ایران اور امریکہ کے درمیان ’مجوزہ معاہدے‘ کے اہم نکات کیا ہیں؟
خلیجِ عرب، آبنائے ہُرمز اور بحیرۂ عمان میں آزادانہ جہاز رانی کی ضمانت ممکنہ معاہدے کا حصہ ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
’العربیہ‘ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے مسودے میں کئی اہم وعدے شامل ہوں گے جن کا مقصد کشیدگی کو کم کرنا اور خطے میں استحکام لانا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق یہ معلومات ’العربیہ‘ کو حاصل دستاویز کی ایک کاپی سے حاصل ہوئی ہیں، تاہم العربیہ نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دستاویز کہاں سے حاصل کی گئی ہے۔
مجوزہ ڈیل کے مطابق فریقین باہمی طور پر بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پابندی کرنے کا عہد کریں گے۔
اس سے اس بات کی نشان دہی ہوتی ہے کہ دونوں ممالک دوبارہ سفارتی روابط کو اہمیت دینے اور عالمی اصولوں پر عمل کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
اس مسودے کا ایک اہم جُزو ایران پر عائد امریکی پابندیوں کو بتدریج ہٹانا ہے جبکہ اس کے بدلے میں تہران معاہدے میں بیان کی گئی شرائط پر پوری طرح عمل کرنے کا پابند ہو گا۔
اِن میں خلیجِ عرب، آبنائے ہُرمز اور بحیرۂ عمان میں آزادانہ جہاز رانی کی ضمانت اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے نکات بھی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ معاہدے کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کا عہد بھی کریں گے۔
معاہدے میں ایک شق یہ بھی شامل ہے جس کے تحت ایک دوسرے کے فوجی، شہری اور معاشی انفراسٹرکچر پر حملے نہیں کیے جائیں گے، تاہم ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق شرائط تاحال سامنے نہیں آئیں۔
توقع ہے کہ امریکہ اور ایران کی جانب سے معاہدے کے باضابطہ اعلان کے فوری بعد یہ نافذ العمل ہو جائے گا۔
