کر سکتے جو قانون سازی میں موجود ہے، کیونکہ امریکی کانگریس اور ٹرمپ انتظامیہ ابھی تک واضح ضوابط متعارف کرانے میں ناکام رہی ہیں۔












