گڈگورننس کے بغیر ملک کے معاملات حل نہیں ہوسکتے، گڈ گورننس کے لیے کچھ کرنا پڑے گا: ترجمان افواج پاکستان
جمعہ 31 جولائی 2026 13:44
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ گڈگورننس کے بغیر ملک کے معاملات حل نہیں ہوسکتے۔
جی ایچ کیو راولپنڈی میں پریس یفنگ دیتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی کا بیان ان کی ذاتی رائے ہے تاہم گڈ گورننس کے بغیر آپ کے معاملات حل نہیں ہوسکتے۔
انہوں نے کہاکہ نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات ہیں جس پرتمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں، پاکستان کی سکیورٹی کےلیے گڈگورننس انتہائی اہم ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی نے کہاکہ مسائل حل نہیں ہورہے، اس کا مطلب ہے گڈ گورننس کےلیے کچھ کرنا پڑے گا، اچھی حکمرانی پاکستان کےعوام کا حق ہے، انہیں اس کی ضرورت ہے، پاکستان کا نوجوان ایک پڑھا لکھا نوجوان ہے۔
کشمیر پاکستان کا لاڈلا بچہ ہے، سب سے زیادہ وسائل کشمیر کو ملتے ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر ایک دوسرے کے ساتھ اٹوٹ تعلق رکھتے ہیں اور کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے۔
پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ کشمیر ماضی میں بھی پاکستان کا اٹوٹ انگ تھا، آج بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ کشمیری عوام نے کرنا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا انڈیا کے ساتھ۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر سے نقل مکانی کرنے والے کشمیری اس لیے اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے کیونکہ وہاں ایک ظالمانہ نظام قائم ہے۔
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بعض عناصر اپنی بات منوانے کے لیے دباؤ کا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں جبکہ ریاست نے انہیں جمہوری عمل میں حصہ لینے کا مشورہ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مظاہرین سے کہا گیا کہ وہ انتخابات میں حصہ لیں، اسمبلی میں آئیں اور آئینی و جمہوری طریقے سے اپنا مؤقف پیش کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان عناصر کا ایجنڈا اب سب کے سامنے واضح ہوتا جا رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کشمیر پاکستان کا لاڈلا بچہ ہے، سب سے زیادہ وسائل کشمیر کو ملتے ہیں۔
دہشت گردوں کے ساتھ بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں، انہیں ہتھیار ڈالنا ہوں گے: ترجمان پاکستانی فوج
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ملک میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران مجموعی طور پر 40 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں اور دہشت گردوں کے لیے صرف دو راستے ہیں، یا تو وہ قانون کے مطابق ہتھیار ڈال دیں یا پھر سکیورٹی فورسز انہیں ختم کر دیں گی۔
جمعے کو راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی اور سکیورٹی کی صورتحال پر پریس بریفنگ دیتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران ملک بھر میں بڑے پیمانے پر انسداد دہشت گردی آپریشنز کیے گئے۔ ان کے مطابق بلوچستان میں اب تک 31 ہزار جبکہ خیبر پختونخوا میں 7 ہزار 177 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں
انہوں نے بتایا کہ ’رواں سال اب تک دہشت گردی کے مختلف واقعات میں 819 افراد شہید ہوئے، جن میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے دوران پاکستانی فوج کے 303 اہلکار جبکہ 322 شہری شامل ہیں۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے مجموعی طور پر 2084 مصدقہ دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ انہوں نے کہا کہ فورسز کی جانب سے اوسطاً روزانہ 194 آپریشنز کیے گئے، جن کے نتیجے میں ہر روز تقریباً 10 دہشت گرد مارے گئے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ مجموعی طور پر 28 خودکش حملوں کے واقعات پیش آئے جبکہ ٹانک اور کراچی میں ہونے والے حملوں میں افغان شہری ملوث تھے۔
انہوں نے کہا کہ جان بوجھ کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ بلوچستان میں حالات خراب ہیں، تاہم دہشت گردوں کے ساتھ بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد یا تو قانون کے مطابق ہتھیار ڈال دیں یا پھر سکیورٹی فورسز ان کے خلاف کارروائی جاری رکھیں گی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان میں آئین اور قانون سب کے لیے یکساں ہیں اور ریاستی معاملات بھی اسی دائرہ کار میں چلتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے ’ہارڈ اسٹیٹ‘ کی اصطلاح کو غلط انداز میں پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام معاملات آئین اور قانون کے مطابق ہوں۔ ان کے بقول ہارڈ اسٹیٹ سے ہرگز یہ مراد نہیں کہ ریاست کو فوج چلا رہی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست کے ساتھ وفادار رہے کیونکہ ریاست کے وجود سے ہی سیاست اور دیگر قومی ادارے قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہی ہماری پہلی اور آخری شناخت ہے اور ریاست ہم سب کے لیے سب سے بڑھ کر ہے۔
