Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی وزیر داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نایف کا حج سکیورٹی فورسز کی تیاریوں کا جائزہ

مناسک کے دوران کسی بھی طرح کے خلل ڈالنے والوں کے خلاف بھرپور انداز میں کارروائی کی جائے گی (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی وزیر داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نایف نے جمعرات کو حج کے لیے منظور شدہ فیلڈ اور آرگنائزیشنل منصوبوں کو نافذ کرنے کے لیے حج سکیورٹی فورسز کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق مکہ میں ہونے والی تقریب میں شہزادہ عبدالعزیز نے شرکت کی جو سپریم حج کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں۔
اس تقریب میں کئی سکیورٹی اور فیلڈ مشقیں شامل تھیں جن کے ذریعے شریک فورسز کی تیاری اور عملی صلاحیتوں کو اجاگر کیا گیا جبکہ سکیورٹی گاڑیوں، حج کے دوران استعمال ہونے والی جدید ٹیکنالوجی، سکیورٹی ایوی ایشن اور فیلڈ سپورٹ گاڑیوں کا بھی مظاہرہ کیا گیا۔
پبلک سکیورٹی کے ڈائریکٹر اور حج سکیورٹی کمیٹی کے چیئرمین محمد البسامی نے اپنے خطاب میں کہا کہ سعودی قیادت نے عازمین حج کی خدمت کے لیے تمام وسائل اور صلاحیتیں بروئے کار لائی ہوئی ہیں۔
انہوں نے  مزید کہا کہ ’یہ کوشش مملکت کو کراؤڈ مینیجمنٹ کے لیے عالمی ماڈل کے طور پر سامنے لاتی ہے اور اس سے انتظامی اور آسان نقل و حرکت کا اعلیٰ ترین لیول حاصل ہوتا ہے جس سے عازمین مناسک حج محفوظ اور پرسکون ماحول میں ادا کر سکتے ہیں۔‘

اس تقریب میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے فرضی مشقیں پیش کی گئیں (فوٹو: ایس پی اے)

البسامی نے مزید کہا کہ حج سکیورٹی فورسز نے گزشتہ برسوں کے تجربات اور اسباق کی روشنی میں اس سیزن میں اپنی ڈیوٹی جامع سکیورٹی اور حفاظتی پلان کے تحت سنبھال لی ہے۔
اس پلان میں مکہ، مقدس مقامات، مدینہ اور عازمین کی جانب سے استعمال کیے جانے والے تمام راستوں پر حفاظت اور سکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔

اس پلان میں مکہ، مقدس مقامات، مدینہ اور عازمین کی حفاظت اور سکیورٹی کو یقینی بنانا ہے (فوٹو: ایس پی اے)

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سکیورٹی حکام حج کو سیاسی رنگ دینے، عازمین کی سکیورٹی کو خراب کرنے اور مناسک کے دوران کسی بھی طرح کے خلل ڈالنے والوں کے خلاف بھرپور انداز میں کارروائی کریں گے۔
انہوں نے حج سکیورٹی فورسز کی جانب سے منظور شدہ پلان پر مکمل تیاری کی یقین دہانی کروائی۔ اس تقریب میں سپریم حج کمیٹی، سکیورٹی اور ملٹری کمانڈرز اور کئی سینیئر اہلکار شامل تھے۔

 

شیئر: