Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

حج کے اہم دن کون سے ہیں؟

عازمینِ حج کو’روٹ ٹُو مکہ انیشیٹیو‘ کے تحت روانگی کے مقام پر ہی امیگریشن کا عمل مکمل کر دیا گیا ہے(فوٹو: واس)
اتوار سترہ مئی کو ذوالحجہ کا چاند نظر آتے ہی حج بیت اللہ 1447 ہجری کی سرگرمیوں میں مزید تیزی آ گئی ہے۔ سعودی حکومت کے وہ تمام ادارے جو سال بھر حج کی تیاریاں کرتے رہتے ہیں، اِن دنوں انتظامات کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔ عازمینِ حج کو’روٹ ٹُو مکہ انیشیٹیو‘ کے تحت روانگی کے مقام پر ہی امیگریشن کے مراحل سے گزار دیا گیا ہے اور ان کا سامان پہلے ہی سعودی عرب پہنچ چکا ہے۔

آج سے حج کے دن تک اور مسلمانوں کے اس مقدس فریضے کی ادائیگی ممکل ہونے کے بعد حجاج کی مصروفیات میں کیا کیا شامل ہوتا ہے اس کی کچھ تفصیل ذیل میں ہے ۔
سات  ذوالحجہ :
 حجاج کرام کے قافلے ( نسبتا کم تعداد میں) مشاعرِ مقدسہ (خصوصاً منٰی) کی جانب روانہ ہونا شروع ہوتے ہیں۔  

آٹھ  ذوالحجہ :
 اِس دن کو یوم الترویہ کہا جاتا ہے اور یہاں سے باقاعدہ طور پر مناسکِ حج کی ادائیگی کے آغاز ہوتا ہے۔ مکہ مکرمہ میں مقیم حجاج، قافلوں کی صورت میں وادیِ منٰی پہنچنا شروع ہو جاتے ہیں جہاں وہ پورا دن قیام کرتے ہیں۔
نوذوالحجہ :
 یہ وقوفِ عرفہ یعنی حج کے رکنِ اعظم کی ادائیگی کا دن ہے۔ دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں حجاجِ کرام پورا دن میدان عرفات میں قیام کرتے ہیں۔ ظہر اور عصر کی نمازیں قصر و جمع کی صورت میں باجماعت ادا کرتے اور حج کا خطبہ سنتے ہیں۔

حجاج، میدان عرفات میں جبل الرحمہ پر جاتے ہیں جہاں وہ زیادہ سے زیادہ وقت دعاؤں میں گزارتے اور اللہ تعالٰی کی حمد و ثناء کرتے ہیں۔ غروبِ آفتاب کے ساتھ ہی حجاج، قافلوں کی صورت میں میدانِ عرفات سے کوچ کر کے مزدلفہ کے میدان میں پہنچ جاتے ہیں۔

مزدلفہ میں رات کو قیام:
 حجاج کرام مزدلفہ کے کھلے میدان میں مغرب و عشا کی نمازیں قصر و جمع کی صورت میں ادا کرتے ہیں۔ یہاں سے رمی (شیطانوں کو کنکریاں مارنا) کے لیے حجاج کنکریاں اکھٹی کرتے ہیں اور فجر کی نماز ادا کرتے ہی وادیِ منٰی کے لیے روانہ ہوجاتے ہیں۔

دس ذوالحجہ :
اس دن کو یوم النحر کہا جاتا ہے: یعنی قربانی کا دن۔ حجاج کرام جمرہ عقبہ (بڑے شیطان) کو کنکریاں مارتے ہیں اور قربانی کے بعد بال ترشوا کر احرام کی پابندیوں سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ بعض حجاج اِسی دن طواف اور حج کی سعی کے لیے مکہ مکرمہ روانہ ہوجاتے ہیں۔
گیارہ ذوالحجہ :
عید الاضحٰی کے بعد کے دِنوں کو ایام تشریق کہا جاتا ہے۔ اس دن منٰی میں مقیم حجاج تینوں شیطانوں کو سات سات کنکریاں مارتے ہیں اور اپنے خیموں میں لوٹ آتے ہیں۔

بارہ  ذوالحجہ:
یہ رمی کا تیسرا جبکہ ایامِ تشریق کا دوسرا دن ہوتا ہے۔ اِس دن بھی حجاج کرام تینوں شیطانوں کو کنکریاں مارنے کے بعد اپنے خیموں میں واپس آ جاتے ہیں ۔ وہ حجاج جو جلدی واپس جانا چاہتے ہیں اُن کے لیے لازمی ہے کہ وہ غروبِ آفتاب سے قبل منٰی کی حدود سے نکل جائیں۔ غروب کے بعد منٰی میں رہنے والے حجاج 13 ذوالحجہ کو بھی منٰی میں قیام کرتے ہیں۔

تیرہ ذوالحجہ :
 وہ حجاجِ کرام جو ایام تشریق کے تیسرے دن بھی منٰی میں قیام کرتے ہیں وہ اس دن بھی تینوں شیطانوں کو کنکریاں مارنے کے بعد مکہ مکرمہ یا اپنے شہروں کو لوٹ جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مناسکِ حج مکمل ہو جاتے ہیں۔ اپنے شہروں یا ملک کو واپس لوٹنے سے قبل حجاج طواف الوداع کرتے ہیں۔

شیئر: