وہ گوجرنوالہ کے ’ستھرا پنجاب‘ کے دفتر میں دوپہر کے قریب داخل ہوا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس نے بے بسی سے ادھر ادھر دیکھا اور پھر اپنے ہاتھ میں پکڑی ایک بوتل سے کچھ محلول اپنے اوپر انڈیلنے لگا۔
راہداری سے تھوڑا فاصلے پر کھڑی ایک خاتون ریسیپشنسٹ یہ دیکھ کر تھوڑا گھبرا گئی۔
اسی دوران اس شخص نے اپنی جیب سے ماچس نکالی اور کئی کوششوں کے بعد اپنے کانپتے ہاتھوں سے ایک تیلی جلانے میں کامیاب ہو گیا۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اسے شعلوں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
یہ مناظر آٹھ جون 2026کے ہیں اور اپنے آپ کو آگ لگانے والا یہ شخص ’ستھرا پنجاب‘ پروگرام کا ایک سابق اہلکار ذیشان حسن تھا۔
مزید پڑھیں
-
’ہم جیسوں کے دن آتے ہیں تو موت بیچ میں ٹپک پڑتی ہے‘Node ID: 815411
ان کو ایک ہفتہ قبل ہی نوکری سے نکالا گیا تھا۔
آگ لگتے ہی ہلچل مچ جاتی ہے اور خاتون کے شور مچانے پر کچھ افراد اس آگ کو بجھانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اس دوران ذیشان کا سر اور سینہ بری طرح سے جھلس چکے ہوتے ہیں اور پھر جلدی سے ان کو ہسپتال لے کر جایا جاتا ہے۔ مقامی ہسپتال نے فوری طور پر لاہور لے جانے کا کہا اور یوں انہیں لاہور کے جناح ہسپتال منتقل کر دیا جاتا ہے۔
20 دن زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد بالاخر 28 جون کو ذیشان اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔
یہ کہانی پنجاب حکومت کے سب سے بڑے پروگرام ’ستھرا پنجاب‘ کے ایک ورکر کی ہے۔ اس پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک بشمول برطانیہ اور چین میں خاصی پزیرائی ملی ہے۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز اس کو اپنے چند ایک بڑے حکومتی کارناموں میں سے ایک سمجھتی ہیں۔ حکومت کا اس پروگرام کے تحت پنجاب کے ہر شہر اور گاوں کو صاف ستھرا بنانے کا عزم ہے لیکن ذیشان کی کہانی کچھ اور طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔
ذیشان حسن نے خودکشی کیوں کی؟
اردو نیوز نے ذیشان حسن کی کہانی جاننے کےلیے گوجرانوالہ میں ’صاف ستھرا پروگرام‘ کے درجن بھر ورکرز سے بات کی۔ تاہم کوئی بھی ’ڈر‘ کے مارے اپنی شناخت ظاہر کرنے کو تیار نہیں ہے۔
ایک مقامی صحافی علی اکرم نے بتایا کہ ذیشان حسن کی کہانی چند مہینے قبل اس وقت منظرعام پر آئی جب ڈپٹی کمشنر آفس میں ایک حکومتی پریس کانفرنس کے دوران اچانک وہ کھڑے ہو گئے اور بتایا کہ کیسے ان کی 20 ہزار روپے تنخواہ میں سے ایک ہزار روپے کاٹ کر انہیں 19ہزار روپے ملتے ہیں۔

چند ماہ قبل کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مہنگائی سے متعلق ہونے والی اس پریس کانفرنس جو کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی خصوصی مشیر سلمیٰ بٹ کر رہی تھیں، ایک شخص اچانک کھڑا ہو کر اپنا تعارف کرواتا ہے۔ اپنا نام ذیشان حسن بتاتا ہے اور دو شکوے کرتا ہے ایک یہ کہ تنخواہ میں ایک ہزار روپے کی کٹوتی ہے اور دوسرا یہ کہ پیسے بہت کم ہیں ان میں بچوں کا گزارا نہیں ہوتا۔
اسی دوران ہی سکیورٹی اہلکار ذیشان کو پریس کانفرنس سے باہر لے جاتے ہیں اور اس سے مزید پوچھ گچھ کرتے ہیں۔
سلمیٰ بٹ کہتی ہیں کہ وہ اس واقعے سے لاعلم ہیں اور ’ستھرا پنجاب‘ پروگرام کے معاملات وہ نہیں دیکھ رہیں۔
علی اکرم بتاتے ہیں کہ ’ذیشان کی مالی حالت بہت خراب تھی اور ان پیسوں سے گھر چلانا ان کے لیے مشکل تھا جبکہ پیسوں کی کٹوتی بھی انہیں کسی صورت قبول نہیں تھی۔
’جب انہوں نے پریس کانفرنس میں شور مچایا تو میں بھی وہیں تھا۔ میری ان سے بات بھی ہوئی اور وہ ستھرا پنجاب کے افسران اور اپنے ٹھیکیدار کے رویے بھی بہت تنگ تھے۔ وہ کہتے تھے کہ شکایت کرنے پر انہیں بدتمیزی کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ اس وقت بھی خاصے دلبرداشتہ نظر آئے۔ اس ویڈیو میں بھی وہ رونے والے انداز میں یہ بتا رہے تھے کہ ان پیسوں سے ان کا گزارہ نہیں ہوتا۔‘
جن درجن بھر ستھرا پنجاب ورکرز سے اردو نیوز نے بات کی ان کا بھی کم و بیش یہی موقف ہے کہ تنخواہ کا لیٹ ہونا اور افسران بالا کے رویے بہت سخت ہیں۔ کام زیادہ لیا جاتا ہے جبکہ ذہنی دباؤ اس سے بھی زیادہ ہے۔

تاہم کٹوتیوں کے حوالے سے ان کے موقف مختلف تھے۔
کچھ کا یہ کہنا تھا کہ جان بوجھ کر سزا کے طور ر قم کاٹ لی جاتی ہے اور کچھ کا کہنا تھا کہ انہیں کٹوتیوں کا سامنا نہیں البتہ رویے سے شکایت ضرور ہے۔
خیال رہے کہ ستھرا پنجاب پروگرام میں نچلی سطح پر صفائی کے لیے ملازمین حکومت براہ راست بھرتی نہیں کرتی بلکہ ہر تحصیل کی سطح پر نجی کمپنیاں اور ان کے ٹھیکیدار یہ بھرتیاں کرتے ہیں۔
تنخواہیں بھی وہی ادا کرتے ہیں جبکہ حکومت براہ راست ان نجی کمپنیوں سے ڈیل کرتی ہے۔
خودکشی پر حکومت کا موقف
ذیشان حسن کی خودکشی کے بعد حکومت نے معاملے کی چھان بین کے لیے ایک تحقیقاتی کمیٹی بنائی ہے جو اس واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔
ڈی جی ستھرا پنجاب اتھارٹی بابر صاحب دین کہتے ہیں کہ ’ابتدائی طور پر جو حقائق سامنے آئے ہیں ان میں یہ ہے کہ 17 فروری کو ذیشان نامی اس شخص کو ہمارے گوجرانوالہ کے ایک ایمپیریل وینچر نامی وینڈر نے نوکری دی اور یہ نوکری مستقل نہیں تھی بلکہ مختصر وقت کے لیے تھی۔ جس وقت ذیشان نے خود کشی کی اس وقت اس کے کسی بھی قسم کے واجبات کمپنی کی طرف واجب الادا نہیں تھے تاہم ابھی ہم انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔ جس کے بعد مزید حقائق سامنے آئیں گے۔‘
دوسری طرف ایمپیریل وینچر نامی اس کمپنی نے اردو نیوز کے سوالات پر تحریری طور پر بتایا کہ ’ذیشان کو بھرتی کیے جانے کے بعد ہی اس کے کام سے کمپنی مطمئن نہیں تھی اور ہمیں یہ بھی محسوس ہوا کہ وہ نفسیاتی اور رویے کے اعتبار سے متوازن نہیں تھے، جس کی وجہ سے وہ اپنے کام کی طرف پوری توجہ نہیں کر پا رہے تھے۔‘
کمپنی کے مطابق ’اس حوالے سے ان کو زبانی اور تحریری طور پر بھی آگاہ کیا گیا، کاؤنسلنگ بھی کی گئی۔ جب کسی بھی طرح کے بہتری کے آثار نظر نہیں آئے تو یکم جون کو ان کا کنٹریکٹ ختم کر دیا گیا اور ان کے تمام بقایا جاتا اس سے پہلے ہی ادا کر دیے گئے تھے اور ان تمام معاملات کا ریکارڈ موجود ہے۔‘

کمپنی نے کسی بھی طرح کی کٹوتی کے عمل کی بھی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ذیشان حسن کے ورثا کے ساتھ وہ رابطے میں ہیں اور ان کی مالی اور اخلاقی مدد کی جارہی ہے۔
تاہم گوجرانوالہ سے رکن پجاب اسمبلی جن کاتعلق اپوزیشن سے ہے، نے ذیشان کے لیے اسمبلی فلور پر بھی آواز اٹھائی۔
وہ کہتے ہیں کہ ’حکومت ذیشان کے گھر نہیں گئی میں تو کہتا ہوں اگر کچھ نہیں کر سکتے تو صرف جا کر تعزیت ہی کر لیں۔ اسمبلیوں میں اربوں کھربوں کی باتیں ہو رہی ہوتی ہیں لیکن عوام ایک ایک روپے کو ترس گئے ہیں۔‘
’ذیشان کے آخری الفاظ یہ تھے کہ میرے بچوں کو سنبھال لینا ان کا خیال رکھ لینا۔ میرا خیال ہے جس شخص نے احتجاجاً اپنی جان ہی دے دی اس سے زیادہ بڑی بات اور کیا ہو سکتی ہے۔‘












