پیر چناسی سے ملنے والا ’پراسرار عقاب‘: جاسوسی کا آلہ، سائنسی تحقیق یا معدوم ہوتی گدھ؟
پیر چناسی سے ملنے والا ’پراسرار عقاب‘: جاسوسی کا آلہ، سائنسی تحقیق یا معدوم ہوتی گدھ؟
منگل 19 مئی 2026 11:49
فرحان خان، اردو نیوز۔ اسلام آباد
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے مشہور سیاحتی مقام پیر چناسی میں گزشتہ ہفتے (12 مئی 2026 بروز منگل) ایک ایسا انوکھا واقعہ پیش آیا جس نے مقامی آبادی اور سوشل میڈیا پر تجسس اور سنسنی کی ایک لہر دوڑا دی۔
مقامی افراد نے ایک ایسے بڑے شکاری پرندے کو پکڑا جس کی پشت پر ایک جدید ڈیوائس اور پروں پر زرد رنگ کا ٹیگ نصب تھا۔
پرندے کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہوتے ہی سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جانے لگا کہ یہ کوئی ’پراسرار عقاب‘ ہے جسے پڑوسی ملک نے جاسوسی کے مقاصد کے لیے بھیجا ہے۔
گزشتہ ہفتے سامنے آنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مقامی افراد اس پرندے کو کسی جال یا مصیبت سے نکالنے کے بعد تجسس کے باعث اس کے آلے کا معائنہ کر رہے تھے۔
تاہم محکمہ وائلڈ لائف کے حکام نے سوشل میڈیا صارفین کے دعوے کو رد کرتے ہوئے پرندے کی اصل اور نایاب شناخت آشکار کی ہے۔
صارفین کا دعویٰ اور محکمہ وائلڈ لائف کی تصدیق
اس معاملے کی اصل حقیقت جاننے کے لیے جب پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے محکمۂ جنگلی حیات کے ڈائریکٹر جنرل عبدالشکور سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے سوشل میڈیا پر چلنے والی افواہوں کی تصدیق کرنے کے بجائے ایک اہم سائنسی حقیقت سامنے رکھی۔
ان کا کہنا تھا ’مقامی افراد کی جانب سے وائلڈ لائف حکام کے حوالے کیا جانے والا یہ پرندہ دراصل عقاب نہیں بلکہ ایک گدھ ہے جسے ’وائٹ رمپڈ ولچر‘ (White-rumped vulture) کہا جاتا ہے۔
سفید گدھ کوٹلی اور اپر نیلم کی کچھ مخصوص سائٹس پر پائی جاتی ہے (فوٹو: پکس ہیئر)
’سوشل میڈیا پر اسے عقاب سمجھا جا رہا تھا لیکن یہ نسل اس وقت دنیا بھر میں شدید معدومی کے خطرے سے دوچار ہے۔‘
ڈی جی وائلڈ لائف نے مزید بتایا کہ یہ گدھ پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں کوٹلی اور اپر نیلم کی کچھ مخصوص سائٹس پر پائی جاتی ہے تاہم ابھی تک حتمی طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ مخصوص پرندہ کہاں سے اڑ کر یہاں پہنچا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں ’ڈبلیو ڈبلیو ایف‘ نے چھانگا مانگا میں جبکہ پڑوسی ملک انڈیا میں بھی اس نایاب پرندے کی نسل کو بچانے اور برقرار رکھنے کے لیے کنزرویشن پروگرامز شروع کر رکھے ہیں۔‘
وائٹ رمپڈ ولچر (سفید پشت والی گدھ) کیا ہے؟
محکمہ وائلڈ لائف کی جانب سے پرندے کی درست شناخت کے بعد یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ پرندہ ماحولیاتی نظام کے لیے کس قدر اہم ہے۔
سائنسی دنیا میں اسے Gyps bengalensis کہا جاتا ہے۔ یہ درمیانے سائز کی گدھ ہے جس کی پہچان اس کی گردن کے نچلے حصے پر سفید پٹی اور اڑتے وقت اس کی پشت پر چمکتا ہوا سفید رنگ ہے جس کی وجہ سے اسے ’وائٹ رمپڈ‘ کہا جاتا ہے۔
ماہرینِ جنگلی حیات کے مطابق گدھ قدرت کے سب سے بہترین صفائی کرنے والے ہیں۔ یہ پرندے مردار جانوروں کو کھا کر ماحول کو صاف رکھتے ہیں۔ ان کے معدے میں موجود طاقتور تیزاب ایسے خطرناک جراثیم اور بیکٹیریا (جیسے اینتھراکس، ریز اور ہائڈرو فوبیا) کو بھی ہضم کر دیتا ہے جو انسانوں اور دوسرے جانوروں میں مہلک وبائیں پھیلا سکتے ہیں۔
گدھ کی غیر موجودگی میں مردار گل سڑ جاتے ہیں جس سے زیرِ زمین پانی آلودہ ہوتا ہے اور آوارہ کتوں کی تعداد بڑھتی ہے جو ریبیز کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔
ماضی میں بھی پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں اکثر ’فلائنگ آبجیکٹس‘ خبروں کی زینت بنتے رہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق اس پرندے کا موجودہ سٹیٹس انتہائی تشویش ناک ہے۔
بین الاقوامی ادارے برائے تحفظِ قدرت (IUCN Red List) نے وائٹ رمپڈ ولچر کو ’شدید خطرے سے دوچار‘کیٹیگری میں رکھا ہے۔ یہ کسی بھی جاندار کے زمین سے مکمل ناپید ہونے سے پہلے کا آخری انتباہی سٹیٹس ہوتا ہے۔
بین الاقوامی تحفظِ پرندگان کے ادارے ’برڈ لائف انٹرنیشنل‘ کے ریکارڈ کے مطابق 1990 کی دہائی سے اب تک جنوبی ایشیا (پاکستان، انڈیا، نیپال) میں اس گدھ کی آبادی میں 99 فیصد سے زائد کی خوفناک کمی واقع ہو چکی ہے جو کسی بھی پرندے کی تاریخ میں سب سے تیز رفتاری سے ہونے والا زوال ہے۔
جنگلی حیات کے سائنسی جرائد جیسے جرنل آف اپلائیڈ ایکولوجی کی رپورٹس کے مطابق اس تباہی کی سب سے بڑی وجہ مویشیوں کو دی جانے والی ایک درد کش دوا ’ڈائیکلوفینیک‘ ہے۔
جب یہ گدھ ایسے مردہ مویشیوں کا گوشت کھاتی ہیں جنہیں یہ دوا دی گئی ہو تو ان کے گردے فیل ہو جاتے ہیں اور وہ چند دنوں میں مر جاتی ہیں۔
اگرچہ پاکستان اور انڈیا میں اس دوا پر پابندی لگائی جا چکی ہے مگر اس کے اثرات اب بھی باقی ہیں۔
پاکستان، انڈیا اور نیپال میں اس گدھ کی آبادی میں 99 فیصد سے زائد کی خوفناک کمی واقع ہو چکی ہے (فوٹو: اینیمیلیا)
پرندے کے جسم پر کیا نصب ہے؟
پیر چناسی سے ملنے والے اس پرندے کی پشت پر ایک جدید سولر پاورڈ جی پی ایس ٹریکر نصب ہے۔ اس آلے کے اوپری حصے پر ایک چھوٹا سولر پینل لگا ہے جو سورج کی روشنی سے اس کی بیٹری کو مستقل چارج رکھتا ہے تاکہ یہ طویل عرصے تک بغیر کسی رکاوٹ کے سگنل بھیجتا رہے۔
اس کے علاوہ پرندے کے پر پر زرد رنگ کا ایک ’ونگ ٹیگ‘ لگا ہے جس پر F49 کا کوڈ درج ہے۔
ڈی جی وائلڈ لائف کے مطابق ’یہ ڈیوائسز عام طور پر پرندوں کے رُوٹس (پرواز کے راستوں) کی نگرانی کے لیے نصب کی جاتی ہیں۔‘
حکام کا کہنا ہے کہ اس ڈیوائس سے متعلق ابھی تحقیقات جاری ہیں کہ یہ کہاں سے ایکٹیویٹ ہوئی اور کس ریسرچ پروگرام کا حصہ ہے۔
لائن آف کنٹرول اور جاسوسی کا شک
کشمیر کا یہ خطہ جو پاکستان اور انڈیا کے درمیان لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے ذریعے منقسم ہے، طویل عرصے سے سکیورٹی کے لحاظ سے انتہائی حساس رہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب بھی یہاں فضاء میں کوئی غیرمعمولی چیز یا ایسا پرندہ نظر آئے جس پر کوئی آلہ لگا ہو تو مقامی سطح اور سوشل میڈیا پر پہلا شبہ ’جاسوسی‘ پر ہی جاتا ہے۔
ماضی میں بھی اس منقسم خطے میں اکثر ’فلائنگ آبجیکٹس‘ خبروں کی زینت بنتے رہے ہیں۔ کبھی لائن آف کنٹرول کے آر پار چھوٹے جاسوس ڈرونز گرانے کے دعوے کیے جاتے ہیں تو کبھی پرندے کی شکل کے غبارے ملنے پر سکیورٹی ایجنسیاں متحرک ہو جاتی ہیں۔
خوشگوار موسم کی وجہ سے سیاح پیر چناسی کا رخ کرتے ہیں (فوٹو: ویکیپیڈیا)
اسی تناظر کی وجہ سے سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے اسے کسی پڑوسی ملک کا جاسوسی نیٹ ورک قرار دیا جا رہا تھا۔
عام طور پر بین الاقوامی سائنسی کمیونٹی اور جنگلی حیات کے تحفظ کے ادارے نایاب، ہجرت کرنے والے اور معدومیت کے خطرے سے دوچار پرندوں (جیسے وائٹ رمپڈ ولچر) کو بچانے کے لیے ایسے آلات کا استعمال کرتے ہیں۔ جی پی ایس کی مدد سے لائیو لوکیشن ملتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پرندہ کن علاقوں، پہاڑوں یا سرحدوں کے اوپر سے گزرا۔ ان آلات سے حاصل ہونے والے ڈیٹا سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ ان پرندوں کو کن علاقوں میں خوراک ملتی ہے اور انہیں کن خطرات (جیسے زہریلی ادویات یا بجلی کی تاروں) کا سامنا ہے۔
سائنسی لحاظ سے یہ ایک خالصتاً تحقیقی عمل ہے جس کا مقصد حیاتیاتی تنوع کا تحفظ ہوتا ہے۔
پروں پر موجود (F49) جیسے ٹیگز عالمی مانیٹرنگ منصوبوں کا حصہ ہوتے ہیں جن کا ریکارڈ بین الاقوامی ڈیٹا بیس میں محفوظ ہوتا ہے تاہم مذکورہ پرندے پر لگے ٹیگ کے بارے میں ابھی حکام نے کوئی حتمی رپورٹ جاری نہیں کی ہے۔
ڈی جی محکمہ جنگلی حیات کا کہنا ہے کہ ’ایسے نایاب اور ممکنہ طور پر سائنسی تحقیق کا حصہ بننے والے پرندوں کو نقصان پہنچانے کے بجائے فوری طور پر وائلڈ لائف حکام کے حوالے کیا جانا چاہیے تاکہ ان کے حفاظتی سفر میں خلل نہ پڑے۔‘