Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پشاور سے 11 سالہ حرم سعید کا اغوا، ’کوئی ماں اپنی پھول جیسی بیٹی فروخت نہیں کر سکتی‘

خاتون کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کا ان کے سامنے نکاح کروایا گیا اور ان کی ویڈیو بھی بنائی گئی
گذشتہ کئی روز سے لاپتا ہونے والی 11 سال کی حرم سعید نے جب اغوا کاروں کے فون کے ذریعے اپنی ماں سے کہا کہ ’امی، یہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے مار کر دریا میں پھینک دیں گے‘ تو اس وقت خوف میں مبتلا والدہ کے ذہن میں پولیس سے مدد حاصل کرنے کا خیال تک نہیں آیا۔ انہوں نے یہ خیال بھی نہ کیا کہ وہ کس خطرے کی طرف جا رہی ہیں۔
وہ رات کے کسی پہر سندھ کے شہر شکارپور کے کچے کے علاقے کی طرف جاتی ایک ویگن میں سوار بار بار اپنے فون کی سکرین پر دیکھ رہی تھیں۔
دوسری طرف ان کی 11 سالہ بیٹی کی کانپتی ہوئی آواز ان کے کانوں میں گونج رہی تھی کہ ’امی جلدی آئیں… یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ مجھے مار کر دریا میں پھینک دیں گے۔‘
یہ کہانی صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے دلازاک روڈ پر رہنے والے ایک ایسے خاندان کی ہے جس کی زندگی 28 مارچ کی شام اچانک بدل گئی۔
کائنات سعید (فرضی نام) نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ان کا بنیادی تعلق مردان سے ہے جبکہ اس وقت وہ پشاور میں رہائش پذیر ہیں۔‘
وہ بتاتی ہیں، ’میرے چار بچے ہیں، ایک بیٹا اور تین بیٹیاں۔ دو بیٹیوں کی شادی ہو چکی ہے جبکہ بیٹا 15 سال کا ہے۔‘
ان کے شوہر کراچی کے علاقے مومن آباد میں پرچون کی دکان چلاتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ’وہ 28 مارچ 2026 کو اپنی بڑی بیٹی کے ہاں گئی تھیں۔‘
انہوں نے اس حوالے سے کہا کہ ’میری بڑی بیٹی امید سے تھی۔ میں ان کے ساتھ ہسپتال میں تھی۔ بچے کی پیدائش کے بعد میں ان کے ساتھ ان کے گھر بھی گئی۔ میری چھوٹی بیٹی حرم گھر پر اکیلی تھی۔ بدقسمتی یہ ہوئی کہ میں ہمیشہ دروازہ باہر سے لاک کر کے جاتی ہوں لیکن اس دن بھول گئی۔‘
ان کے مطابق وہ جب شام کو گھر واپس آئیں تو دروازہ باہر سے بند تھا جبکہ گھر پر ان کی بیٹی موجود نہیں تھی۔
کائنات سعید کے مطابق انہوں نے آس پاس اپنی بیٹی کو ڈھونڈا اور پڑوسیوں سے بھی پوچھا لیکن کوئی معلومات نہیں ملیں جس پر انہوں نے اس بارے میں پڑوسیوں سے پوچھا۔
ان کا اس دن کے حوالے سے کہنا تھا کہ ’میں نے پڑوسیوں سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ حرم کہہ رہی تھی اسے بھوک لگی ہے وہ بریانی لینے جا رہی ہے۔‘
یوں ابتدا میں خاندان نے یہ سمجھا کہ وہ شاید کسی رشتہ دار کے ہاں گئی ہوگی لیکن کئی گھنٹے گزرنے کے بعد تشویش بڑھنے لگی۔
انہوں نے کراچی میں مقیم اپنے شوہر کو آگاہ کیا۔ اگلے روز وہ پشاور کے لیے نکلے۔ کائنات سعید دعویٰ کرتی ہیں کہ دو روز بعد انہیں ایک نامعلوم نمبر سے کال موصول ہوئی اور انہیں بتایا گیا کہ ان کی بیٹی مبینہ طور پر اغوا کر لی گئی ہے اور اس وقت سکھر میں ہے۔

 شکارپور کے کچے کے علاقے رستم میں 11 سالہ مغوی بچی کی بازیابی کے لیے پولیس کا آپریشن جاری ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

مجھے فون پر یہی اطلاع دی گئی اور فون بند ہوگیا۔ پھر دوبارہ کال آئی تو اغوا کاروں نے بتایا کہ 30 لاکھ روپے دے کر اپنی بیٹی لے جائیں۔
یہ خاندان متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہے۔کائنات کہتی ہیں کہ ’ان کے لیے اس قدر رقم کا بندوبست کرنے کا تصور کرنا بھی ممکن نہیں تھا۔‘
انہوں نے اغواکاروں کے مبینہ مطالبے پر رقم جمع کرنے سے متعلق کہا کہ ’ہم نے 30 لاکھ کی بجائے 15 لاکھ روپے دینے کا کہا۔ میں نے زیورات بیچ دیے جبکہ اپنے والد سے بھی قرض لیا۔ میرے شوہر نے اپنے بھائی سے قرض لیا۔ اس طرح 14 لاکھ 70 ہزار روپے جمع ہوئے۔‘
ان کے مطابق اغوا کار 15 لاکھ روپے لینے پر راضی ہوگئے تھے۔ کائنات اپنے شوہر اور بیٹے کے ہمراہ سکھر پہنچیں تو مبینہ طور پر اغوا کاروں نے ان کو ہدایات دینا شروع کر دیں۔ پہلے انہیں بتایا گیا کہ وہ ایک بائی پاس پر اتر جائیں جس کے بعد انہیں شوہر اور بیٹے کے بغیر ویگن میں نواب شاہ آنے کے لیے کہا گیا۔
کائنات بتاتی ہیں کہ ’ان کے شوہر بار بار پولیس کو اطلاع دینے کا کہتے رہے لیکن وہ خوف زدہ تھیں۔‘
اس حوالے سے ان کا مؤقف ہے کہ ’میری بیٹی فون پر رو رہی تھی۔ کہہ رہی تھی امی یہ لوگ مجھے مار دیں گے۔ میں نے اپنے شوہر سے کہا میری بیٹی کو اگر کچھ ہوا تو ذمہ دار آپ ہوں گے۔‘
وہ سکھر سے ویگن میں سوار ہو کر کچھ فاصلے پر ایک پیٹرول پمپ پر اُتر گئیں۔ اغوا کاروں نے اس مقام کے بارے میں فون پر مبینہ طور پر خود خاتون کے ڈرائیور کو بتایا تھا۔ 
کائنات کی پیٹرول پمپ پر ایک موٹرسائیکل سوار شخص سے ملاقات ہوئی جنہوں نے بتایا کہ ان کی بیٹی ان کے پاس ہیں۔
کائنات کے مطابق، میں اس شخص کے ساتھ روانہ ہوئی اور اسی دوران اپنی لوکیشن شوہر کو بھیج دی۔
خاتون کے مطابق اس کے بعد انہیں ایک ویران مقام پر واقع گھر لے جایا گیا۔
ان کا اس گھر کے حوالے سے دعویٰ ہے کہ ’وہاں ایک بھینس کھڑی تھی اور ایک چارپائی پڑی تھی۔ انہوں نے مجھ سے پیسے لیے اور کہا آپ کی بیٹی لا رہے ہیں لیکن کچھ دیر بعد صورتِ حال بدل گئی۔ میں نے شور مچایا کہ میری بیٹی کہاں ہے؟ تو انہوں نے مجھے اندر بند کر دیا۔‘

بچی کی والدہ بتاتی ہیں کہ ان کے شوہر بار بار پولیس کو اطلاع دینے کا کہتے رہے لیکن وہ خوف زدہ تھیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

وہ دعویٰ کرتی ہیں کہ ’اگلے 8 روز تک اُن پر تشدد ہوتا رہا۔ میرا جسم سگریٹوں سے جلاتے۔ گرم چھری جسم پر رکھتے تھے۔ 8 روز کے دوران گھر میں مختلف لوگ آتے رہے۔ 8 روز گزرنے کے بعد پہلی مرتبہ میری بات میری بیٹی سے کروائی گئی۔‘
خاتون کے مطابق انہیں بتایا گیا کہ اب انہیں ان کی بیٹی کے پاس لے جایا جا رہا ہے۔ مبینہ طور پر انہیں فون بھی واپس کر دیا گیا جس پر انہوں نے اپنے شوہر کو اطلاع دی اور بتایا کہ انہیں شاید بیٹی کے پاس لے جایا جا رہا ہے۔
خاتون کے مطابق تین گھنٹے کے سفر کے بعد وہ شکارپور کے کچے کے علاقے میں پہنچیں۔
’یہ جنگل جیسا علاقہ تھا۔ کانٹوں سے ایک عارضی جگہ بنائی گئی تھی۔ وہاں میں نے اپنی بیٹی کو دیکھا تو مجھے تسلی ہوئی۔ میں نے اسے گلے لگا لیا۔‘
خاتون کا کہنا ہے کہ ’ان کی بیٹی کا ان کے سامنے نکاح کروایا گیا اور ان کی ویڈیو بھی بنائی گئی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’میں نے شوہر کو بتایا تو انہوں نے کہا کسی طرح وہاں سے نکل آؤ۔ ایک ڈاکو نے کہا کہ تمہاری بیٹی کے بدلے میں نے 8 لاکھ روپے دیے ہیں اب اسے ایسے کیسے جانے دیں؟‘
وہ کہتی ہیں کہ ’میں یہ سن کر چیخی چلائی لیکن مجھ پر تشدد کیا جاتا رہا۔ میری بیٹی کہتی امی خاموش رہیں، یہ بہت مارتے ہیں۔‘
ان کے مطابق اغوا کاروں نے ایک مرتبہ پھر 15 لاکھ روپے مانگے اور اُنہیں واپس بھیج دیا، جس کے بعد وہ مبینہ طور پر سکھر تھانے پہنچ گئیں۔
یہ معاملہ اس دوران سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا۔ کچھ صارفین نے دعویٰ کیا کہ ماں نے مبینہ طور پر خود اپنی بیٹی کو فروخت کیا ہے تاہم خاتون ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتی ہیں۔
ان کا اس حوالے سے کہنا ہے ’میری بیٹی بازیاب ہونے کے بعد تفتیش کر لیجیے گا۔ کوئی ماں اپنی پھول جیسی بیٹی کو فروخت نہیں کر سکتی۔ لوگ کہانیاں بنا رہے ہیں۔‘
دوسری جانب شکارپور کے کچے کے علاقے رستم میں 11 سالہ مغوی بچی کی بازیابی کے لیے پولیس کا آپریشن جاری ہے جبکہ کارروائی کے دوران ایک ملزم زخمی ہوگیا اور اس کے ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

ایمل ولی خان نے کہا کہ انہوں نے ایک بے بس ماں کی فریاد پر سندھ حکومت سے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا (فوٹو: اے این پی)

ایس ایس پی شکارپور کلیم ملک کے مطابق کچے کے علاقے میں ڈاکوئوں کے دودانی، مصرانی اور جتوئی گروہوں کے خلاف آپریشن کیا جا رہا ہے، جس کے دوران ان کے متعدد ٹھکانے مسمار کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’زخمی ملزم کی تلاش اور فرار ملزموں کے تعاقب کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔‘
خاتون کے مطابق آج انہیں اطلاع دی گئی ہے کہ بچی بازیاب ہو گئی ہے اور بعض مشتبہ افراد کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔
حرم کی والدہ کائنات سعید نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ہمیں ایس ایس پی شکارپور نے بلایا ہے۔ کہا گیا ہے کہ کل رات کچھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔‘
یہ واقعہ سیاسی حلقوں میں بھی زیر بحث آیا۔ عوامی نیشنل پارٹی کے صدر ایمل ولی خان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے ’ایک بے بس ماں کی فریاد‘ سنی اور سندھ حکومت سے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے بعد میں سوشل میڈیا پر لکھا کہ کچھ لوگ ’اس افسوس ناک واقعے کو غلط رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ توجہ بچی کی بازیابی پر ہونی چاہیے۔‘

شیئر: