پاکستان: باجوڑ میں پولیو ٹیموں کی حفاطت پر مامور پولیس اہلکاروں پر حملے، دو ہلاک
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب پاکستان نے ہفتے پر مشتمل پولیو ویکسینیشن مہم شروع کی۔ (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا میں مسلح افراد نے پیر کے روز پولیو ویکسینیشن ٹیموں کی حفاظت پر تعینات پولیس ٹیموں پر دو الگ الگ حملوں میں دو پولیس اہلکاروں کو قتل کر دیا گیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ واقعات ایسے وقت پیش آئے جب ملک بھر میں پولیو کے بڑھتے ہوئے کیسز کے خلاف قومی مہم کا آغاز ہوا۔
پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ دو ممالک ہیں جہاں پولیو اب بھی بیماری (اینڈیمک) کے طور پر موجود ہے۔ گزشتہ دہائی کے دوران شدت پسندوں نے پاکستانی ریاست کے خلاف مہم کے تحت سینکڑوں پولیس اہلکاروں اور طبی کارکنوں کو نشانہ بنایا ہے۔
پشاور میں تعینات ایک سینیئر سیکیورٹی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’قبائلی ضلع باجوڑ میں پولیو مہم کے دوران ویکسینیشن ٹیموں کی حفاظت پر مامور دو پولیس اہلکاروں کو موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے دو مختلف حملوں میں گولی مار کر قتل کر دیا۔‘
اہلکار نے مزید بتایا کہ ’دہشت گردوں نے کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں معمول کی ڈیوٹی انجام دینے والے مزید دو پولیس اہلکاروں کو بھی فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب پاکستان نے ہفتے پر مشتمل پولیو ویکسینیشن مہم شروع کی، جس کے دوران 79 ہائی رسک اضلاع میں ایک کروڑ 90 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔
پولیو ایک انتہائی متعدی وائرس ہے جو زیادہ تر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کرتا ہے۔ یہ عمر بھر کی معذوری یا فالج کا سبب بن سکتا ہے، تاہم چند قطروں پر مشتمل ویکسین کے ذریعے اس سے آسانی سے بچاؤ ممکن ہے۔
دیہی پاکستان میں پولیو ویکسین کے حوالے سے مختلف غلط معلومات بھی پھیلائی جاتی رہی ہیں، جن میں یہ دعویٰ بھی شامل ہے کہ یہ مسلمانوں کی آبادی کم کرنے کے لیے سی آئی اے کی سازش ہے۔
