Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

 بنگلہ دیش سے وائٹ واش شکست نے دو اہم سوال پیدا کر دیے: عامر خاکوانی کا تجزیہ

دوسرے ٹیسٹ میچ میں بنگلہ دیش نے پاکستان کو 78 رنز سے شکست دی: فوٹو اے ایف پی
پاکستانی ٹیم بنگلہ دیشی شہر سلہٹ میں اپنا دوسرا ٹیسٹ ہار کر سیریز میں وائٹ واش شکست سے دوچار ہوئی ہے۔ بنگلہ دیش نےمسلسل دوسری بار پاکستان کو کلین سوئپ شکست دی ہے۔
دو سال قبل یہ ہزیمت اور شرمندگی ہمیں ہوم سیریز میں اٹھانا پڑی، اس بار ہمیں بنگلہ دیش میں شکست ہوئی۔ یعنی پاکستان دو برسوں کے دوران بنگلہ دیش سے مسلسل چار ٹیسٹ میچ ہارا ہے۔ 
بنگلہ دیش وہ ٹیم تھی جسے طویل عرصہ تک پاکستان کی بی ٹیم بھی آسانی سے ہرا دیتی تھی۔ آج یہ صورتحال ہوگئی کہ حالیہ دونوں ٹیسٹ میچوں میں بنگلہ دیشی ٹیم پاکستانی ٹیم پر حاؤی رہی اور دونوں میچز اس نے آسانی سے جیت لیے۔ 
پاکستانی ٹیسٹ ٹیم کی یہ شکست کوئی عام واقعہ نہیں، دراصل یہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہمیں آنے والے  برسوں کی خوفناک اور شرمناک ہار بھی نظر آ رہی ہے۔ سوال تو بہت سے پیدا ہوئے ہیں مگر بڑی کیٹیگری میں تقسیم کریں تو دو اہم ترین سوال ہمارے سامنے ہیں، ان کےجواب نہ ڈھونڈے گئے تو ندامت، شرمندگی اور بدترین رسوائی کا ایک ختم نہ ہونے والا سلسلہ ہمیں گھیرے رکھے گا۔ 
کیا پاکستان ٹیسٹ کرکٹ کھیلنا چاہتا ہے؟
یہ وہ اہم اور بنیادی سوال ہے جس کا جواب پاکستان کرکٹ بورڈ کو دینا ہوگا۔ محسوس یہ ہوتا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ پی سی بی کی ترجیح میں شامل نہیں اور نہ ہی پاکستانی نوجوان کھلاڑی ٹیسٹ کرکٹ کو اہمیت دے رہے ہیں۔ پی سی بی کی ترجیحات میں پی ایس ایل ٹاپ پر ہے کہ اس سے کمائی ہوگی۔ وہ ون ڈے ورلڈ کپ، ٹی ٹوئنٹی کپ کے لیے بھی کچھ تیاری کرتے ہیں کہ یہ عالمی ہائی پروفائل ٹورنامنٹ ہیں۔
ٹیسٹ میچز،عالمی ٹیسٹ چیمپین شپ پی سی بی کی موجودہ مینجمنٹ کی ہرگز ترجیح نہیں۔ ویسے بھی چیئرمین کرکٹ بورڈ کا زیادہ تر وقت تو بطور وزیرداخلہ ذمہ داریاں نبھانے میں گزرتا ہے، وہ اعلیٰ قیادت کے ساتھ بیرونی دورے کرتے اور اہم اسائنمنٹس نمٹاتے ہیں۔ یہ قابل فہم کہ وزارت ہی اتنی اہم ہے۔
سوال مگر یہ ہے کہ دنیا بھر میں پاکستان واحد ملک ہے جہاں وزیر داخلہ جیسے اہم ترین ذمہ داری رکھنے والے شخص کو چیئرمین کرکٹ بورڈ بنا رکھا ہے۔ آخر کیوں؟ 
اس  کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ محسن نقوی صاحب کا کرکٹ سے معمولی سا بھی تعلق نہیں۔ وہ ڈومیسٹک کرکٹ کے مسائل بھی نہیں جانتے۔
ان کے پاس اتنا وقت بھی نہیں کہ قومی کرکٹ کے لئے لانگ ٹرم پلاننگ کر سکیں۔ وہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی کی کارکردگی کا جائزہ تک نہیں لے سکتے۔ پھر آخر وہ یہ ذمہ داری چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟حکومت اپنے ہی کسی آدمی کو چیئرمین کرکٹ بورڈ بنا دے۔ 

ٹیسٹ ٹیم کے کپتان شان مسعود بھی اپنی خراب کارکردگی کی وجہ سے تنقید کی زد میں ہیں: فوٹو اے ایف پی

بنگلہ دیش ہی کو دیکھ لیں، وہاں بھی مسائل تھے۔ نئی حکومت آئی، وزیراعظم طارق رحمان نے عالمی شہرت یافتہ سابق بنگلہ دیشی کرکٹر تمیم اقبال کو چیئرمین کرکٹ بورڈ بنا دیا۔ تمیم اقبال نےطویل عرصہ انٹرنیشنل کرکٹ کھیل رکھی ہے،وہ وہاں کی ڈومیسٹک کرکٹ کے مسائل بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔ تمیم سےبہتر چوائس اور کیا ہوگی ؟چلیں پاکستان میں کسی سابق کرکٹر کو نہ سہی ، حکمران اپنے  کسی قابل اعتماد آدمی ،کسی نان کرکٹر کو چیئرمین بنا دیں مگر وہ فل ٹائم دستیاب تو ہو۔ 
پاکستان کے نوجوان کھلاڑیوں کا خواب پی ایس ایل کی کسی ٹیم میں سلیکشن، عالمی ٹی ٹوئنٹی لیگز میں شمولیت اور ان کےساتھ پاکستان کی قومی وائٹ بال کرکٹ ٹیم کی طرف سے کھیلنا ہے۔
پی ایس ایل اور عالمی ٹی ٹوئنٹی لیگز کھیلنےسے وہ ایک سال میں کروڑوں کما لیتے ہیں، شہرت بھی مل جاتی ہے۔ قومی ٹیم کی جانب سے وائٹ بال کرکٹ کھیلنے سے اچھا سینٹرل کانٹریکٹ مل گیا، انہیں عالمی سطح پر کوریج ملی اور پھر مزید انٹرنیشنل لیگز میں اچھے کانٹریکٹ مل گئے۔ 
ٹیسٹ کرکٹ سے انہیں کچھ زیادہ ملتا ہی نہیں، کرکٹ بورڈ کی جانب سے کوئی ایسی پابندی یا دباؤ نہیں کہ ریڈ بال یعنی ٹیسٹ کرکٹ لازمی کھیلنا ہے،اس لیے وہ مزے میں ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ پاکستان میں اب ٹیسٹ کرکٹ شوق کی چیز بن گئی ہے، پیشہ ورانہ ترجیح نہیں رہی۔ 
حارث رؤف ایک اہم مثال ہے۔ وہ اچھی سپیڈ رکھنے والا فاسٹ بولر ہے جو روٹین میں 140 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ تیز باولنگ کراتا ہے۔ ریڈ بال کرکٹ میں وہ اپنی جارحیت اور سپیڈ کے باعث کامیاب ہو سکتا تھا۔
کرکٹ بورڈ نے اس کے لیے سنجیدہ کوشش یا پلاننگ ہی نہیں کی۔ اسے ڈومیسٹک ریڈ بال ٹورنامنٹ کھلانے پر مجبور کرتے تاکہ وہ ایک دن میں پندرہ سولہ اوور کرانے کی اہلیت اور سٹیمنا پیدا کرتا۔ اب حارث رؤف کو کیا پڑی ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں جان مارے اور اپنے آپ کو تھکائے۔
وہ پی ایس ایل ، بگ بیش اور کوئی ایک آدھ مزید لیگ کھیل کر آرام سے پندرہ بیس کروڑ کما لیتا ہے۔ سنٹرل کانٹریکٹ سے ملنے والے کئی کروڑ الگ سے ہیں۔ پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں، اسے ہی کہتے ہیں۔ نقصان حارث رؤف کا نہیں، نقصان تو پاکستان ٹیسٹ کرکٹ کا ہے۔ 
یہی معاملہ نسیم شاہ کا بھی ہے، وہ بھی مختلف ٹی ٹوئنٹی لیگز کھیل کر سال میں اٹھارہ بیس کروڑ کما لیتا ہے۔ قومی ٹیم کی جانب سے وہ وائٹ بال کرکٹ بھی کھیلتا ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ اس کی ترجیح ہی نہیں۔ سوال پھر یہ ہے کہ ٹیسٹ میچز میں پاکستان کی جانب سے تیز باولنگ کون کرائے؟    
شاہین شاہ آفریدی بھی خود کو دانستہ یا نادانستہ وائٹ بال کرکٹ کا بولر بنا چکا ہے۔ لے دے کر ہمارے پاس ایک سو پچیس، ستائیس کی سپیڈ وال ےمحمد عباس ہے، تھکا ہارا حسن علی یا پھر ایک سو اٹھائیس تیس کی سپیڈ سے گیند کرانے والے میر حمزہ وغیرہ۔ یہ کسی اچھی تیز، ٹاپ گرین انگلینڈ جیسی پچ پر تو شائد کچھ کر پائیں، پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، ویسٹ انڈیز، زمبابوے وغیرہ جیسی پچز پر کچھ نہیں کر سکتے۔
ایسی صورتحال میں جبکہ پی سی بی کی ترجیح ٹیسٹ کرکٹ نہیں، چئیرمین کے پاس یہ باتیں سوچنے کا وقت ہی سرے سے نہ ہو، نوجوان کھلاڑیوں کو بھی ٹیسٹ کرکٹر بننے میں دلچسپی نہ ہو تو پھر تو انتہائی تاریک منظرنامہ ہی بنے گا۔ اس وقت ایسا ہی ہے۔ 
  
کیا پاکستان میں اچھی ٹیسٹ ٹیم بن سکتی ہے؟

ہمارے پاس اس وقت اچھے ٹیسٹ سپنرز بھی نہیں۔ لے دے کر نعمان علی اور ساجد خان ہیں: فوٹو اے ایف پی

یہ ملین ڈالر سوال ہے۔ اس کا سادہ جواب ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اگر اچھی ٹیسٹ ٹیم بنانا چاہتا ہے تو اسے اس جانب انویسٹمنٹ کرنا ہوگی۔ کئی برسوں کے لئے بڑی سرمایہ کاری درکار ہے۔ اچھے ٹیسٹ کرکٹر تیار کئے جائیں اور جن کھلاڑیوں میں ٹیسٹ کرکٹ کا ٹیلنٹ ہو، انہیں بھرپور گرومنگ اور سپورٹ کے ساتھ اتنے پیسے دئیے جائیں کہ وہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کھیلے بغیر بھی خوش اور آسودہ رہیں۔ 
اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ انڈیا میں طویل عرصے تک چیتشور پجارا اور اجنکا رہانے جیسے میچور اور اچھے بلے بازوں کو صرف ٹیسٹ کرکٹ تک محدود رکھا گیا، مگر انہیں بھرپور مالی سپورٹ دی گئی تاکہ وہ صرف ٹیسٹ کرکٹ کھیل کر بھی آئی پی ایل کھلاڑیوں جتنا کما سکیں۔ یہ دنیا کے کئی ممالک میں ہو رہا ہے۔
حال ہی میں آسٹریلیا نے اپنے کپتان پیٹ کمنز کے لیے بہت بڑا پیکیج کا اعلان کیا ہے تاکہ وہ عالمی ٹی ٹوئنٹی لیگز چھوڑ کر آسٹریلین ٹیسٹ کرکٹ کے لئے دستیاب رہیں۔ یہ تین سال کے لئے بارہ ملین ڈالر کا پیکیج ہے یعنی چالیس لاکھ ڈالر سالانہ۔ یہ ذہن میں رکھیں کہ بگ باش آسٹریلوی لیگ میں اچھے عالمی کرکٹرز چار پانچ لاکھ ڈالر تک کا کانٹریکٹ لے پاتے ہیں۔ کمنز کو دس گنا زیادہ دیا جارہا ہے۔ 
پاکستان کے پاس اس وقت اچھے ٹیسٹ فاسٹ باولرز نہیں ہیں۔ ہماری بولنگ حالیہ بنگلہ دیشی سیریز میں بری طرح ایکسپوز ہوئی ہے۔ بنگلہ دیشی بلے بازوں کو ہمارے بولرز زیادہ پریشان ہی نہیں کرپائے۔ اگر ابتدا میں وکٹیں مل گئیں تو پاکستانی بولنگ اٹیک لوئر آرڈر اور ٹیل کو بروقت آوٹ نہ کرسکا، یوں بڑے سکور ہوئے۔ پاکستان کو ہمیشہ اچھی بولنگ نےمیچز جتوائے ہیں۔ اب وہ کرشمہ ساز باولرز موجود نہیں۔
اس بار واحد اچھی امید خرم شہزاد نے دلوائی۔ اس غریب کو بھی پہلا ٹیسٹ نہیں کھلایا گیا اور اوسط درجے کے میڈیم پیسر بن چکے، شاہین شاہ کو چانس دیا، جو بری طرح ناکام ہوا۔ خرم شہزاد نے دوسری ٹیسٹ میں اچھی بولنگ کرائی اور کم رنز دے کر مجموعی طور پر آٹھ وکٹیں لیں۔
اگر خرم شہزاد کو دوسری طرف سے اچھی سپورٹ مل جاتی تو شائد یہ زیادہ موثر ہوتا۔ اس وقت پاکستانی پیس اٹیک کی کارکردگی بہت بری ہے، ان سے نیچے  شائد آئرلینڈ ہے جسے دنیائے کرکٹ اچھی طرح سے جانتی بھی نہیں۔ 
ہمیں ڈومیسٹک کرکٹ میں پرفارم کرنے والے پیس باولروں کو ڈھونڈ کر گروم کرنا ہوگا۔ نوجوان فاسٹ بولرز کو ٹیسٹ کرکٹ کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ اس وقت ایک ہی بولر علی رضا 90  میل فی گھنٹہ سے زیادہ تیز باولنگ کرا سکتا ہے، اس پر ہی کام کر لیں، یہ سرمایہ بن سکتا ہے۔ ہم نےاحسان اللہ جیسا فاسٹ باولر ضائع کر دیا، اس کی انجری کے بعد ٹھیک سےخیال نہیں رکھا گیا تو وہ آج میڈیم فاسٹ باولر بن چکا، یہی عامر جمال کی انجری کے بعد ہوا۔ 
بدقسمتی کی انتہا یہ ہے کہ ہمارے پاس اس وقت اچھے ٹیسٹ سپنرز بھی نہیں۔ لے دے کر دو عمر رسیدہ تھرٹی پلس سپنر نعمان علی اور ساجد خان ہیں۔ یہ بھی پنکھوں سےخشک کر کے بنائی گئی "سپیشل" ٹرننگ پچز پر وکٹیں لے سکتے ہیں۔ بنگلہ دیش میں دونوں سپنرز ایکسپوز ہوگئے۔ 
ہمارے نوجوان سپنرز ابرار، سفیان مقیم، سعد مسعود وغیرہ ٹی ٹوئنٹی یا وائٹ بال کرکٹ کے لیے ہی تیار ہوئے ہیں۔ دراصل مسٹری سپنرز ٹیسٹ کرکٹ میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔

پاکستان کے پاس اس وقت اچھے ٹیسٹ فاسٹ باولرز نہیں ہیں: فوٹو اے ایف پی

ٹیسٹ میں اچھے سپیشلسٹ سپنرز چاہیے ہیں، بے شک وہ کنزرویٹو سپننر ہوں  یا پھر ورائٹی رکھنے والے لیگ سپنر ہوں۔ عبدالقادر، مشتاق احمد، دانش کینیریا، یاسر شاہ جیسے لیگ سپنر رکھنےوالے ملک میں آج کوئی اچھا ٹیسٹ لیگ سپنر ہی نہیں۔ سپن کے حوالے سے بھی ابھی سے کام کرنا ہوگا، اس کے اثرات اور نتائج دو تین برسوں میں سامنے آئیں گے۔ یاد رکھیں کہ ایشیائی کنڈیشنز میں وہ ٹیم کبھی بڑی ٹیسٹ ٹیم نہیں بن سکتی جس کے اسپنرز تیسرے چوتھے دن بھی مخالف ٹیم آوٹ نہ کر سکیں۔ 
سب سےبڑھ کر ہمیں اپنے ڈومیسٹک فورڈے ٹورنامنٹ قائداعظم ٹرافی کا معیار بہتر کرنا پڑے گا۔ اس ٹورنامنٹ کا برا حال ہے۔ ڈیڈ فلیٹ پچز، بری امپائرنگ، ناقص گیندیں اور اقربا پروری سے کھلائی گئی ڈومیسٹک ٹیموں کے حوالے سے عام شکایات ہیں۔ یہ سب بدلنا پڑے گا۔
آسٹریلیا کی شیفلڈ ٹرافی، انگلینڈ کی کاؤنٹی کرکٹ، انڈیا کی رانجی ٹرافی کے معیار کا ڈومیسٹک ٹورنامنٹ کرانا پڑے گا۔ تب ہی اچھے معیار والے کھلاڑی نکلیں گےجنہیں ٹف کرکٹ کھیلنے کی تربیت ہو۔ 
پاکستان اچھی ٹیسٹ ٹیم بنا سکتا ہے، عالمی ٹیسٹ چیمپین شپ میں اچھی کارکردگی دکھا سکتا ہے، اس کے لیے مگر ان دو بنیادی سوالوں کا پہلے دیانت داری سے جواب دینا ہو گا۔ 
کیا پاکستان ٹیسٹ کرکٹ کھیلنا چاہتا ہے یا اس کی یہ ترجیح نہیں؟ دوسرا سوال اس کے بعد کا ہے کہ اچھی ٹیسٹ ٹیم کیسے بنائی جائے؟
کرکٹ میں کرشمے نہیں ہوتے۔ شارٹ ٹرم پر رزلٹس بھی نہیں ملتے۔ درست سمت میں لانگ ٹرم پلاننگ کر کے محنت کی جائے تو پھر دنیا کی بہترین ٹیسٹ ٹیم بننے سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔

شیئر: