Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس: عدالت نے ملزم کو سزائے موت سنا دی

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کیس کے ملزم عمر حیات کو سزائے موت سنا دی۔
ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد افضل مجوکہ نے ثنا یوسف قتل کیس کا محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔
عدالت نے کہا جرم ثابت ہونے پر ملزم عمر حیات کو سزائے موت کا حکم دیا جاتا ہے، اس کے علاوہ ملزم عمر حیات کو دیگر دفعات میں جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ عدالت نے مجموعی طور عمر حیات کو 30 سال قید اور 24 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔
عمر حیات کو مقدمےکی دیگر 3 دفعات کے تحت 10، 10 سال کی سزا سنائی گئی۔  ڈکیتی کی دفعات کے تحت 10 اور ملزم کوگھر میں گھسنے کی دفعات کے تحت بھی 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
ملزم عمر حیات کو پچھلے برس جون میں ٹک ٹاکر کے گھر کے اندر قتل کے واقعے کے بعد فیصل آباد سے گرفتار کیا گیا تھا۔
اس کیس کی آخری سماعت پیر کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ہوئی تھی جس میں ملزم عمر حیات کا دفعہ 342 کا بیان ریکارڈ کیا گیا جس میں اس نے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔
ملزم کا کہنا تھا کہ اس کا ثنا یوسف کے ساتھ کسی قسم کا رابطہ تھا اور نہ ہی کوئی جھگڑا جبکہ کبھی ملاقات کی درخواست بھی نہیں کی تھی۔
ملزم کے مطابق اس کو محض شک کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا کیونکہ وہ دونوں ہی سوشل میڈیا پر مشہور تھے۔
عمر حیات کا کہنا تھا کہ ٹک ٹاکر کے فولوورز کی جانب سے سوشل میڈیا پر پولیس پر دباؤ ڈالا گیا جس کے باعث اسے کیس میں ملوث کر دیا گیا۔
اسی طرح سماعت کے دوران ویڈیو بنائے جانے پر جج نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکم دیا کیا کہ کوئی ویڈیو یا ٹک ٹاک نہ بنائی جائے۔
ملزم کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے رینٹ پر لینے کا جعلی ایگریمنٹ بنایا گیا۔
خیال رہے چترال سے تعلق رکھنے والی اور اپنے والدین کے ہمراہ سیکٹر جی 13 میں رہائش پذیر 17 برس کی ثنا یوسف جو ٹک ٹاک پر کافی مشہور تھیں، اس وقت اچانک خبروں میں آ گئی تھیں جب ان کو گھر کے اندر گولیاں ماری گئیں۔
پچھلے سال دو جون کو ہونے والے واقعے کے بعد پولیس کی جانب سے ملزم کی سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کی گئی تھی جس میں ملزم کو گھر سے نکلتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔
اس کے اگلے روز ہی پولیس نے ملزم عمر حیات کو فیصل آباد سے پکڑنے کا دعویٰ کیا تھا۔

 

شیئر: