لیونٹ حج روٹ: مختلف راستوں اور پڑاؤ سے گزرتا ہوا ایک تاریخی روحانی سفر
لیونٹ کا حج روٹ شام تک پھیلا ہوا ہے اور بصری الشام (درعا) سے گزرتا ہے (فوٹو: ایس پی اے)
حج کا رُوٹ جسے ’لیونٹ حج رُوٹ‘ بھی کہتے ہیں کیونکہ یہ بحیرۂ روم کے مشرقی کنارے پر واقع ہے، صدیوں سے مکہ اور مدینہ آنے والے کاروانوں کے لیے ایک شاہراہ کا کام کرتا رہا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہ روٹ کئی تہذیبوں کی راہ گزر رہا ہے جس سے اسلامی دنیا میں باہمی رابطوں کی گہرائی کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔
لیونٹ کا حج روٹ شام تک پھیلا ہوا ہے اور بصری الشام (درعا) سے گزرتا ہے۔ پھر یہ راستہ ثم اذرعات، معان اور مدوّرہ سے ہوتا ہُوا حالہ اور عمار کی راہ سے سعودی عرب میں داخل ہوتا ہے۔ وہاں سے یہ راستہ ذات الحاج کی طرف جاتا ہے جو تبوک ریجن میں ہے۔
اِس کے بعد اِس روٹ کی دو منازل الاقرع اور الاخضر ہیں جن کے بعد زائرین کے قافلے المعظم تک پہنچ جاتے تھے۔ اِسی جگہ پر المعظم کا تاریخی تالاب بھی ہے جو عازمینِ عمرہ و حج کے لیے پانی کا سب سے بڑا اور اہم ترین سرچشمہ تھا۔
اس مقام پر قیام کے بعد زائرین کے قافلے الِحجر، قاع الحاج، اور قرح کا سفر مکمل کر کے العلاگورنریٹ میں داخل ہوتے تھے اور پھر اپنے سفر کے آخری حصے کو عبور کرنے کے بعد مدینہ منورہ پہنچا کرتے تھے۔
اپنی پوری تاریخ میں اس رُوٹ کو طرح طرح کے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا ہے جن میں سب سے زیادہ قابلِ ذکر چیلنج پانی کا کم یاب ہونا تھا۔ اس کے علاوہ یہ پورا راستہ گوں نا گوں مشکلات سامنے لاتا تھا خصوصاً جب زائرین کو پہاڑوں، میدانوں اور صحراؤں کو عبور کرنا پڑتا۔ اس وجہ سے اس روٹ پر آرام گاہیں بنائی گئیں، کنوئیں کھودے گئے اور زائرین کے کاروانوں کی ضرورتوں کے پیشِ نظر کھانے کی اشیا محفوظ کرنے اور پانی کو جمع کرنے کی خصوصی جگہیں بنائی گئیں جنھیں آج سٹیشن کا نام بھی دیا جاتا ہے۔

زائرین آرام اور استراحت کے لیے پورے رُوٹ پر بنائے گئے اِن مقامات پر بہت زیادہ انحصار کیا کرتے تھے۔ علاوہ ازیں، انھیں مقامی کمیونٹیوں کی طرف سے بھی تعاون مل جاتا تھا جس میں کھانے پینے کی اشیا، پناہ اور کاروان کے راستے پر سکیورٹی جیسے معاملات شامل تھے۔ یوں، یکجہتی اور باہمی تعاون کی وہ اقدار مجسم ہوتی گئیں جو پوری تاریخ میں حج کے سفر سے جُڑی ہوئی ہیں۔
سعودی دور میں حج رُوٹ پر جامع اور معیاری قسم کی تبدیلیاں کی گئی ہیں جن کو انفراسٹرکچر کی تعمیر و ترقی اور اعلٰی ترین معیار کے مطابق سڑکوں کے جدید اور وسیع جال کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے۔
اس رُوٹ پر زائرین کو خدمات کی فراہمی کے لیے ایک مربوط ماحولی نظام کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے جس میں جدید ترین ضروریات سے لیس سٹیشن اور صحت، رہنمائی اور نقل و حمل کے وسائل بھی شامل ہیں۔

اس کا مقصد یہ ہے کہ زائرین کے لیے سعودی عرب میں داخل ہونے کے بعد اور یہاں سے واپس جانے سے پہلے کے عرصے میں عبادات اور شعائر کی ادائیگی میں کوئی دقت نہ ہو۔
آج لیوینٹ کا حج رُوٹ اپنی تاریخی اور ثقافتی قدر کے ساتھ، سفرِ حج کے ارتقا کا ایک جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ انسانی کوشش پر انحصار کرنے والے روایتی راستوں سے لے کر زائرین کی خدمت کے ایک مربوط نظام تک لائی جانے والی انقلابی تبدیلی یہ ظاہر کرتی ہے کہ سعودی عرب عازمینِ عمرہ و حج کی نگہداشت اور دیکھ بھال میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتا اور ان کی خدمت کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے عہد پر کار بند ہے۔