پاکستانی نژاد برطانوی باکسر محمد حمزہ شیراز نے مصر میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈبلیو بی او (ورلڈ باکسنگ آرگنائزیشن) سپر مڈل ویٹ ورلڈ ٹائٹل اپنے نام کر لیا ہے۔
انہوں نے جرمنی کے باکسر ایلم بیگچ کو دوسرے راؤنڈ میں ناک آؤٹ کر کے اپنے کیریئر کا پہلا عالمی ٹائٹل جیتا۔
26 سالہ محمد حمزہ شیراز نے مقابلے کے آغاز سے ہی جارحانہ انداز اپنایا اور پہلے ہی راؤنڈ میں اپنے حریف پر سخت پنچ مارے۔ دوسرے راؤنڈ میں ان کے طاقتور لیفٹ ہک نے ایلم بیگچ کو زمین پر گرا دیا، جس کے بعد جرمن باکسر دوبارہ کھڑا نہ ہو سکا اور ریفری نے مقابلہ ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔
مزید پڑھیں
-
باکسنگ کے لیے نئی عالمی تنظیم قائم کرنے کا معاہدہNode ID: 886834
-
باکسنگ مقابلوں میں سعودی عرب عالمی مرکز بن گیاNode ID: 891211
فتح کے اعلان کے فوراً بعد محمد حمزہ شیراز سجدے میں گر گئے اور پھر اپنی ٹیم کے ساتھ جشن منایا۔
اس کامیابی کے ساتھ انہوں نے وہ ڈبلیو بی او سپر مڈل ویٹ بیلٹ اپنے نام کی جو معروف امریکی باکسر ٹیرینس کرافورڈ کی ریٹائرمنٹ کے بعد خالی ہوئی تھی۔
پاکستانی وزیراعظم کے بین الاقوامی میڈیا کے ترجمان مشرف زیدی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر محمد حمزہ شیراز کو مبارکباد دیتے ہوئے لکھا کہ ’پاکستان کا ایک اور عالمی چیمپئن۔‘
میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے محمد حمزہ شیراز نے کہا کہ ’میں نے آج وہی کیا جو مجھے کرنا تھا۔ یہ جیت مجھے عالمی سٹیج تک لے آئی ہے اور اب میں 168 پاؤنڈ کیٹیگری کے تمام باکسرز کو چیلنج کرتا ہوں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ پہلا پنچ لگنے کے بعد میرا حریف دباؤ میں آ چکا ہے، اس لیے میرا مقصد اسے مسلسل پریشر میں رکھنا اور مقابلہ جلد ختم کرنا تھا۔‘
محمد حمزہ شیراز گزشتہ چند برسوں سے اپنی شاندار کارکردگی کی وجہ سے عالمی باکسنگ حلقوں میں مسلسل توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ وہ اس مقابلے میں گزشتہ سال نیویارک میں ایڈگر برلانگا کے خلاف پانچویں راؤنڈ میں حاصل کی گئی بڑی فتح کے بعد اترے تھے۔ اس سے قبل فروری 2025 میں ڈبیلو بی سی مڈل ویٹ چیمپئن کارلوس ایڈیمز کے خلاف ان کا ٹائٹل مقابلہ ڈرا ہوگیا تھا، جس کے بعد وہ مزید مضبوط انداز میں واپسی کے لیے پرعزم تھے۔
اس سے پہلے ستمبر 2024 میں محمد حمزہ شیراز نے لندن کے ومبلے سٹیڈیم میں ٹائلر ڈینی کو شکست دے کر یورپی مڈل ویٹ ٹائٹل بھی اپنے نام کیا تھا۔
Hamzah Sheeraz is finally a world champion
Glory in Giza | May 23rd | Live NOW on DAZN pic.twitter.com/aLAWG3rArj
— Ring Magazine (@ringmagazine) May 23, 2026
محمد حمزہ شیراز کون ہیں؟
محمد حمزہ شیراز 25 مئی سنہ 1999 کو برطانیہ کے علاقے سلو، برکشائر میں پیدا ہوئے۔
ان کے والد پاکستانی نژاد مسلمان جبکہ والدہ انڈین نژاد مسلمان ہیں۔ محمد حمزہ شیراز کا تعلق پنجاب کے معروف جنجوعہ راجپوت خاندان سے ہے، جن کی آبائی جڑیں پاکستان کے ضلع راولپنڈی کی تحصیل کہوٹہ کے گاؤں متور سے ملتی ہیں۔
ان کے والد کامران شیراز کرکٹر رہے ہیں اور انگلش کاؤنٹی کلب گلوسٹرشائر کے لیے کھیل چکے ہیں، جبکہ ان کے دادا اور چچا باکسنگ سے وابستہ رہے۔ ان کے چچا نے سلو اور پائن ووڈ سٹار کلبز کے لیے دس قومی امیچر ٹائٹلز جیتے تھے۔
محمد حمزہ شیراز نے آٹھ سال کی عمر میں اپنے چچا کی رہنمائی میں باکسنگ جم جوائن کیا اور 12 برس کی عمر میں اپنا پہلا مقابلہ کھیلا۔ انہوں نے جونیئر نیشنل چیمپئن شپ کے تین فائنلز بھی کھیلے، تاہم بعد میں کامن ویلتھ یوتھ چیمپئن شپ کے لیے نظر انداز کیے جانے پر کچھ عرصہ باکسنگ چھوڑ دی اور الیکٹریشن کی اپرنٹس شپ شروع کر دی۔
بعد ازاں اپنے ٹرینر لینی بُچر سے ملاقات کے بعد انہوں نے دوبارہ باکسنگ کی دنیا میں واپسی کا فیصلہ کیا اور پروفیشنل کیریئر کا آغاز کیا۔

پروفیشنل کیریئر کا آغاز
محمد حمزہ شیراز نے سنہ 2017 میں اپنے اٹھارویں یومِ پیدائش پر فرینک وارن کی کوئنزبری پروموشنز کے ساتھ معاہدہ کیا اور اسی سال لندن کے کاپر باکس ایرینا میں اپنا پہلا پروفیشنل مقابلہ جیتا۔
سنہ 2019 تک وہ ناقابل شکست باکسر بن چکے تھے اور مسلسل ٹیکنیکل ناک آؤٹ فتوحات حاصل کر رہے تھے۔
نومبر 2019 میں انہوں نے ریان کیلی کو شکست دے کر ڈبیلو بی او جونیئر مڈل ویٹ ٹائٹل یورپ جیتا، جو ان کے کیریئر کا پہلا بڑا اعزاز تھا۔
بعد ازاں انہوں نے پال کین، گائیڈو نکولس پٹو اور ایزیکویل گوریا جیسے باکسرز کے خلاف کامیابی سے اپنے ٹائٹل کا دفاع کیا۔ دسمبر 2021 میں انہوں نے بریڈلی سکیٹ کو شکست دے کر اپنا ٹائٹل برقرار رکھا اور اسی سال انہیں یو کے باکسنگ رائٹرز کلب کی جانب سے ’ینگ باکسر آف دی ایئر‘ بھی قرار دیا گیا۔
O M G
Hamza Sheeraz arriving in Egypt for his upcoming match in traditional Shalwar Kameez
Different level of cold & reppin the culture
— H’ur (@Hur1) May 22, 2026












