سپین کی فٹبال ٹیم کے ہیڈ کوچ لوئس ڈی لا فوئنٹے نے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل کے بعد ارجنٹائن کے بعض کھلاڑیوں اور کوچنگ سٹاف کے رویے کو ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے طرزِ عمل کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق گذشتہ اتوار کو نیویارک میں کھیلے گئے ورلڈ کپ فائنل میں سپین نے اضافی وقت میں ارجنٹائن کو ایک صفر سے شکست دی، جس کے بعد میچ ختم ہونے پر ارجنٹائن کے بعض کھلاڑیوں اور کوچنگ سٹاف نے ہسپانوی کھلاڑیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
مزید پڑھیں
-
ارجنٹائن کی ٹیم فیفا ورلڈ کپ 2026 کی ’ولن‘ بن کر کیوں اُبھری؟Node ID: 906643
اس واقعے میں ارجنٹائن کے ڈیفنڈر ناہویل مولینا اور مڈفیلڈر لیانڈرو پاریڈیس بھی شامل تھے۔
سپینش ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے لوئس ڈی لا فوئنٹے نے کہا لپ ’اس وقت مجھے اس واقعے کا اندازہ نہیں تھا کیونکہ میں اپنی ٹیم کے ساتھ فتح کا جشن منا رہا تھا اور کھلاڑیوں کو گلے لگا رہا تھا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’لیکن کسی بھی صورت یہ ناقابلِ برداشت اور ناقابلِ قبول رویہ ہے، اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘
’میں نے میچ سے پہلے بھی ان کھلاڑیوں کی تعریف کی تھی اور آج بھی انہیں عظیم کھلاڑی اور بہترین کوچ کی ٹیم سمجھتا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ وہ خود بھی ان ردعمل کو دیکھ کر اتنے ہی افسردہ ہوئے ہوں گے جتنے ہم ہوئے۔‘











