پہلے گوادر اب چاغی، معدنی منصوبوں پر مسلسل حملے، حکومت کی نئی حکمت عملی؟
پہلے گوادر اب چاغی، معدنی منصوبوں پر مسلسل حملے، حکومت کی نئی حکمت عملی؟
جمعہ 22 مئی 2026 5:18
زین الدین احمد -اردو نیوز، کوئٹہ
دو دہائیوں سے جاری شورش میں اس سے پہلے چاغی عسکریت پسندی کا کبھی بڑا ہدف نہیں تھا (فوٹو: آر ڈی ایم سی)
’پہلے ہم صرف رات کو سفر کرنے سے کتراتے تھے مگر اب دن میں بھی سفر کرنے سے ڈر لگتا ہے۔‘
یہ کہنا ہے غلام نبی (تبدیل شدہ نام) کا جو ضلع چاغی کے رہائشی ہیں اور کوئٹہ میں ملازمت کرتے ہیں۔ وہ ہر ہفتے اپنے گھر اہل خانہ سے ملنے جاتے تھے مگر ان کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے میں حالات نے ان کا معمول بری طرح متاثر کر دیا ہے اور ایک ماہ میں صرف ایک بار اپنے گھر جاچکے ہیں۔
غلام نبی کے مطابق چاغی ، نوشکی ، مستونگ اور گرد و نواح میں مسلح افراد کی ناکہ بندیوں اور سکیورٹی خدشات کے باعث شاہراہ این 40 پر سفر غیر یقینی ہو گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ مسافر گاڑیاں پٹرول پمپس یا ہوٹلوں کے قریب گھنٹوں پھنس جاتی ہیں اور رات آٹھ بجے کے بعد شاہراہ پر تقریباً کرفیو جیسی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ اس شاہراہ پر اب سفر کرتے ہوئے خوف محسوس ہوتا ہے۔
بلوچستان کے ضلع چاغی، نوشکی اور گرد و نواح میں حالیہ مہینوں کے دوران سکیورٹی صورتحال میں بگاڑ نے اہم شاہراہ این-40 صرف مقامی آبادی کی ہی روزمرہ نقل و حرکت کو متاثر نہیں کیا بلکہ ان بڑے معدنی منصوبوں کو پر بھی اثر ڈالا ہے جس پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔
کوئٹہ سے افغانستان اور ایران کی سرحد کے قریب تفتان تک جانے والی تقریباً ساڑھے چھ سو کلومیٹر طویل این-40 شاہراہ خطے کی اہم ترین رابطہ سڑک سمجھی جاتی ہے مگر اب یہ پہلے سے کہیں زیادہ غیر محفوظ ہو چکی ہے۔
یہ چاغی کو بلوچستان اور ملک کے مرکزی شہروں سے جوڑتی ہے جو پاکستان کے مغربی سرے پر ایران اور افغانستان کے درمیان واقع ضلع ہے اور دنیا کے ان خطوں میں شمار ہوتا ہے جہاں تانبے اور سونے سمیت قیمتی معدنیات کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔ ریکوڈک اور سینڈک جیسے بڑے منصوبے اسی علاقے میں واقع ہیں جہاں غیر ملکی کمپنیوں نے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔
چاغی اور اس کے گرد و نواح میں سکیورٹی صورتحال گزشتہ کچھ عرصے میں کئی بڑے واقعات کے باعث مزید پیچیدہ ہوئی ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
گزشتہ چند مہینوں کے دوران معدنی منصوبوں، ان سے منسلک کمپنیوں، ان کے ملازمین پر حملوں اور مال سپلائی کرنےوالی بڑی گاڑیوں کو نشانہ بنانے کے کئی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جس کی ان منصوبوں پر کام کرنے والے ملازمین عدم تحفظ اور خوف کا شکار ہے بلکہ ان منصوبوں سے جڑی سپلائی چین شدید دباؤ میں ہے۔ مال بردار ٹرک مالکان نے مسلسل حملوں اور عدم تحفظ کی وجہ سے معدنیات کی ترسیل سے انکار کر دیا ہے۔ اس صورتحال نے حکومت کو نئی حکمت عملی اختیار کرنے پر مجبور کردیا ہے۔
جمعرات 21 مئی کو چاغی کے علاقے دالبندین سے تقریباً 70 کلومیٹر دور چھتر سیاہ چنگ کے علاقے سے تین افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ یہ افراد ایک غیر ملکی کمپنی کے وہ ملازمین تھے جنہیں ایک ہفتہ قبل اغوا کیا گیا تھا۔ ان کا تعلق پنجاب کے ضلع سرگودھا اور چینوٹ سے بتایا جاتا ہے۔
تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اب تک لاشوں کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ دالبندین کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر لونگ خان نے بتایا کہ تینوں افراد کو گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔ ان کی لاشیں تین سے چار روز پرانی ہونے کی وجہ سے ستر فیصد سے زائد گل سڑ گئی تھیں اور ناقابل شناخت تھیں اس لیے انہیں مزید کارروائی کے لیے کوئٹہ بھیج دیا گیا۔
اس واقعے سے صرف دو روز قبل بھی ریکوڈک منصوبے پر کام کرنے والی ایک ذیلی کمپنی کے 17 ملازمین کے مبینہ اغوا کی اطلاع سامنے آئی تھی۔ حکام نے اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی تاہم مقامی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ این-40 شاہراہ پر نوشکی کے علاقے مل کے قریب اس وقت پیش آیا جب ملازمین چاغی سے کوئٹہ جارہے تھے۔
چاغی اور اس کے گرد و نواح میں سکیورٹی صورتحال گزشتہ کچھ عرصے میں کئی بڑے واقعات کے باعث مزید پیچیدہ ہوئی ہے۔ دسمبر 2025 میں نوکنڈی میں فرنٹیئر کور کے ہیڈکوارٹرز پر خودکش حملہ کیا گیا۔ یہ علاقہ معدنی منصوبوں کے حوالے سے اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ ریکوڈک منصوبے کے دفاتر اور مائننگ سائٹس اسی کے قریب واقع ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے معدنی منصوبوں اور سرمایہ کاری کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اضافی اقدامات کی ہدایت کی۔ (فوٹو: آر ڈی ایم سی)
اس کے بعد 31 جنوری 2026 کو صوبے کے مختلف شہروں میں بیک وقت حملوں کے دوران چاغی کے ضلعی ہیڈکوارٹرز دالبندین میں بھی ایف سی کے مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔ اسی دوران نوشکی میں بھی کئی روز تک جھڑپوں جاری رہیں جس کے باعث این-40 شاہراہ تقریباً ایک ہفتے تک بند رہی۔
چاغی اور نوشکی کو ایران اور کوئٹہ سے جوڑنے والے ریلوے لائن اور پلوں کو بھی متعدد بار دھماکوں سے اڑایا گیا جس کی وجہ سے شاہراہ پر آمدو رفت متاثر رہی۔
اسی طرح اپریل 2026 میں چاغی کے علاقے دریگون میں سونے اور تانبے کے ایک مائننگ سائٹ پر درجنوں مسلح افراد نے سکیورٹی حصار توڑ کر منظم حملہ کیا جس میں پاکستانی مائننگ کمپنی این آر ایل کے دس ملازمین ہلاک ہوئے۔ ان میں پاکستانی ماہرین کے علاوہ ایک ترک باشندہ بھی شامل تھا۔
ان واقعات کے ساتھ ساتھ معدنیات کی ترسیل سے وابستہ ٹرکوں پر بھی حملوں میں اضافہ دیکھا گیا جس کے بعد جس کے بعد ٹرک مالکان نے معدنیات کی ترسیل روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بلوچستان گڈز ٹرک اونرز ایسوسی ایشن کے صدر حاجی نور محمد شاہوانی نے اردو نیوز کو بتایا کہ صوبے کی شاہراہوں خاص کر این 40 شاہراہ پر سکیورٹی نہ ہونے کے برابر ہے۔ صرف ایک ہفتے کے اندر ہمارے بارہ ٹرکوں پر حملے ہوئے، آٹھ مکمل طور پر ناکارہ ہو گئے اور کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔
ان کے مطابق پہلے روزانہ دو سے اڑھائی سو ٹرک معدنیات لے جاتے تھے مگر اب یہ سلسلہ بند ہو گیا ہے۔
چاغی میں جاری ریکوڈک منصوبہ دنیا کے بڑے تانبے اور سونے کے ذخائر میں شمار کیا جاتا ہے۔ (فوٹو: آر ڈی ایم سی)
چاغی میں کام کرنے والی ایک غیر ملکی کمپنی کے لیے خدمات انجام دینے والے ایک ٹرانسپورٹر کے مطابق ’پہلے ہم ایک ہفتے میں چاغی سے خام مال کراچی پہنچا دیتے تھے، اب تین سے چار ہفتے لگ جاتے ہیں۔ راستے میں کئی بار قافلے روک دیے جاتے ہیں اور بعض اوقات دنوں تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔‘
بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر حکومت نے بھی سکیورٹی اقدامات سخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وفاقی حکومت نے چاغی، نوشکی اور خاران پر مشتمل رخشان ڈویژن میں فرنٹیئر کور کے نئے کمانڈ ڈھانچے کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس سلسلے میں منگل کو آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے ہمراہ کوئٹہ کا دورہ کیا اور اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں معدنی منصوبوں اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کے لیے اہم فیصلے کیے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے معدنی منصوبوں اور سرمایہ کاری کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اضافی اقدامات کی ہدایت کی تاکہ معدنی وسائل کے تحفظ کے لیے ایک مربوط سکیورٹی راہداری قائم کی جا سکے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں محفوظ ماحول کے بغیر معدنی منصوبوں پر کام کرنے والی کمپنیوں کا اعتماد برقرار رکھنا ممکن نہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ نئے سکیورٹی منصوبے کے تحت ایف سی کا نیا ہیڈ کوارٹرز بنا کر نئی بھرتیاں اورایف سی کے نئے ونگز قائم کیے جائیں گے، شاہراہوں پر چیک پوسٹوں کی تعداد اور نگرانی کا مربوط نظام قائم کیا جائے گا۔ خاص کر چاغی سے کوئٹہ تک این 40 شاہراہ پر سفر اور نقل و حرکت کو محفوظ بنانے پر توجہ دی جائے گی۔ اسی طرح مائننگ سائیٹس کی سکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے بھی حکمت عملی بنائی جا رہی ہے۔
بابر یوسفزئی کے مطابق این-40 شاہراہ علاقے کے عوام کی نقل و حرکت اور معدنیات کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ (فوٹو: فیس بک)
محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کے مطابق رخشان ڈویژن میں ایف سی کے نئے ہیڈ کوارٹرز کے قیام کی منظوری پہلے ہی دی گئی تھی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں عمل درآمد تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت اب بلوچستان میں پیرا ملٹری فورس (ایف سی ) کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے جو پہلے دو حصوں نارتھ اور ساؤتھ میں تقسیم تھی۔
خیال رہے کہ ایف سی نارتھ کوئٹہ اور صوبے کے زیادہ تر ان شمالی اضلاع کی سکیورٹی کو دیکھتی ہے جس کی سرحدیں افغانستان سے لگتی ہیں اس کا ہیڈ کوارٹر کوئٹہ جبکہ ایف سی ساؤتھ مکران سمیت ایران سے ملحقہ علاقوں اور چاغی تک کے علاقوں کی سکیورٹی سنبھالتی تھی تاہم اس کا ہیڈ کوارٹر چاغی سے تقریباً سات سو کلومیٹر دور تربت میں تھا۔
بابر یوسفزئی کا کہنا ہے کہ نیا کمانڈ سٹرکچر ایف سی ویسٹ کہلائے گا جس کا ہیڈکوارٹرز دالبندین یا خاران میں قائم ہوگا۔ اس اقدام سے کمانڈ اینڈ کنٹرول مضبوط ہوگا اور چاغی سمیت مغربی اضلاع میں سکیورٹی بہتر بنائی جا سکے گی۔
بابر یوسفزئی کے مطابق این-40 شاہراہ علاقے کے عوام کی نقل و حرکت اور معدنیات کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے اس لیے یہاں چیک پوسٹس، پٹرولنگ اور سرویلنس نظام کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ایف سی کے نئے ہیڈکوارٹرز کا قیام اسی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد ایک محفوظ سکیورٹی کوریڈور قائم کرنا ہے۔
دوسری جانب سرکاری ذرائع کے مطابق رخشان ڈویژن کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ صوبائی کابینہ نے اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے ایک روز قبل پیر کو چاغی کو تقسیم کرکے تفتان کے نام سے نیا ضلع بنانے کی منظوری دی ہے۔
ماشکیل کو واشک سے الگ کرکے نئے ضلع تفتان میں شامل کیا جائے گا جبکہ نوکنڈی بھی اس ضلع کا حصہ ہوگا۔
چاغی میں جاری ریکوڈک منصوبہ دنیا کے بڑے تانبے اور سونے کے ذخائر میں شمار کیا جاتا ہے۔ اندازوں کے مطابق اس منصوبے میں تقریباً 60 ارب ڈالر کے معدنی ذخائر موجود ہیں۔
عالمی ثالثی عدالت میں بڑے تنازع کے بعد 2022 میں پاکستان اور بیرک کمپنی کے درمیان نیا معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت منصوبے کو دوبارہ شروع کیا گیا۔ بیرک کمپنی نے پہلے مرحلے میں 6 ارب ڈالرز اور دوسرے مرحلے میں 3.6 ارب ڈالر سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا۔ امریکہ سمیت کئی دیگر ممالک نے بھی اس منصوبے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔
مال بردار ٹرک مالکان نے مسلسل حملوں اور عدم تحفظ کی وجہ سے معدنیات کی ترسیل سے انکار کر دیا ہے۔ (فوٹو: ایکس)
اس منصوبے سے سونے اور تانبے کی پیداوار 2028 میں شروع ہونا تھی تاہم دسمبر 2025 کے نوکنڈی حملے اور 31 جنوری کے حملوں کے بعد کمپنی نے ایک سال تک صورتحال کا دوبارہ جائزہ لینے اور ترقیاتی منصوبوں کی رفتار سست کرنے کا اعلان کیا ہے۔
چاغی سے تعلق رکھنے والے صحافی علی رضا، جو مائننگ سیکٹر کے کمیونیکیشن شعبے سے بھی وابستہ رہے ہیں، کہتے ہیں کہ اگر صورتحال اسی طرح رہی تو 2028 میں ریکوڈک سے سونے اور تانبے کی پیداوار شروع ہونے کا ہدف پورا نہیں ہو سکے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی غیر ملکی کمپنیوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف نقل و حرکت متاثر ہوئی ہے کمپنیوں نے اپنے ملازمین کی سرگرمیاں محدود کردی ہیں اور انہیں سڑک کے ذریعے سفر کرنے سے روک دیا ہے۔ ضروری عملے کو ہوائی راستے سے لایا لے جایا جاتا ہے۔ ریکوڈک پر کام کرنےوالی کمپنی نے نئی تعمیرات اور بھرتیوں کی رفتار بھی بہت کم کر دی ہے۔
علی رضا کے مطابق ایسی بڑی کمپنیوں کو سرمایہ فراہم کرنے والے مالیاتی اداروں کا دباؤ ہوتا ہے جو اپنے سرمایہ کے تحفظ کی ضمانت مانگتے ہیں اس وجہ سے کمپنیاں کام تیز کرنے کی خواہش کے باوجود اپنی سرگرمیاں محدود کرنے پر مجبور ہوئی ہیں۔
علی رضا کے مطابق دو دہائیوں سے جاری شورش میں اس سے پہلے چاغی عسکریت پسندی کا کبھی بڑا ہدف نہیں تھا لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ بلوچ مسلح تنظیموں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی ہے اور معدنی منصوبے نشانے پر آ گئے ہیں۔ جس طرح پہلے ان کا ہدف گوادر پورٹ تھا اب ریکوڈک سب سے بڑا ہدف معلوم ہوتا ہے۔
بلوچ مسلح گروہ معدنی منصوبوں کو بلوچستان کے وسائل کا استحصال قرار دیتی ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ان کے بقول شاید یہی وجہ ہے کہ 31 جنوری کے منظم حملوں میں چاغی اور نوشکی کو خاص طور پر ہدف بنایا گیا جس کے بعد کئی دن تک این-40 مکمل طور پر بند رہی جو معدنیات سے مالا مال اس خطے کو صوبے اور ملک کے مرکزی سے جوڑتی ہے اور خام مال کی ترسیل کا سب سے اہم راستہ ہے۔
بلوچ مسلح گروہ معدنی منصوبوں کو بلوچستان کے وسائل کا استحصال قرار دیتی ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے حاصل ہونے والی آمدن مقامی لوگوں پر خرچ نہیں ہوتی۔ تاہم حکومتی ترجمان بابر یوسفزئی کا کہنا ہے کہ اربوں ڈالر کے اس منصوبوں کا بنیادی مقصد ملکی معیشت کی بہتری کے ساتھ ساتھ اس سے حاصل ہونے والی آمدنی سے مقامی لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانا ہے۔
ان کے بقول ان منصوبوں سے ہزاروں مقامی نوجوانوں کو روزگار ملا ہے اور پیداوار شروع ہونے کے بعد علاقے میں مزید ترقی اور خوشحالی آئے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ دہشت گرد عناصر نہیں چاہتے کہ مقامی لوگوں کی زندگی بہتر ہو اس لیے وہ ترقیاتی اور معدنی منصوبوں میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔
علی رضا کا کہنا ہے کہ حکومت نے ایف سی کی تعیناتی سمیت سخت سکیورٹی اقدامات کا اعلان کمپنیوں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے اٹھائے ہیں۔ اگرچہ ان اقدامات سے سکیورٹی صورتحال میں کچھ بہتری آجائے گی مگر دیرپا استحکام کے لیے صرف سکیورٹی اقدامات کافی نہیں ہوں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ معدنی وسائل سے مالا مال چاغی میں آج بھی بہت سے لوگوں کا انحصار ایرانی تیل کی سمگلنگ پر ہے۔ حکومت کو پانی، تعلیم، صحت اور روزگار جیسے مقامی آبادی کو درپیش بنیادی مسائل کے حل پر بھی توجہ دینا ہوگی۔