Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اب انسٹاگرام آپ کے خفیہ پیغامات پڑھ سکتا ہے، مگر کیوں؟

میٹا نے کہا تھا کہ میسجز کی اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کا فیچر مارچ میں ختم ہو جائے گا۔ (فوٹو: گیٹی ایمجز)
آپ سب اس خبر سے واقف ہوں گے ہی کہ 8 مئی سے انسٹاگرام نے ڈائریکٹ میسجز کے لیے اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کی سہولت ختم کر دی ہے۔
ویب سائٹ دی کنورسیشن کے مطابق میٹا نے اس پالیسی میں تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بہت کم لوگ اس فیچر کو استعمال کر رہے تھے۔ تاہم اس فیصلے نے صارفین کی پرائیویسی، بچوں کی آن لائن حفاظت اور پلیٹ فارم پر نگرانی کے نظام سے متعلق نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔
انسٹاگرام طویل عرصے سے آن لائن سیفٹی سے متعلق بحث کا مرکز رہا ہے، چاہے معاملہ جسمانی خدوخال سے متعلق ذہنی دباؤ کا ہو، سائبر بُلیئنگ یا پھر جنسی بلیک میلنگ کا۔ 
میٹا کی یہ نئی پالیسی براہِ راست اس بات پر اثر انداز ہو گی کہ نجی پیغامات میں حفاظت اور نگرانی کیسے کی جاتی ہے۔
یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ تحقیق کے مطابق آسٹریلیا میں جنسی بلیک میلنگ کا شکار ہونے والے تقریباً 23 فیصد افراد سے ابتدا میں رابطہ انسٹاگرام کے ذریعے کیا گیا، جو اس مقصد کے لیے دوسرا سب سے زیادہ استعمال ہونے والا پلیٹ فارم تھا۔ پہلے نمبر پر سنیپ چیٹ تھا، جہاں یہ شرح 50 فیصد رہی۔
اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کیا ہے؟
اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جس میں پیغام اس طرح خفیہ کر دیا جاتا ہے کہ صرف بھیجنے والے اور وصول کرنے والے کے ڈیوائسز ہی اسے پڑھ سکتے ہیں۔ پیغام پہنچانے والا پلیٹ فارم، یعنی اس معاملے میں انسٹاگرام، بھی اس مواد تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔
یہی ٹیکنالوجی واٹس ایپ، سگنل، آئی میسج اور 2023 کے آخر سے فیس بک میسنجر میں بطور ڈیفالٹ موجود ہے۔

اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کی ٹیکنالوجی ہر میسجز پلیٹ فارم کا حصہ ہوتی ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی) 

میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے 2019 میں ’مستقبل نجی ہے‘ کے نعرے کے تحت میٹا کی تمام میسجنگ سروسز میں اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن متعارف کرانے کا وعدہ کیا تھا۔
انسٹاگرام نے 2021 میں انکرپٹڈ ڈائریکٹ میسجز کی آزمائش شروع کی جبکہ 2023 میں اسے ایک اختیاری فیچر کے طور پر متعارف کرایا گیا۔
یہ فیچر کبھی بھی ڈیفالٹ نہیں بنایا گیا اور بہت کم صارفین نے اسے فعال کیا۔ میٹا کا کہنا ہے کہ یہی کم استعمال اس سہولت کے خاتمے کی وجہ بنا۔ 
کمپنی کے ترجمان نے برطانوی اخبار دی گارڈین کو بتایا ’بہت کم لوگ انسٹاگرام ڈی ایمز میں اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ میسجنگ استعمال کر رہے تھے، اسی لیے ہم یہ آپشن ختم کر رہے ہیں۔‘
ناقدین کے مطابق اس میں ایک عجیب منطق موجود ہے، میٹا نے ایک ایسا فیچر ختم کر دیا جسے اس نے اتنا چھپا کر رکھا کہ زیادہ تر صارفین کو اس کے وجود کا علم ہی نہیں تھا، اور پھر کم استعمال کو اس کے خاتمے کی وجہ بنا دیا گیا۔
اس کا صارفین پر کیا اثر پڑے گا؟
عملی طور پر اب انسٹاگرام پر بھیجا جانے والا ہر پیغام ایسی صورت میں منتقل ہو گا جسے میٹا پڑھ سکتا ہے۔
میٹا کی پرائیویسی پالیسی کے مطابق صارفین کے بھیجے گئے اور موصول ہونے والے پیغامات بھی ان معلومات میں شامل ہیں جو کمپنی جمع کرتی ہے۔
اصولی طور پر اس ڈیٹا کو فیچرز بہتر بنانے، مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت اور ہدفی اشتہارات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اگرچہ میٹا نے عوامی طور پر کہا ہے کہ وہ نجی پیغامات کو اپنی اے آئی ٹیکنالوجی کی تربیت کے لیے استعمال نہیں کرے گا، جب تک صارف خود انہیں میٹا اے آئی کے ساتھ شیئر نہ کرے، تاہم اشتہارات کے حوالے سے ایسی کوئی واضح یقین دہانی نہیں کروائی گئی۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ کمپنی غیر انکرپٹڈ انسٹاگرام پیغامات کو اشتہارات کی ٹارگٹنگ کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔ اور اب چونکہ انکرپشن موجود نہیں، اس لیے میٹا کی یقین دہانی صرف پالیسی تک محدود رہ گئی ہے، ٹیکنالوجی کی سطح پر نہیں۔
پرائیویسی پالیسی سے واضح پیچھے ہٹنا
ماہرین کے مطابق یہ اقدام میٹا کے اس ’پرائیویسی فرسٹ‘ مؤقف سے واضح انحراف ہے جس کا اعلان مارک زکربرگ نے برسوں پہلے کیا تھا۔
میٹا پر قانون نافذ کرنے والے اداروں، ریگولیٹرز اور بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی جانب سے مسلسل دباؤ رہا ہے۔ ان اداروں کا مؤقف ہے کہ اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن ایسے ماحول پیدا کرتی ہے جہاں بچوں کے جنسی استحصال اور آن لائن شکار بنانے جیسے جرائم کا سراغ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔
آسٹریلیا کی ای سیفٹی کمشنر پہلے ہی کہہ چکی ہیں کہ اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کا استعمال پلیٹ فارمز کو آن لائن زیادتی یا غیر قانونی مواد کی ذمہ داری سے بری نہیں کرتا۔

آسٹریلیا میں کم عمر افراد کو سوشل میڈیا استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

ماہرین کے مطابق یہ خدشات حقیقی ہیں اور ان کا سب سے زیادہ اثر نوجوانوں پر پڑتا ہے۔
تاہم تحقیق سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ جنسی بلیک میلنگ میں ملوث افراد اکثر ابتدائی رابطے کے بعد متاثرہ شخص کو کسی دوسرے پلیٹ فارم پر منتقل ہونے کا کہتے ہیں۔ نصف سے زیادہ متاثرین نے بتایا کہ ان سے پلیٹ فارم تبدیل کرنے کو کہا گیا تھا۔
اسی دوران میٹا اپنی دیگر سروسز، جیسے واٹس ایپ اور فیس بک میسنجر، پر اب بھی اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن استعمال کر رہا ہے، جس سے سوال اٹھتا ہے کہ بچوں کی حفاظت کے لیے یکساں پالیسی کیوں نہیں اپنائی جا رہی۔

میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ پہلے بھی اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال اور نقصانات کے حوالے سے مقدمات کا سامنا کر چکے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی) 

کیا یہ واقعی ایک انتخاب ہے؟
میٹا اور پرائیویسی کے حامی اکثر اس بحث کو ’اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن یا بچوں کی حفاظت‘ کے درمیان ایک انتخاب کے طور پر پیش کرتے ہیں، لیکن ماہرین کے مطابق حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایسی ٹیکنالوجی پہلے ہی موجود ہے جو پیغامات کو انکرپٹ رکھتے ہوئے بھی نقصان دہ مواد کی نشاندہی کر سکتی ہے۔ یہ عمل صارف کے ڈیوائس پر، پیغام انکرپٹ ہونے سے پہلے یا موصول ہونے کے بعد انجام دیا جا سکتا ہے۔
اس قسم کی ٹیکنالوجی ماضی میں متنازع رہی ہے، اس لیے اس کا استعمال مکمل طور پر پرائیویسی کو مدنظر رکھ کر کیا جانا چاہیے۔ تاہم ماہرین کے مطابق ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ان نقصانات کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے جو مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔
ایپل پہلے ہی میسجز، ایئر ڈراپ اور فیس ٹائم میں تصاویر کے لیے آن ڈیوائس نوڈٹی ڈیٹیکشن جیسی سہولیات متعارف کرا چکی ہے۔ جبکہ 2025 کی ایک تحقیق میں میٹا کے ایسے اے آئی ماڈل کی نشاندہی کی گئی جو موبائل فونز پر آن ڈیوائس گرومنگ ڈیٹیکشن کے لیے تیار کیا گیا تھا اور اس نے انتہائی درست نتائج دیے۔
حالیہ عرصے میں ایپل اور گوگل نے بعض ممالک میں ایپ سٹور کی سطح پر عمر کی تصدیق کے اقدامات بھی شروع کیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا کمپنیاں، نجی میسجنگ سروسز اور آپریٹنگ سسٹم تیار کرنے والی کمپنیاں، جیسے مائیکروسافٹ، ایپل اور گوگل، سب کی ذمہ داری ہے کہ نقصان دہ مواد کی نشاندہی کو یقینی بنائیں، چاہے اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن موجود ہو یا نہیں۔
 

شیئر: