تھائی لینڈ نے 90 سے زائد ممالک کے لیے ویزا فری قیام کی مدت میں کمی کا فیصلہ کیوں کیا؟
تھائی لینڈ نے 90 سے زائد ممالک کے لیے ویزا فری قیام کی مدت میں کمی کا فیصلہ کیوں کیا؟
منگل 19 مئی 2026 21:09
اس سے قبل ویزا فری قیام کی مدت 30 دن تھی تاہم حکومت نے 2024 میں اسے 60 دن کر دیا تھا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
تھائی لینڈ نے غیر ملکی شہریوں کی جانب سے جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کو روکنے کے لیے 90 سے زائد ممالک کے سیاحوں کے لیے ویزا فری قیام کی مدت میں بڑے پیمانے پر کٹوتی کرنے کا اعلان کیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جنوب مشرقی ایشیا کے اس ملک کی معیشت کے لیے سیاحت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے تاہم کورونا وبا کے بعد سے اب تک یہاں آنے والے غیر ملکی سیاحوں کی تعداد وبا سے پہلے والی بلند ترین سطح پر واپس نہیں آ سکی ہے۔
حالیہ دنوں میں تھائی لینڈ میں کئی ہائی پروفائل غیر ملکیوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن کا تعلق منشیات کی سمگلنگ، سیکس ٹریفکنگ اور مناسب اجازت ناموں (پرمٹس) کے بغیر ہوٹل اور سکول جیسے کاروبار چلانے سے تھا۔
تھائی لینڈ کی موجودہ سیاحتی سکیم کے تحت دنیا کے 90 سے زائد ممالک کے مسافر ویزا حاصل کیے بغیر 60 دنوں تک تھائی لینڈ میں قیام کے اہل تھے۔ ان ممالک میں یورپ کے 29 شینجن ممالک، امریکہ، اسرائیل اور کئی جنوبی امریکی ممالک شامل ہیں۔
بینکاک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تھائی لینڈ کے وزیرِ سیاحت سوراساک پھانچاروینوراکول نے بتایا کہ منگل کو تھائی کابینہ نے ان ممالک سے آنے والے مسافروں کے لیے بغیر ویزا قیام کی مدت کو کم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
وزیرِ سیاحت کا کہنا تھا کہ ویزا فری قیام کی نئی مدت کا تعین ہر ملک کے ساتھ تعلقات اور صورتحال کو انفرادی طور پر دیکھ کر کیا جائے گا۔
بیشتر ممالک کے شہریوں کو زیادہ سے زیادہ 30 دن کا قیام دیا جائے گا جبکہ کچھ ممالک کے شہریوں کو صرف 15 دن کی اجازت مل سکتی ہے۔
حکومت کی ایک خاتون ترجمان نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ سیاح امیگریشن آفس جا کر صرف ایک بار اپنے ویزا کی تجدید (ایکسٹینشن) کروا سکیں گے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ ’پہلے 60 دن کا قیام خودکار طریقے سے مل جاتا تھا لیکن اب تجدید کا فیصلہ امیگریشن افسر کرے گا اور سیاحوں کو یہ وضاحت کرنی ہوگی کہ وہ مزید کیوں رکنا چاہتے ہیں۔‘
’مخصوص ملک نہیں، جرائم پیشہ افراد نشانہ ہیں‘
تھائی لینڈ کے وزیرِ خارجہ سیہاساک پھوانگ کیٹکیو نے گزشتہ ہفتے اپنے ایک بیان میں واضح کیا تھا کہ ویزا فری قیام کی مدت میں کمی کا منصوبہ بین الاقوامی جرائم کے خلاف کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تھائی لینڈ کسی مخصوص ملک کو نشانہ نہیں بنا رہا بلکہ نشانہ وہ افراد ہیں جو ملک میں جرائم کا ارتکاب کر کے ویزا سسٹم کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔
ویزا فری قیام کی مدت میں کمی کا منصوبہ بین الاقوامی جرائم کے خلاف کریک ڈاؤن کا حصہ ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
سرکاری ترجمان راچاڈا دھناڈیرک نے منگل کو صحافیوں کو بتایا کہ سیاح معیشت کو فروغ دینے جیسے ’فوائد‘ تو لاتے ہیں لیکن موجودہ سکیم نے کچھ لوگوں کو اس کا غلط استعمال کرنے کا موقع بھی دیا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ویزا فری قیام کی مدت 30 دن ہی تھی تاہم حکومت نے سیاحت اور معیشت کو فروغ دینے کی کوششوں کے تحت جولائی 2024 میں اسے بڑھا کر 60 دن کر دیا تھا۔
تھائی لینڈ کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں سیاحت کا حصہ 10 فیصد سے زیادہ ہے لیکن اب بھی یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد وبائی مرض سے پہلے کے دور سے کم ہے۔
وزارتِ سیاحت کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 کے اسی عرصے کے مقابلے میں رواں سال کی پہلی سہ ماہی (فرسٹ کوارٹر) کے دوران غیر ملکیوں کی آمد میں قریباً 3.4 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جس میں مشرقِ وسطیٰ سے آنے والے سیاحوں کی تعداد میں تقریباً ایک تہائی کمی دیکھی گئی ہے۔
تھائی حکومت کا کہنا ہے کہ پچھلے سال ملک میں قریباً 3 کروڑ 30 لاکھ سیاح آئے تھے جبکہ اس سال تھائی لینڈ کو قریباً 3 کروڑ 35 لاکھ غیر ملکی سیاحوں کی آمد کی توقع ہے۔