Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سان ڈیاگو کی ایک مسجد میں فائرنگ، دو حملہ آوروں سمیت پانچ ہلاک

واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس نے اسلامک سینٹر کو گھیرے میں لیا (فوٹو: اے پی)
امریکہ میں مسجد کے اندر فائرنگ کے واقعے میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں فائرنگ کرنے والے دو نوجوان بھی شامل ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق واقعہ ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو کے ایک اسلامک سینٹر (مسجد) میں پیر کے روز اس وقت پیش آیا جب دو مسلح نوجوان مسجد کے اندر گھس گئے اور سکیورٹی گارڈ کو گولی مار دی جبکہ اس کے اندر اندر موجود افراد پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو مزید افراد ہلاک ہوئے۔
پولیس کے پہنچنے پر معلوم ہوا کہ حملہ آور نوجوان بھی گولی لگنے سے ہلاک ہو چکے ہیں اور بظاہر یہ لگ رہا ہے کہ انہوں نے خود کو شوٹ کیا۔
سان ڈیاگو میکسیکو کی سرحد کے قریب واقع ہے اور پولیس نے جائزے کے بعد مقام کو محفوظ قرار دیا ہے۔
سان ڈیاگو پولیس کے سربراہ سکاٹ واہل کا کہنا ہے واقعے کی ہیٹ کرائم کے طور پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
ان کے مطابق ’واقعے کی وجوہات آنے والے وقت میں سامنے آ جائیں گی اور مرنے والوں میں مسجد کا سکیورٹی گارڈ بھی شامل ہے اور انہوں نے اس سانحے کو مزید بدتر ہونے سے روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔‘

واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد اسلامک سینٹر میں زیرتعلیم طلبہ کے رشتہ دار پریشانی میں وہاں پہنچے (فوٹو: اے پی)

یہ اسلامک سینٹر سان ڈیاگو کی سب سے بڑی مسجد ہے اور اس کے اندر الرشید سکول بھی موجود ہے۔ اس کی ویب سائٹ کے مطابق وہ پانچ سال اور اس سے زیادہ عمر کے افراد کو عربی زبان، اسلامی علوم اور قرآن کورسز آفر کرتا ہے۔
سکاٹ واہل کے مطابق ’تمام بچے محفوظ ہیں، ہمارے دل ان خاندانوں کو یہ اطلاع دیتے ہوئے دکھی ہیں جن کے پیارے اس واقعے میں متاثر ہوئے ہیں۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے اطلاع ملنے کے بعد چار منٹ کے اندر جواب دیا، جیسے ہی اہلکار پہنچے کچھ بلاکس کے فاصلے پر گولیاں چلنے کی آوازیں آ رہی تھیں اور حملہ آور قریب کھڑی گاڑی میں مردہ پائے گئے۔
واقعے کی فضائی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ درجن سے زائد بچے ہاتھ پکڑے سینٹر کی پارکنگ سے باہر نکل رہے ہیں جبکہ وہاں پولیس کی گاڑیاں بھی موجود ہیں اور خواتین کو روتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں (فوٹو: اے پی)

مسجد کے ڈائریکٹر امام طلحہ حسن نے عبادت کے مقام کو نشانہ بنانے کو شرمناک قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس خوبصورت شہر میں تمام عبادت گاہوں کی ہمیشہ حفاظت ہونی چاہیے۔
کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز نے فائرنگ کے واقعے کی مذمت کی ہے۔ اس کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر تزئین نظام نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’عبادت میں شرکت یا ایلیمنٹری سکول میں پڑھائی کے وقت کسی کو بھی اپنی سلامتی سے متعلق خوف نہیں ہونا چاہیے۔‘

 

شیئر: