’دلکش مناظر اور روایتی طرزِ تعمیر‘: عسیر کا المدانہ گاؤں دیہی سیاحت کا کامیاب ماڈل
عسیر کی النماص کمشنری کی وادی زاید میں المدانہ گاؤں اب بھی سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے جو ریجن کے سب سے نمایاں ورثے اور دیہی مقامات میں سے ایک ہے۔
ایس پی اے کے مطابق المدانہ گاؤں میں قدرتی اور ثقافتی خصوصیات، پہاڑوں کی خوبصورتی، تہامہ کے دلکش مناظر اور روایتی طرز تعمیر یکجا ہیں۔ یہ منظر سعودی عرب کے جنوبی ورثے کی خوبصورتی کی عکاسی کرتا ہے۔
حالیہ برسوں کے دروان یہ گاؤں دیہی اور ثقافتی سیاحت کے شوقین افراد کے لیے ایک پسندیدہ مقام بن چکا ہے۔ اس کی وجہ یہاں موجود قدیم پتھر سے بنے مکان، تاریخی راستے اور مملکت کے جنوبی علاقوں کی روایتی زندگی کی جھلک ہے۔
یہاں سرسبز مناظر اور معتدل آب و ہوا بھی موجود ہے جس کی وجہ سے یہ سیاحوں کے لیے پسندیدہ مقام بن چکا ہے۔
المدانہ گاؤں کے قدیم مکانات ایک خوبصورت اور ہم آہنگ طرز تعمیر کا نظارہ بھی پیش کرتے ہیں، جبکہ پہاڑی ڈھلوانوں پر پھیلی زرعی سیڑھیاں علاقے کو منفرد بصری حسن بھی عطا کرتی ہیں۔ گاؤں آج بھی اپنی قدیم زرعی روایات کو برقرار رکھے ہوئے ہے جہاں گندم، جو، مکئی وغیرہ کی کاشت برسوں سے جاری ہے۔
علاقے کے ایک رہائشی یحییٰ الشھری نے بتایا کہ گاؤں کے مکین قدیم مکانات، روایتی کھیتوں اور تاریخی راستوں کو محفوظ رکھنے پر خصوصی توجہ دیتے ہیں۔ المدانہ ایک اہم ثقافتی اور تاریخی مرکز بن گیا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ علاقے میں المابیہ نامی جنگلی اناج بھی پایا جاتا ہے جو آج تک اپنی قدیم زرعی خصوصیات کے ساتھ موجود ہے۔ یہ اناج علاقے کی زرعی اور ثقافتی شناخت کا اہم جز سمجھا جاتا ہے۔
المدانہ گاؤں میں کئی قدیم تاریخی اور قدرتی راستے بھی موجود ہیں جو پیدل سفر اور مہم جوئی کے شوقین افراد کو اپنی جانب متوجہ کراتے ہیں۔ ان راستوں میں العصبہ خاص طور پر نمایاں ہے جو ماضی میں جنوب سے شمال کی جانب جانے والے حجاج استعمال کیا کرتے تھے۔ اسی طرح تہامہ کے دلکش نظاروں سے آراستہ پہاڑی راستے فطرت اور ایڈوینچر کے شوقین افراد کے لیے منفرد سیاحتی تجربات فراہم کرتے ہیں۔

گاؤں کی آبادی تقریباً دو ہزار افراد پر مشتمل ہے، جو پرانے گھروں کی بحالی اور ورثے کی شناخت کو محفوظ رکھنے کی کوششوں کے ذریعے تعاون اور یکجہتی کے جذبے کی واضح مثال پیش کرتی ہے۔ ان کوششوں سے گاؤں کو دیہی سیاحت کے ایک کامیاب ماڈل میں تبدیل کرنے میں مدد مل رہی ہے۔
گزشتہ برس اس گاؤں میں آنے والے سیاحوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو کہ 40 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ثقافتی اور دیہی سیاحت میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کے باعث تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔

یہ پیشرفت سعودی وژن 2030 کے ان اہداف سے ہم آہنگ ہے جن کا مقصد سیاحتی تجربات کو متنوع بنانا اور مختلف علاقوں میں ثقافتی شناخت کو اجاگر کرنا ہے۔
المدانہ گاؤں اب عوامی اور ثقافتی تقریبات کا بھی اہم مرکز بن چکا ہے جہاں النماص کمشنری کے معروف عوامی فنون جیسے العرضہ اور روایتی کھیل پیش کیے جاتے ہیں۔

علاوہ ازیں قدیم دیہی زندگی کی عکاسی کرنے والی سرگرمیوں میں روایتی دیاس کے مظاہر شامل ہیں۔ یہ سرگرمیاں وزیٹرز کو ماضی کے دیہی طرز حیات کو قریب سے محسوس کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔