پاکستان کے بڑے شہروں میں ایچ آئی وی کے ماہانہ 35 سے 40 کیس رپورٹ ہونے کا انکشاف
جمعرات 9 جولائی 2026 21:05
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت کئی بڑے شہروں میں ماہانہ ایچ آئی وی کے 35 سے 40 کیسز رپورٹ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
جمعرات کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کے اہم اجلاس کے دوران بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے ملک میں ایچ آئی وی کی موجودہ صورت حال کو ’انتہائی تشویش ناک‘ قرار دیا۔
’ملک کے بڑے شہروں میں ایچ آئی وی کے ماہانہ 35 سے 40 کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں، اور یہ اعدادوشمار صرف ان افراد کے ہیں جو علامات ظاہر ہونے پر اپنے ٹیسٹ کرواتے ہیں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’اصل تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ معاشرتی رویوں، خوف اور بدنامی کے ڈر سے ایک بڑی تعداد ٹیسٹ کروانے سے ہی کتراتی ہے۔‘
وفاقی وزیر برائے قومی صحت نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ’ملک کے بڑے شہروں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی ایک بڑی اور نئی وجہ نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا نائٹ پارٹیز کا کلچر ہے۔ ‘
’ان نائٹ پارٹیز میں ’آئس‘ اور دیگر خطرناک منشیات کا استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے زیرِاثر نوجوان متعدد قسم کی غیر محفوظ جنسی سرگرمیوں میں ملوث ہو رہے ہیں۔‘
نائٹ پارٹیز میں ہونے والی ان سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھیں کہ وہ رات گئے کہاں جاتے ہیں اور کس قسم کی محفلوں کا حصہ بن رہے ہیں۔‘
اُنہوں ںے کہا کہ ’اب یہ معاملہ صرف وزارتِ قومی صحت کا نہیں بلکہ بطور معاشرہ سب کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے جس کی روک تھام کے لیے بڑے پیمانے پر سائنسی اور سماجی آگاہی دینا ناگزیر ہے۔‘
سید مصطفیٰ کمال نے اپنی بریفنگ میں مزید واضح کیا کہ ملک میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی روایتی اور بڑی وجوہات میں جنسی ورکرز کا نیٹ ورک اور منشیات کے عادی افراد کی جانب سے ایک ہی سرنج کا بار بار استعمال ہے۔
اس صورت حال پر وفاقی حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر پالیسی اقدامات کا آغاز کیا ہے۔ وفاقی وزیرِ صحت نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے معاملے کی حساسیت کے پیشِ نظر چند روز قبل ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس طلب کر کے تمام متعلقہ اداروں کے سربراہان سے تفصیلی رپورٹ طلب کی تھی۔
حکومت کی نئی پالیسی کے تحت اب ملک بھر کے ہسپتالوں اور کلینکس میں عام سرنجز کے استعمال پر سخت پابندی عائد کی جا رہی ہے۔
ان کے مطابق ’اب عام سرنجز کی جگہ صرف ایک بار استعمال ہونے والی ’آٹو ڈس ایبل‘ سرنجز لازمی قرار دی جا رہی ہیں تاکہ ملک میں سرنجز کا دوبارہ استعمال کرنے والے مافیا کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ پاکستان اس وقت ایشیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں ایچ آئی وی کے کیسز میں کمی کے بجائے تشویش ناک حد تک تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے حالیہ اعدادوشمار کے مطابق ’پاکستان میں اس وقت ایچ آئی وی سے متاثرہ رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد ہزاروں میں ہے جن میں سے ایک بڑا حصہ باقاعدہ اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی (علاج) حاصل کر رہا ہے۔‘
تاہم طبی ماہرین کا تخمینہ ہے کہ حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ سماجی بدنامی، خوف اور لاعلمی کے باعث ایک بڑی تعداد اپنے ٹیسٹ کروانے سے ہی کتراتی ہے۔
ماہرینِ صحت کے مطابق ’پاکستان میں اس وائرس کے پھیلاؤ کی روایتی اور سب سے بڑی وجہ اب بھی ہسپتالوں اور کلینکس میں استعمال شدہ سرنجز کا دوبارہ استعمال، جراحی کے غیر جراثیم کش آلات اور غیر محفوظ طریقے سے خون کی منتقلی ہے۔‘
ملک کے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں اتائی ڈاکٹروں کی بھرمار اور نشے کے عادی افراد میں ایک ہی سرنج کو بار بار شیئر کرنے کا رجحان اس مرض کو وبائی شکل دینے کا بنیادی سبب رہا ہے۔
اس کی واضح مثالیں ماضی میں سندھ کے اضلاع اور پنجاب کے بعض علاقوں میں بچوں میں ایڈز پھیلنے کے بڑے سکینڈلز کی صورت میں سامنے آچکی ہیں۔
تاہم حالیہ برسوں کے دروان اس روایتی پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ ملک کے بڑے شہری مراکز میں ایک نیا اور خطرناک رجحان بھی دیکھنے میں آیا ہے۔
ان شہروں میں تعلیم یافتہ اور نوجوان طبقے میں منشیات (خصوصاً آئس) کے بڑھتے ہوئے استعمال اور نائٹ پارٹیز کے کلچر نے غیر محفوظ جنسی سرگرمیوں کو جنم دیا ہے جو اب بڑے شہروں میں ایچ آئی وی کے تیزی سے پھیلنے کی ایک اور بڑی وجہ بن کر ابھرا ہے۔
وفاقی حکومت نے اسی صورت حال کے پیشِ نظر اب صوبائی ہیلتھ کیئر کمشنز کے ساتھ مل کر اتائیت کے خلاف کریک ڈاؤن اور ہسپتالوں میں عام سرنجز کی جگہ صرف ’آٹو ڈس ایبل‘ سرنجز کے لازمی استعمال پر توجہ مرکوز کی ہے تاکہ اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔