کراچی: تین سالہ فروا کی موت ڈکیتی سے نہیں ’گھر کا واقعہ‘ نکلی، والد ہی ملزم قرار
کراچی: تین سالہ فروا کی موت ڈکیتی سے نہیں ’گھر کا واقعہ‘ نکلی، والد ہی ملزم قرار
جمعہ 31 جولائی 2026 10:36
زین علی -اردو نیوز، کراچی
بچی کی میت کو عباسی شہید ہسپتال سے پوسٹ مارٹم کرائے بغیر لے جایا گیا تھا (فوٹو: ویڈیو گریب)
پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کراچی کے ضلع وسطی میں تین سالہ بچی فروا کی مبینہ طور پر ڈکیتی کے دوران گولی لگنے سے ہلاکت کا معمہ پولیس نے چند گھنٹوں میں حل کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ واقعہ ڈکیتی نہیں بلکہ گھر میں پیش آنے والا ایک حادثہ تھا، جس کے بعد بچی کے والد نے گرفتاری سے بچنے کے لیے ’جھوٹی کہانی گھڑ کر‘ پولیس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔
پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر بچی کے والد محمد رحمان نے موقف اختیار کیا تھا کہ ایف سی ایریا کی رئیس امروہوی کالونی میں ڈاکوؤں نے مزاحمت پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ان کی کمسن بیٹی فروا گولی لگنے سے ہلاک ہو گئی۔ تاہم تفتیش کے دوران سامنے آنے والے شواہد اور بیانات نے اس دعوے کو مشکوک بنا دیا جس کے بعد تحقیقات کا رخ تبدیل کیا گیا۔
ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل ڈاکٹر محمد عمران خان کے مطابق شریف آباد پولیس نے جدید تفتیشی طریقوں، جائے وقوعہ کے معائنے اور لواحقین سے مسلسل پوچھ گچھ کے ذریعے چند ہی گھنٹوں میں واقعے کی اصل حقیقت تک رسائی حاصل کر لی۔
پولیس نے اردو نیوز کو بتایا کہ جب تفتیشی ٹیم مبینہ جائے وقوعہ پر پہنچی تو وہاں ایسے کوئی شواہد موجود نہیں تھے جو ڈکیتی یا فائرنگ کے واقعے کی تصدیق کرتے۔
پولیس کو جائے وقوعہ سے خون کے نشانات ملے اور نہ ہی گولی چلنے کے بعد گرنے والے پستول کے خول برآمد ہوئے۔ اس کے علاوہ لواحقین بھی پولیس کو اس مقام کی واضح نشاندہی نہ کر سکے جہاں مبینہ طور پر ڈکیتی ہوئی تھی۔
تحقیقات کے دوران ایک اور اہم پہلو اس وقت سامنے آیا جب معلوم ہوا کہ بچی کی میت کو عباسی شہید ہسپتال سے پوسٹ مارٹم کرائے بغیر لے جایا گیا۔
پولیس کے مطابق ایسے مقدمات میں پوست مارٹم ایک اہم قانونی تقاضا ہوتا ہے کیونکہ اس سے موت کی اصل وجہ، گولی لگنے کا زاویہ اور دیگر فرانزک شواہد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق لواحقین کے بیانات میں تضاد بی پایا گیا۔ مختلف اوقات میں دیے گئے بیانات ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے تھے جس کے باعث تفتیشی افسران کو شبہ ہوا کہ واقعے کی اصل حقیقت چھپائی جا رہی ہے۔
ولیس نے ملزم کے وہ خون آلود کپڑے بھی قبضے میں لے لیے ہیں جنہیں مبینہ طور پر واقعے کے بعد تبدیل کیا گیا تھا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
بعد ازاں پولیس کی تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا کہ بچی فروا کو کسی ڈاکو نے نہیں بلکہ اس کے اپنے والد کی بندوق سے حادثاتی طور پر گولی لگی تھی۔
پولیس کے مطابق محمد رحمان گھر میں اپنی بندوق صاف کر رہا تھا کہ اسی دوران اچانک گولی چل گئی جو قریب موجود تین سالہ فروا کو جا لگی۔ گولی لگنے سے بچی شدید زخمی ہوئی اور بعد ازاں جانبر نہ ہو سکی۔
ایس ایس پی سینٹرل کے مطابق ’بچی کی ہلاکت کے بعد والد نے اپنی غفلت اور ممکنہ قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے ڈکیتی کا جھوٹا ڈرامہ رچایا۔‘
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے ایک فرضی کہانی تیار کی، واقعے کو ڈکیتی کا رنگ دینے کی کوشش کی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔
تحقیقات کے دوران پولیس نے ملزم محمد رحمان کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق ملزم کی نشاندہی پر وہ بندوق بھی برآمد کر لی گئی ہے جس سے گولی چلنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ پولیس نے ملزم کے وہ خون آلود کپڑے بھی قبضے میں لے لیے ہیں جنہیں مبینہ طور پر واقعے کے بعد تبدیل کیا گیا تھا۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والے شواہد کو فرانزک کے لیے بھیجا جائے گا تاکہ واقعے کی مزید تصدیق کی جا سکے۔
اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر گھروں میں آتشیں اسلحہ رکھنے اور اس کے محفوظ استعمال سے متعلق سوالات کو بھی اجاگر کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گھروں میں اسلحہ موجود ہونے کی صورت میں اسے ہمیشہ بچوں کی پہنچ سے دور، مکمل حفاظتی انتظامات کے ساتھ رکھنا چاہیے، جبکہ صفائی یا مرمت کے دوران بھی اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ ہتھیار مکمل طور پر خالی ہو اور اردگرد کوئی فرد، خصوصا بچے، موجود نہ ہوں۔
جامعہ کراچی شعبہ جرمیات کی سربراہ ڈاکٹر نائمہ سعید نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی شخص کی غفلت یا لاپروائی کے نتیجے میں کسی کی جان چلی جائے تو اس معاملے میں قوانین کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے جبکہ واقعے کے بعد پولیس کو غلط معلومات فراہم کرنا یا تفتیش کو گمراہ کرنے کی کوشش کرنا بھی ایک قابل سزا جرم ہے۔‘