Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سام سنگ انتظامیہ اور ورکر یونین میں مذاکرات ناکام، ہڑتال کے امکانات بڑھ گئے

ملازمین کی جانب سے 21 مئی سے ہڑتال کی دھمکی دی گئی ہے (فوٹو: روئٹرز)
الیکٹرانک مصنوعات کی بڑی کمپنی سام سنگ کی انتظامیہ اور ملازمین کی یونین کے درمیان ادائیگیوں کے معاملے پر مذاکرات بے نتیجہ ختم ہو گئے ہیں جس سے ہڑتال کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
 برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اگر بات ہڑتال کی طرف جاتی ہے تو اس سے نہ صرف چِپس کی پیداوار اور کمپنی کی ساکھ متاثر ہو گی بلکہ جنوبی کوریا کی معیشت کے لیے بھی خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
اس معاملے پر حکومتی عہدیدار بھی پریشان دکھائی دیتی ہے اور انہی کی ثالثی میں منگل کی شام کو بات چیت کا ایک طویل دور ہوا تاہم بات کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہی۔
دوسری جانب سے ممکنہ صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے وزیراعظم نے کِم مِنسیوک انڈسٹری سے متعلق وزرا کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔
وزیراعظم آفس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق حکام کو صورت حال اور ملکی معیشت پر پڑنے والے ممکنہ اثرات پر گہری نظر رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
ان کی جانب سے زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ ’یونین اور انتظامیہ کے درمیان مذاکرات جاری رکھنے کے لیے فعال تعاون یقینی بنایا جائے تاکہ بات کسی بھی طور ہڑتال تک نہ پہنچ سکے۔‘

سام سنگ میموری چِپس بنانے والی دنیا کی سب سے کمپنی ہے (فوٹو: روئٹرز)

اس صورت حال کے سامنے آنے کے بعد میموری چپس بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی سام سنگ کے شیئرز چھ فیصد تک گر گئے تاہم وزیراعظم کی جانب سے ہنگامی اجلاس طلب کیے جانے کے بعد ان میں کچھ بہتری دیکھی گئی۔
ایس کے ہائنکس کے مقابلے تنخواہ اور بزنس میں بڑے گیپ پر برہم یونین کا کہنا ہے کہ اگر مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے تو ملازمین 21 مئی سے 18 روز کے لیے ہڑتال کریں گے۔
یونین کی جانب سے 50 ہزار سے زائد ملازمین کے کام چھوڑنے کی دھمکی بھی دی گئی ہے جس کے نتیجے میں صارفین تک اشیا کی فراہمی میں تاخیر ہو گی جبکہ چپس کی قیمتیں بھی بڑھیں گی اور اس صورت حال کا حریف کمپنیوں کو فائدہ ہو گا۔
یونین کے نمائندے چوئی سیونگ کا کہنا ہے کہ سام سنگ کی انتظامیہ نے ملازمین کے کسی بھی مطالبے پر توجہ نہیں دی جن میں تنخواہوں اور بونس پر لگائی گئی حد کا خاتمہ بھی شامل ہے۔

وزیراعظم کِم مِنسیوک نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ ہڑتال سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جائیں (فوٹو: کوریا ٹائمز)

ان کے مطابق ’یونین کا انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات بحال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تاہم اگر کمپنی کچھ ’مناسب تجاویز‘ پیش کرتی ہے تو ان پر غور کیا جائے گا۔‘
دوسری جانب کمپنی کی انتظامیہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ یونین سے مذاکرات کے خاتمے پر افسوس ہے اور وہ ایک ’مخلصانہ مکالمے‘ کے ذریعے صورت حال کو مزید خراب ہونے سے روکنے کی کوشش کرے گی۔
ایس کے ہائنکس کمپنی جس نے مصنوعی ذہانت کی ہینڈ وڈتھ میموری فراہم کرنے میں سام سنگ کو شکست دی تھی، نے ستمبر میں یونین کی جانب سے پیش گئی اصلاحات کو مںظور کیا تھا جس میں تنخواہ اور پر حد کا خاتمہ بھی شامل تھا۔

شیئر: