Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ایسالگا جیسے میزائل حملہ ہوا ہو‘ ‘کوئٹہ ٹرین دھماکے کے عینی شاہدین نے کیا دیکھا؟

’میں نہا رہا تھا کہ اچانک زور دار دھماکا ہوا، پہلے لگا گیزر پھٹ گیا ہے مگر جب باہر نکلا تو ہر طرف تباہی تھی، ٹرین پٹڑی سے دور جا گری تھی، گاڑیوں میں آگ لگی ہوئی تھی اور فضا میں دھواں ہی دھواں تھا۔‘
یہ کہنا ہے محمد یعقوب کا جو اتوار کی صبح کوئٹہ کے علاقے چمن پھاٹک کے قریب اپنے گھر میں موجود تھے جب ایک زور دار دھماکے نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکا اس قدر شدید تھا کہ قریبی گھروں کی چھتیں گر گئیں، کھڑکیاں اور دروازے اکھڑ گئے اور علاقے میں ایسا منظر تھا جیسے میزائل حملہ کیا گیا ہو۔؎
اتوار کی صبح بلوچستان کے دار الحکومت کوئٹہ کے گنجان آباد علاقے چمن پھاٹک کے قریب ایک مسافر ٹرین کو بم حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ حکومت بلوچستان کے بیان کے مطابق یہ ایک خودکش کار بم حملہ تھا جس میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق کم از کم 14 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے  ۔
تاہم مقامی پولیس اور محکمہ صحت کے  حکام نے بتایا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 23  تک پہنچ گئی ہے جبکہ 100 سے زائد افراد زخمی ہیں جن میں کئی کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق یہ واقعہ صبح تقریباً آٹھ بجے اس وقت پیش آیا جب کوئٹہ کینٹ سے تین بوگیوں پر مشتمل شٹل ٹرین مرکزی ریلوے سٹیشن کی طرف جا رہی تھی۔ اسٹیشن سے چند سو میٹر پہلے چمن پھاٹک  فقیرآباد کے مقام پر  ٹرین کو نشانہ بنایا گیا۔
دھماکے سے انجن اور تینوں بوگیاں پٹری سے اتر گئیں اور ان میں سے ایک بوگی الٹ بھی گئی ۔ ٹرین میں سوار مسافروں کے علاوہ پٹڑی کے دونوں جانب واقع گھروں کے رہائشی اور  راہ گیر بھی اس دھماکے کی زد میں آئے۔
حکومت بلوچستان کے بیان کے مطابق مرنے والوں میں فرنٹیئر کور کے تین اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ اکثریت عام شہریوں، مسافروں اور اطراف کے گھروں کے مکینوں پر مشتمل ہے۔ بیان کے مطابق ایک ہی خاندان کے چار افراد والدین اور ان کے دو بچے بھی اس حملے میں جان سے گئے۔
دھماکے کے فوراً بعد ریسکیو کارروائیاں شروع کی گئیں ۔ پولیس، ایف سی ، پی ڈی ایم اے، فائر بریگیڈ، ریلوے، میرک 1122، ایدھی اور چھیپا کے رضا کاروں نے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا تاہم رش ، آگ اور بوگی الٹنے کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ امدادی کارروائیوں کے دوران ایدھی کے تین رضا کار بھی چوٹ لگنے سے زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو سول ہسپتال، سی ایم ایچ، بی ایم سی، ایف سی ہسپتال اور ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔
پولیس کے ایک سینیئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ حملہ آور نے آبادی کے درمیان  سے گزرنے والی ریلوے پٹڑی کے ساتھ ایک کھلی پارکنگ میں بارود سے بھری گاڑی کھڑی کی  تھی جیسے ہی ٹرین  وہاں سے گزری اس نے  دھماکا کردیا۔
ان کے بقول ’دھماکے کی جگہ پر پڑنے والے گڑھے سے ظاہر ہوتا ہے کہ گاڑی پٹڑی سے صرف چار پانچ فٹ کے فاصلے پر کھڑی کی گئی تھی۔
دھماکہ اتنا شدید تھا کہ ایک بوگی کئی فٹ دور جا گری اور الٹ کر دیوار سے جا ٹکرائی۔عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے فوراً بعد پورا علاقہ آگ اور دھویں کی لپیٹ میں آ گیا۔ پارکنگ میں 50 سے زائد گاڑیاں کھڑی تھیں جن میں بھڑک اٹھی جو تیزی سے پھیل گئی۔
فائر بریگیڈ کے ایک اہلکار عبدالخالق نے بتایا کہ ’گاڑیوں میں موجود پٹرول کی ٹینکیاں وقفے وقفے سے پھٹ رہی تھیں جس سے آگ پر قابو پانا بہت مشکل ہو گیا تھا۔‘
پولیس کے مطابق دھماکے سے بڑے پیمانے پر شہری املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ پارکنگ میں کھڑی تقریباً 50 گاڑیوں میں سے 40 مکمل طور پر جل کر تباہ ہو گئیں جبکہ باقی کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
دھماکے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ریلوے پٹڑی کے دونوں جانب  چند سو گز کے فاصلے پر موجود درجنوں گھر، سکول، مساجد اور سرکاری عمارتیں متاثر ہوئیں جبکہ سو سے زائد عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ لیویز ہیڈکوارٹر اور تحصیل دفتر بھی نقصان کی زد میں آئے۔
کئی گھروں کی چھتیں تک گر گئیں۔ریلوے پٹڑی سے چند سو فٹ کے فاصلے پر واقع ایک گھر کی چھت گرنے سے ایک شہری خالد جاوید  جان سے  چلے گئے ۔ ان کے بیٹے زین علی نے بتایا کہ ’ہم سب سو رہے تھے کہ دھماکہ ہوا اور چھت گر گئی، میرے والد ملبے تلے دب گئے جبکہ والدہ ، بہن اور بھائی زخمی ہو گئے جو اس وقت ہسپتال میں زیر علاج  ہیں۔‘
 خالد جاوید کے بھائی راشد جاوید کے مطابق ’گھر میں عید کی تیاریاں جاری تھیں، بچے خوش تھے مگر ایک لمحے میں خوشیاں غم میں بدل گئیں اور اب اسی گھر سے جنازہ اٹھ رہا ہے۔‘
قریبی محلے کے ایک اور رہائشی محمد فاروق نے بتایا کہ باہر آگ کے شعلے اور دھویں کے بادل نظر آرہے تھے ۔ بوگیوں میں سے زخمیوں کی چیخ و پکار سنائی دے رہی تھی۔ 
ان کے بقول اس دھماکے نے صرف ٹرین ہی نہیں پورے علاقے کو ہلاک کر رکھ دیا 
 ’لوگوں کی زندگی بھر کی جمع پونجی ایک لمحے میں ختم ہو گئی، کسی کا عزیز چلا گیا اور کسی کی چھت چھن گئی ۔ ‘
ان کا کہنا تھا کہ ریلوے پٹڑی کے قریب والے زیادہ تر غریب اور متوسط طبقے کے لوگ ہیں جنہوں نے بڑی محنت سے گھر بنائے تھے مگر اب کسی کی چھت تو کسی کی دیوار میں دراڑیں پڑ گئی ہیں ۔
انہوں نے بتایا کہ بہت سے لوگوں کے گھروں میں پارکنگ کی جگہ نہیں تھی تو وہ رات کو باہر  پٹڑی کے ساتھ کھلے میدان میں گاڑیاں کھڑی کرتے تھے  جو سب ایک ساتھ جل کر تباہ ہوگئیں۔
محمد یعقوب نے بتایا کہ میں نے سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی بھر کی جمع پونجی سے گھر بنایا جو اس دھماکے کی وجہ سے اب رہنے کے قابل نہیں ۔
مقامی لوگوں کے مطابق اتوار کا دن تھا دفاتر اور سکولوں کی چھٹیاں تھیں  لوگ  گھروں میں سوئے ہوئے تھے  اگر یہ چھٹی کا دن نہ ہوتا تو شاید زیادہ نقصان ہوتا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے کی شدت سے کئی گھروں کی دروازے اور کھڑکیاں اکھڑ گئیں ، پنکھے تک مڑ گئے۔ جبکہ بجلی کے کھمبے، ، تاریں ٹرانسفارمر اور درخت بھی جل کر تباہ ہوئے۔ کیسکو کے مطابق دھماکے سے  فقیرآباد، چمن پھاٹک، سپنی روڈ اور شہباز ٹاؤن کے کئی علاقوں کو بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جسے بعد میں بحال کردیا گیا۔
ریلوے کے ایک افسر کے مطابق یہ شٹل سروس کوئٹہ کینٹ اور شہر کے مرکزی ریلوے اسٹیشن کے درمیان چلتی ہے  جو تقریباً دو سے تین کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ تقریباً آٹھ بجے  جب ٹرین ریلوے اسٹیشن کی حدود میں داخل ہونے ہی والی تھی  چمن پھاٹک کے قریب اسے نشانہ بنایا گیا۔
ٹرین کے ساتھ تین بوگیاں لگی ہوئی تھیں جن میں 300 سے زائد مسافر سوار تھے۔ ان میں سکیورٹی اہلکاروں کے علاوہ ان کے اہلخانہ، خواتین اور بچے بھی شامل تھے  جو عید کی چھٹیوں پر اپنے آبائی علاقوں کو جارہے تھے۔
ان بوگیوں کو مرکزی ریلوے اسٹیشن پہنچنے کے بعد جعفر ایکسپریس کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے۔ جعفر ایکسپریس بلوچستان کو سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا سے ملانے والی صوبے کی واحد ٹرین سروس ہےجو روزانہ کی بنیاد پر چلتی ہے۔ یہ ٹرین  سبی، سکھر، ملتان اور لاہور سے ہوتی ہوئی راولپنڈی اور پھر پشاور تک جاتی ہے۔
جعفر ایکسپریس ماضی میں بھی متعدد بار حملوں کا نشانہ بن چکی ہے۔ نومبر 2024 میں کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر اس ٹرین کی روانگی کے وقت ہونے والے خودکش دھماکے میں 30 سے زائد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے جبکہ مارچ 2025 میں بولان کے پہاڑی علاقے میں اس ٹرین کو ہائی جیک کر لیا گیا تھا جس میں بھی دو درجن سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ ان دونوں حملوں کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔
ان واقعات کے بعد ٹرین، ریلوے اسٹیشن، پٹڑیوں اور دیگر ریلوے تنصیبات کی سکیورٹی سخت کر دی گئی تھی اور ریلوے اسٹیشن کے گرد چار دیواری بھی تعمیر کی گئی۔ شٹل ٹرین سروس بھی  ریلوے اسٹیشن پر ہونےوالے بم دھماکے کے بعد شروع کی گئی تھی۔  تاہم حالیہ حملے میں حملہ آوروں نے حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے چلتی ٹرین کو گاڑی کے ذریعے نشانہ بنایا۔ اتوار کو ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری بھی کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی ،  وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور دیگر حکام نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ کارروائی قرار دیاہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ ’دہشت گردی کے بزدلانہ واقعات قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے، ہر قسم کی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مشکل کی اس گھڑی میں پوری قوم بلوچستان کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔‘
وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا ایسے حملے قومی عزم کو کمزور نہیں کر سکتے، بھارت اور افغانستان میں موجود پاکستان دشمن عناصر دہشت گردی کی سرپرستی کر رہے ہیں تاہم ان کے ناپاک عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ریلوے کی آپریشنل سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہیں گی ۔
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی   واقعہ کے چند گھنٹے بعد کوئٹہ پہنچے جہاں انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے ہمراہ اس دھماکے سے متعلق ایک خصوصی اجلاس کی صدارت کی۔
سرکاری اعلامیہ کے مطابق آئی جی بلوچستان پولیس نے واقعے کی ابتدائی رپورٹ پیش کی۔محسن نقوی کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اس دکھ کی گھڑی میں بلوچستان حکومت کے ساتھ کھڑی ہے اور دہشت گردوں نے نہتے لوگوں کو نشانہ بنا کر بدترین سفاکیت کا مظاہرہ کیا ہے، شہداء کی عظیم قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ شہداء کے خون کے مقروض ہیں اور ان کے خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ الہندوستان سے وابستہ عناصر معصوم شہریوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنا کر اپنی درندگی کا ثبوت دے رہے ہیں، بے گناہ لوگوں کا خون بہانے والے دہشت گرد کسی رعایت کے مستحق نہیں، ریاست دشمن عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو چن چن کر انجام تک پہنچایا جائے گا۔
بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اس کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا ہے ۔ ہائی کورٹ کے صدر عطااللہ لانگو کے مطابق  پیر کو بلوچستان بھر میں عدالتی کارروائیوں کے مکمل بائیکاٹ کیا جائےگا۔

 

شیئر: