Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ورلڈ کپ فائنل کے بعد ارجنٹائن کے رویے پر سپینش کوچ کی تنقید، ’یہ ناقابلِ قبول ہے‘

اس واقعے میں ارجنٹائن کے ڈیفنڈر ناہویل مولینا اور مڈفیلڈر لیانڈرو پاریڈیس بھی شامل تھے (فائل فوٹو:اے ایف پی)
سپین کی فٹبال ٹیم کے ہیڈ کوچ لوئس ڈی لا فوئنٹے نے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل کے بعد ارجنٹائن کے بعض کھلاڑیوں اور کوچنگ سٹاف کے رویے کو ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے طرزِ عمل کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق گذشتہ اتوار کو نیویارک میں کھیلے گئے ورلڈ کپ فائنل میں سپین نے اضافی وقت میں ارجنٹائن کو ایک صفر سے شکست دی، جس کے بعد میچ ختم ہونے پر ارجنٹائن کے بعض کھلاڑیوں اور کوچنگ سٹاف نے ہسپانوی کھلاڑیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
 اس واقعے میں ارجنٹائن کے ڈیفنڈر ناہویل مولینا اور مڈفیلڈر لیانڈرو پاریڈیس بھی شامل تھے۔
سپینش ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے لوئس ڈی لا فوئنٹے نے کہا لپ ’اس وقت مجھے اس واقعے کا اندازہ نہیں تھا کیونکہ میں اپنی ٹیم کے ساتھ فتح کا جشن منا رہا تھا اور کھلاڑیوں کو گلے لگا رہا تھا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’لیکن کسی بھی صورت یہ ناقابلِ برداشت اور ناقابلِ قبول رویہ ہے، اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘

’میں نے میچ سے پہلے بھی ان کھلاڑیوں کی تعریف کی تھی اور آج بھی انہیں عظیم کھلاڑی اور بہترین کوچ کی ٹیم سمجھتا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ وہ خود بھی ان ردعمل کو دیکھ کر اتنے ہی افسردہ ہوئے ہوں گے جتنے ہم ہوئے۔‘

ہسپانوی کوچ نے اپنی ٹیم کے کھلاڑیوں کے رویے کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ’جارحانہ حرکات اور اشتعال انگیزی‘ کے باوجود مثالی تحمل کا مظاہرہ کیا، ورنہ معاملہ مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا تھا۔
اگرچہ اس واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر گردش کر رہی ہیں، تاہم اب تک ارجنٹائن کے کسی کھلاڑی کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہیں کی گئی۔
فیفا نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اس دوران عالمی فٹبال تنظیم کے تادیبی ضابطوں کی خلاف ورزی ہوئی یا نہیں۔
 

شیئر: