Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آسٹریلیا: نسلی امتیاز کے مقدمے کا فیصلہ پاکستانی نژاد سینیٹر کے حق میں، ’جہاں سے آئے ہو وہیں چلے جاؤ‘

مہرین فارقی سنہ 1992 میں پاکستان سے آسٹریلیا منقتل ہوئیں تھیں (فوٹو: فیس بُک)
آسٹریلیا کی وفاقی عدالت نے پیر کو دائیں بازو کی جماعت ون نیشن کی رہنما پالین ہینسن کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سنہ 2024 کے اس فیصلے کو برقرار رکھا ہے جس میں قرار دیا گیا تھا کہ انہوں نے پاکستانی نژاد مسلمان سینیٹر مہرین فاروقی کے خلاف نسلی امتیاز کا مظاہرہ کیا۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی ’روئٹرز‘ کے مطابق آسٹریلیا کی فُل فیڈرل کورٹ کے تین رکنی بینچ نے متفقہ فیصلے میں کہا کہ ہینسن کی جانب سے سوشل میڈیا پر مہرین فاروقی کو ’اپنا سامان باندھو اور پاکستان واپس چلی جاؤ‘ کہنا غیر قانونی تھا اور اسے اظہارِ رائے کی آزادی کے تحت تحفظ حاصل نہیں۔
عدالتی فیصلے کے بعد سڈنی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر مہرین فاروقی نے کہا کہ ’آج انصاف کی جیت ہوئی ہے۔ یہ فیصلہ ہر اس شخص کی کامیابی ہے جسے کبھی یہ کہا گیا کہ جہاں سے آئے ہو، واپس چلے جاؤ۔‘
دوسری جانب پالین ہینسن نے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’آسٹریلیا میں عوامی مباحثہ ایسے قوانین اور ضوابط کے باعث تقریباً خاموش ہو چکا ہے جو عام لوگوں کو اپنی ذاتی رائے کے اظہار سے روکتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اور ان کی قانونی ٹیم فیصلے کا تفصیلی جائزہ لیں گے تاکہ آسٹریلیا کی ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کے امکان پر غور کیا جا سکے۔
یاد رہے کہ یہ تنازع ستمبر 2022 میں اس وقت شروع ہوا تھا جب ملکہ الزبتھ دوم کے انتقال کے بعد مہرین فاروقی نے ٹوئٹر (موجودہ ایکس) پر لکھا تھا کہ وہ ’ایک ایسی نسل پرست سلطنت کی سربراہ کے انتقال پر سوگ نہیں منا سکتیں جو نوآبادیاتی اقوام کی جانوں، زمین اور دولت پر قائم ہوئی۔‘
اس کے جواب میں پالین ہینسن نے لکھا تھا کہ ’جب تم آسٹریلیا نقل مکانی کر کے آئیں تو اس ملک کی ہر سہولت سے فائدہ اٹھایا۔ اگر تم خوش نہیں ہو تو اپنا سامان باندھو اور پاکستان واپس چلی جاؤ۔‘
پاکستان سے سنہ 1992 میں آسٹریلیا منتقل ہونے والی مہرین فاروقی، آسٹریلیا کی پارلیمنٹ کی پہلی مسلمان خاتون رکن ہیں۔ انہوں نے ہینسن کے اس بیان کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔
سنہ 2024 میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ ہینسن کا بیان آسٹریلیا کے انسدادِ نسلی امتیاز قوانین کی خلاف ورزی ہے کیونکہ اس سے نہ صرف مہرین فاروقی بلکہ مسلمان آسٹریلوی شہریوں اور رنگ و نسل کی بنیاد پر ہجرت کرکے آنے والے دیگر افراد کی توہین، تذلیل اور خوف کا باعث بننے کا امکان تھا۔
بعد ازاں پالین ہینسن نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے قانون کی خلاف ورزی نہیں کی اور متعلقہ قانون آئینی طور پر بھی درست نہیں۔
تاہم فل فیڈرل کورٹ نے تفصیلی فیصلے میں اپیل کے تمام نکات مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ ہینسن کی پوسٹ میں مسلم مخالف اور اسلاموفوبک پیغام موجود تھا اور یہ دراصل تاریخی طور پر نسل پرستانہ، مقامی قوم پرستانہ اور تارکین وطن مخالف نعرے ’جہاں سے آئے ہو واپس چلے جاؤ‘ کی ایک شکل تھی۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ متعلقہ قانون آئین کے مطابق ہے اور ہینسن یہ ثابت کرنے میں ناکام رہیں کہ ان کا بیان عوامی مفاد کے کسی معاملے پر منصفانہ تبصرے کے زمرے میں آتا ہے۔

مہرین فارقی، آسٹریلیا کی پارلیمنٹ کی پہلی مسلمان خاتون رکن ہیں (فوٹو: فیس بُک)

فیصلے کے بعد مہرین فاروقی نے کہا تھا کہ ’عدالت نے 434 پیراگراف پر مشتمل فیصلے میں پالین ہینسن کی اپیل مسترد کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ انہوں نے نسل پرستی، اسلاموفوبیا اور نفرت انگیزی کا مظاہرہ کیا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’نفرت انگیز تقریر آزادیِ اظہار نہیں ہوتی، اور وفاقی عدالت نے آج ایک بار پھر اس اصول کی توثیق کر دی ہے۔‘
واضح رہے کہ سنہ 1997 میں قائم ہونے والی دائیں بازو کی جماعت ون نیشن کو طویل عرصے تک ایک حاشیے کی جماعت سمجھا جاتا رہا، تاہم امیگریشن کے خلاف پالین ہینسن کے سخت مؤقف کے باعث حالیہ برسوں میں پارٹی کی عوامی حمایت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

شیئر: