Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’24 بین الاقوامی اعزازات‘ سعودی طلبہ کا امریکہ سے واپسی پر پھولوں سے استقبال

سائنس و انجینیئرنگ فیئر میں 12 گرینڈ ایوارڈ اور 12 خصوصی ایوارڈز جیتے (فوٹو: ایس پی اے)
 انٹرنیشنل سائنس و انجینیئرنگ فیئر (آئی ایس ای ایف) میں 24 بین الاقوامی اعزازات اپنے نام کرنے والی سعودی سائنس اینڈ انجیئنرنگ ٹیم کا پیر کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئر پورٹ پہنچنے پر پھولوں سے خیرمقدم کیا گیا۔
سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے کے مطابق سعودی طلبہ نے 9 سے 15 مئی تک امریکی ریاست ایریزونا کے شہر فینکس میں انٹرنیشنل عالمی سائنس و انجینیئرنگ فیئر میں 12 گرینڈ ایوارڈ اور 12 خصوصی ایوارڈز جیتے ہیں۔
70 ممالک سے آنے والے 1700 سے زائد طلبہ کے درمیان مقابلے میں یہ اعزازات حاصل کیے۔ یہ ایوارڈز اُن منصوبوں پر دیے گئے جنہیں تحقیقی معیار، پریکٹکل ایپلی کیشن اور جدید سائنسی شعبوں سے مطابقت کے باعث سراہا گیا۔ 
سعودی طلبہ کی ٹیم 40 ارکان پر مشتمل تھی، ان میں 23 نے  فینکس میں خود شرکت کی جبکہ 17 ریاض سے آن لائن شریک ہوئے۔
سعودی عرب نے کمپویٹیشنل بیالوجی اور انفارمیٹکس میں عالمی سطح پر پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ امریکہ کے بعد مسلسل تیسرے سال اپنی دوسری عالمی رینکنگ برقرار رکھی ہے۔ مملکت نے بین الاقوامی مقابلوں اور عالمی فورمز میں کامیابیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔

آئی ایس ای ایف کو دنیا کا سب سے بڑا پری یونیورٹسی سائنس اور انجینیئرنگ مقابلہ سمجھا جاتا ہے۔ مملکت 2007 سے ہر سال اس مقابلے میں شرکت کر رہا ہے۔
اب تک مملکت نے 209 ایوارڈ حاصل کیے، ان میں 136 گرینڈ ایوارڈ اور 73 خصوصی ایوارڈ شامل ہیں۔
سعودی عرب کی نمائندگی کنگ عبدالعزیز اینڈ کمپینیئنز فاؤنڈیشن فار گفٹڈنیس اینڈ کری ایٹیویٹی (موھبہ)، وزارت تعلیم کے تعاون سے کرتی ہے۔

ان طلبہ کا انتخاب نیشنل اولمپیاڈ برائے سائنسی تخلیق ’ابداع 2026‘ کے فاتحین میں سے کیا جاتا ہے جو ’موھبہ‘ کی جانب سے منعقد کیے جانے والے سالانہ 27 سائنسی پروگراموں اور مقابلوں میں سے ایک ہے۔
ان طلبہ نے 3 لاکھ 57 ہزار امیدواروں میں کوالیفائی کیا جنہوں نے 22 مختلف شعبوں میں 34 ہزار سے زائد سائنسی پروجیکٹس جمع کرائے تھے۔
 چھ سخت جانچ کے مراحل کے بعد انتخاب عمل میں آیا۔ ان میں مقامی سطح پر 16 نمائشیں، 4 مرکزی نمائشیں، اور ’ابداع‘ سائنس اینڈ انجینیئرنگ فیئر شامل تھا۔ 
 ’موھبہ‘ کو ہونہار طلبہ کی نشاندہی، ان کی تربیت اور انہیں با اختیار بنانے والے ایک نمایاں  بین الاقوامی ادارے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

شیئر: