Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران جنگ کے متاثرین کیلئے دبئی کا 408 ملین ڈالر کا معاشی پیکج: کن شعبوں کو ملیں گی چھوٹ اور رعایتیں؟

مارچ میں دبئی کے حکام نے کاروبار اور خاندانوں کی مدد کے لیے 270 ملین ڈالر کے پہلے پیکج کا اعلان کیا تھا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور آبنائے ہرمز میں ایران کی ناکہ بندی کے باعث کاروباری اداروں کو درپیش مشکلات کے پیشِ نظر، دبئی حکومت نے جمعرات کو 400 ملین ڈالر سے زائد مالیت کے معاشی مراعات کے پیکج کا اعلان کیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف کے مطابق دبئی حکومت کے میڈیا آفس نے ایکس  پر جاری بیان میں کہا کہ ’1.5 ارب درہم (408 ملین ڈالر) مالیت کے دوسرے معاشی مراعات کے پیکج کی منظوری دے دی گئی ہے۔‘
ان مراعات میں ہوٹلوں اور ریستورانوں کے لیے بلدیاتی فیسوں میں چھوٹ، کسٹمز خلاف ورزیوں پر جرمانوں میں کمی، اور سول ایوی ایشن کے پرمٹ فیسوں میں رعایت شامل ہے۔
میڈیا آفس کے مطابق، ’دو ماہ سے کم عرصے میں متعارف کرائی گئی مراعات کی مجموعی مالیت اب 2.5 ارب درہم (680 ملین ڈالر) تک پہنچ گئی ہے۔‘
مارچ کے آخر میں دبئی کے حکام نے کاروبار اور خاندانوں کی مدد کے لیے 270 ملین ڈالر سے زائد مالیت کے پہلے پیکج کا اعلان کیا تھا۔
جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات ایران کے حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوا، کیونکہ تہران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں خلیجی خطے میں ڈرونز اور میزائل داغے تھے۔
یہ حملے امریکی تنصیبات کے ساتھ ساتھ اہم معاشی انفراسٹرکچر، بشمول توانائی کی تنصیبات، بندرگاہوں، ہوائی اڈوں اور رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بناتے رہے۔
اگرچہ زیادہ تر حملے ناکام بنا دیے گئے، تاہم ان حملوں نے خلیجی خطے میں کاروباری استحکام کے تاثر کو شدید متاثر کیا۔
آبنائے ہرمز کی ایران کی جانب سے ناکہ بندی کے سبب خلیجی معیشتوں پر مسلسل دباؤ بڑھ رہا ہے۔

شیئر: