ایران: مسلح بغاوت اور ’علیحدگی پسند گروہوں‘ سے تعلق کے الزام میں دو افراد کو پھانسی
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ایران دنیا میں چین کے بعد سب سے زیادہ سزائے موت دینے والا ملک ہے (فائل فوٹو: روئٹرز)
ایران نے جمعرات کے روز دو افراد کو مبینہ طور پر مسلح بغاوت اور ’علیحدگی پسند دہشت گرد گروہوں‘ سے وابستگی کے جُرم میں پھانسی دے دی، جو مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے دوران ہونے والی پھانسیوں کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جاری تنازعے کے آغاز کے بعد سے ایران نے سزائے موت پر عمل درآمد میں اضافہ کیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان میں سے کئی افراد کو اس سال کے آغاز میں ایران بھر میں ہونے والے حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں میں شامل ہونے کے الزامات پر پھانسی دی گئی۔
ایرانی عدلیہ نے کہا ہے کہ جمعرات کو پھانسی پانے والے دونوں افراد مغربی ایران میں سکیورٹی فورسز پر مسلح حملوں اور ان کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔
عدلیہ کی ’میزان آن لائن‘ ویب سائٹ کے مطابق رامین زالہ اور کریم معروف پور کو علیحدگی پسند دہشت گرد گروہوں کی رکنیت، ملک کے امن و امان کو خراب کرنے کی نیت سے گروہ تشکیل دینے، مسلح بغاوت کے تحت مجرمانہ گروہ قائم کرنے، فائرنگ کرنے اور قتل کی کوششوں میں ملوث ہونے کے جرم میں پھانسی دی گئی۔
فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان افراد کو کب گرفتار کیا گیا تھا، تاہم عدلیہ نے کہا کہ انہیں ’بدامنی کے دوران قیادت کرنے‘ کی تربیت دی گئی تھی۔
انسانی حقوق کی تنظیموں جیسے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ایران دنیا میں چین کے بعد سب سے زیادہ سزائے موت دینے والا ملک ہے۔
جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران نے متعدد افراد کو مبینہ جاسوسی یا سکیورٹی سے متعلق الزامات پر پھانسی دی ہے۔
رواں ماہ کے آغاز میں بھی ایران نے ایک شخص کو اسرائیلی انٹیلی جنس کو معلومات فراہم کرنے کے جُرم میں پھانسی دی تھی۔ اس سے پہلے ایک ایروسپیس انجینیئرنگ کے طالب علم کو بھی اسی الزام پر سزائے موت دی جا چکی ہے۔
