بلوچستان کا انتظامی نقشہ تبدیل: قلات ڈویژن تقسیم، لسبیلہ نیا ڈویژن اور خضدار نیا ہیڈکوارٹر بن گیا
جمعہ 22 مئی 2026 11:27
زین الدین احمد -اردو نیوز، کوئٹہ
وزیراعلیٰ نے اپر اور لوئر ڈیرہ بگٹی کے نام بھی ایسٹ اور ویسٹ ڈیرہ بگٹی کے نام سے بدلنے کی تجویز دی (فائل فوٹو: پاکستان ٹورزم)
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کابینہ نے صوبے میں مزید تین نئے اضلاع اور ایک نئے ڈویژن کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔
ان فیصلوں کے بعد بلوچستان میں اضلاع کی تعداد بڑھ کر 42 جبکہ ڈویژنز کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ نئے اضلاع کوئٹہ، چاغی اور خضدار کو تقسیم کرکے بنائے گئے ہیں۔
نئے اضلاع، ڈویژنز اور انتظامی یونٹس کے قیام کی منظوری پیر کو کوئٹہ میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ اجلاس میں دی گئی۔
تاہم اس حوالے سے سرکاری طورپر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔
اردو نیوز کے رابطہ کرنے پر سیاسی اور میڈیا امور سے متعلق وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون شاہد رند نے تصدیق کی کہ کابینہ اجلاس میں نئے انتظامی یونٹس سے متعلق فیصلے کیے گئے ہیں تاہم انہوں نے اس کی مکمل تفصیلات نہیں بتائیں۔
کابینہ کے ذرائع اور اردو نیوز کو حاصل ہونے والی دستاویزات کے مطابق کابینہ نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کو دو اضلاع، کوئٹہ ایسٹ اور کوئٹہ ویسٹ میں تقسیم کرنے کی منظوری دی۔
فیصلے کے مطابق ریلوے ٹریک دونوں اضلاع کے درمیان حد بندی تصور ہو گا۔ ریلوے لائن کے ایک جانب کوئٹہ ویسٹ جبکہ دوسری جانب کوئٹہ ایسٹ ہو گا۔
کوئٹہ ویسٹ میں بروری کے نام سے نئی سب ڈویژن قائم کی جائے گی جبکہ مستونگ کو قلات ڈویژن سے نکال کر کوئٹہ ڈویژن میں شامل کرنے کی باضابطہ منظوری دے دی گئی۔
اجلاس میں وڈھ کو خضدار سے الگ کرکے نیا ضلع بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
اس ضلعے میں وڈھ، نال اور اورناچ شامل ہوں گے۔ وڈھ اور نال کو تحصیل جبکہ آرنجی، اورناچ اور گریشہ کو سب تحصیل کا درجہ دے دیا گیا ۔
کابینہ نے قلات ڈویژن کو تقسیم کرکے لسبیلہ کے نام سے نئے ڈویژن کے قیام کی منظوری بھی دی جس میں لسبیلہ، حب اور آواران کے اضلاع شامل ہوں گے۔
سابق قلات ڈویژن اب خضدار ڈویژن کہلائے گا جس کا ہیڈکوارٹر خضدار ہوگا۔ اس ڈویژن میں قلات، سوراب اور وڈھ شامل ہوں گے۔
کابینہ نے شہید سکندر آباد سے تبدیل کرکے ضلع کا نام دوبارہ سوراب رکھنے کی منظوری بھی دے دی۔
زہری کو خضدار سے الگ کرکے سوراب کا حصہ بنادیا گیا ہے۔
یاد رہے وڈھ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیراعلیٰ سردار اختر مینگل اور ان کے سیاسی و قبائلی مخالف پیپلز پارٹی کے رہنما میر شفیق الرحمان مینگل کا آبائی علاقہ ہے۔ زہری سابق وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کا آبائی علاقہ ہے۔
کابینہ نے سارونہ سب تحصیل کو بھی خضدار سے الگ کرنے کی منظوری دی۔ سارونہ کو لسبیلہ یا حب میں شامل کرنے کا حتمی فیصلہ خصوصی کمیٹی کرے گی۔
رخشان ڈویژن میں بھی بڑی تبدیلی کی گئی ہے۔ کابینہ نے چاغی کو تقسیم کرکے تفتان کے نام سے نیا ضلع بنانے کی منظوری دے دی۔
اس ضلعے میں تفتان، نوکنڈی اور ماشکیل شامل ہوں گے۔ ماشکیل پہلے ضلع واشک کا حصہ تھا۔ نئے ضلعے کے ہیڈکوارٹر کے تعین کا فیصلہ بعد میں کمیٹی کرے گی۔
وزیراعلیٰ کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی میں صوبائی وزرا صادق عمرانی، عاصم کرد گیلو اور چیف سیکریٹری بلوچستان شامل ہوں گے جو تجویز کردہ معاملات پر فیصلہ کرے گی۔
کابینہ نے پشین ڈویژن کے انتظامی ڈھانچے میں بھی تبدیلیوں کی منظوری دی۔ پشین ڈویژن میں اب پشین، برشور، چمن اور قلعہ عبداللہ کے اضلاع شامل ہوں گے۔ ضلع برشور میں برشور کے نام سے تحصیل جبکہ توبہ کاکڑی کے نام سے سب ڈویژن اور تحصیل قائم کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔
اجلاس میں مکران کے انگریزی تلفظ میں تبدیلی کی منظوری بھی دی گئی۔ فیصلے کے مطابق اب Makuran لکھا جائے گا جو مقامی تلفظ سے مطابقت رکھتا ہے۔
کابینہ نے ژوب ڈویژن کے ضلع شیرانی کا ہیڈکوارٹر ستونہ راغہ سے منتقل کرکے مانی خواہ بنانے کی منظوری بھی دی۔ مانی خواہ میں نئی سب ڈویژن اور تحصیل بھی قائم کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے اجلاس کے دوران تجویز دی کہ شیرانی کے پرانے ہیڈکوارٹر کی عمارتوں کو کیڈٹ یا ریزیڈنشل کالج کے طور پر استعمال کیا جائے۔
کابینہ نے ضلع زیارت کو سبی ڈویژن سے نکال کر لورالائی ڈویژن میں شامل کردیا جبکہ ضلع کچھی کو نصیرآباد ڈویژن سے الگ کرکے سبی ڈویژن میں شامل کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔
اس کے ساتھ سبی ڈویژن کا نام تبدیل کرکے سیوی رکھنے کی باضابطہ منظوری دے دی گئی۔
اجلاس میں پیرکوہ سب ڈویژن کو اپر ڈیرہ بگٹی سے لوئر ڈیرہ بگٹی میں شامل کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا تاہم اس معاملے کا حتمی فیصلہ کمیٹی کرے گی۔
وزیراعلیٰ نے اپر اور لوئر ڈیرہ بگٹی کے نام بھی ایسٹ اور ویسٹ ڈیرہ بگٹی کے نام سے بدلنے کی تجویز دی جس پر بعد میں غور کیا جائےگا۔
ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس کے آغاز میں اس وقت اختلاف سامنے آیا جب صوبائی وزیر ریونیو عاصم کرد گیلو نے نئے اضلاع کے قیام کے فیصلوں پر مشاورت نہ ہونے پر احتجاج کیا۔
انہوں نے موقف اختیار کیا کہ انہیں ان فیصلوں سے متعلق پہلے سے آگاہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی مشاورت کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ نئے اضلاع اور انتظامی یونٹس کے قیام جیسے فیصلوں میں متعلقہ وزرا اور مقامی نمائندوں کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے۔
اس پر وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ صوبے میں انتظامی ڈھانچے کی تشکیل نو سکیورٹی اور انتظامی ضروریات کے باعث کی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی جس پر صوبائی وزیر نے باضابطہ اختلاف نوٹ ریکارڈ نہیں کرایا۔
یاد رہے کہ رواں سال بلوچستان کابینہ پہلے ہی اپر ڈیرہ بگٹی، برشور اور تمپ کے نام سے تین نئے اضلاع جبکہ پشین اور کوہ سلیمان کے نام سے دو نئے ڈویژن بنانے کی منظوری دے چکی ہے۔ اپر ڈیرہ بگٹی وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کا آبائی علاقہ ہےجسے انہوں نے ڈیرہ بگٹی سے الگ کرکے نیا ضلع بنادیا ہے۔
ایک سال قبل تک بلوچستان میں ڈویژن کی تعداد صرف سات اور ضلاع کی تعداد 36 تھی جو اب بڑھ کر 42 ہوگئی ہے جبکہ ڈویژن کی تعداد گیارہ ہوگئی ہے۔
بلوچستان کے 11 ڈویژنوں میں کوئٹہ، پشین، لورالائی، ژوب، نصیرآباد، سیوی، کوہ سلیمان، رخشان، لسبیلہ، خضدار اور مکران شامل ہیں۔
بلوچستان میں نئے اضلاع اور ڈویژنوں کے قیام کو جہاں ایک طرف سراہا جارہا ہے وہیں اس کے مخالفین بھی موجود ہیں ۔ ماضی میں بھی یہ معاملہ سیاسی تنازع کا باعث بنتا رہا ہے۔ حکومتی اور اپوزیشن ارکان اس حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
فروری 2026 میں بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے دوران بھی نئے اضلاع اور ڈویژنوں کے قیام پر شدید بحث ہوئی تھی اور اپوزیشن ارکان نے اس معاملے پر ایوان سے واک آؤٹ بھی کیا تھا۔
بلوچستان میں نئے اضلاع اور ڈویژنوں کے قیام کو بعض حلقے انتظامی بہتری کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان فیصلوں میں وسیع مشاورت نہیں کی جا رہی اور بعض اقدامات سیاسی بنیادوں پر کیے جا رہے ہیں۔
ناقدین کا موقف ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام میں صوبے کی جغرافیائی، قبائلی اور سیاسی حساسیت کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ ان فیصلوں کا مقصد انتظامی نظام کو مؤثر بنانا ہے۔
وزیراعلیٰ کے معاون برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے اردو نیوز کو بتایا کہ رقبے کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے میں نئے اضلاع اور ڈویژنوں کا قیام انتظامی اور سکیورٹی ضروریات کے باعث کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خضدار آبادی کے لحاظ سے کوئٹہ کے بعد صوبے کا دوسرا بڑا ضلع تھا جبکہ کوئٹہ کی آبادی میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے اسی لیے دونوں اضلاع کو تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
شاہد رند کے مطابق بعض علاقے اپنے ضلعی اور ڈویژن ہیڈکوارٹرز سے بہت دور تھے جس کی وجہ سے مقامی آبادی کو مشکلات کا سامنا تھا اس لیے انہیں قریبی انتظامی یونٹس کے ساتھ شامل کیا جارہا ہے تاکہ لوگوں کو سہولت میسر ہو۔
