Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر ٹرمپ کا منگل کو ایران پر طے شدہ حملہ مؤخر کرنے کا اعلان

صدر متعدد بار تہران کے لیے ڈیڈ لائن مقرر کر چکے ہیں، لیکن بعد میں ان مؤقف سے پیچھے بھی ہٹتے رہے ہیں۔ (فوٹو: روئٹرز)
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کہا ہے کہ انہوں نے ایران پر منگل کو کیا جانے والا فوجی حملہ مؤخر کر دیا ہے جبکہ کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں جاری ہیں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق پیر کو ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہو سکا تو امریکہ دوبارہ حملے شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق حملے کی تاخیر خلیجی اتحادی ممالک کی درخواست پر کی گئی تاکہ ’سنجیدہ مذاکرات‘ کے لیے وقت دیا جا سکے۔
صدر ٹرمپ نے یہ اعلان ایسے وقت میں کیا جب وہ پہلے خبردار کر چکے تھے کہ ایران کے پاس معاہدہ کرنے کے لیے وقت بہت کم رہ گیا ہے، ورنہ دوبارہ لڑائی شروع ہو سکتی ہے۔
صدر نے مجوزہ حملے کی تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم انہوں نے کہا کہ انہوں نے امریکی فوج کو ہدایت دی ہے کہ ’اگر کوئی قابلِ قبول معاہدہ طے نہ پایا تو ایران پر مکمل اور بڑے پیمانے کے حملے کے لیے لمحوں کے نوٹس پر تیار رہا جائے۔‘
صدر ٹرمپ نے اس سے پہلے یہ ظاہر نہیں کیا تھا کہ وہ 19 مئی کو حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، لیکن ہفتے کے آخر میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ ’ایران کے لیے وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور انہیں فوری قدم اٹھانا ہوگا ورنہ ان کے پاس کچھ بھی باقی نہیں بچے گا۔‘
وہ کئی ہفتوں سے دھمکی دے رہے تھے کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو اپریل کے وسط میں ہونے والی جنگ بندی ختم ہو سکتی ہے، جبکہ اس معاہدے کی شرائط بھی وقتاً فوقتاً بدلتی رہی ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کے اتحادی ممالک، جن میں قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے رہنما شامل ہیں، کی درخواست پر مجوزہ حملہ منسوخ کیا۔
صدر متعدد بار تہران کے لیے ڈیڈ لائن مقرر کر چکے ہیں لیکن بعد میں ان مؤقف سے پیچھے بھی ہٹتے رہے ہیں۔
حالیہ دنوں میں انہوں نے اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو اور چینی صدر سے بھی ایران جنگ کے حوالے سے گفتگو کی ہے۔

 

شیئر: