Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ویلنشیا ٹاؤن کیس: ماں مرکزی ملزمہ قرار، ’بچوں کو مارنے کے لیے 1 لاکھ 38 ہزار روپے کا زہر خریدا‘

پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں مقیم امریکی نژاد خاتون اور اُن کے تین بچوں کی ہلاکت کے پُراسرار مقدمے کا ڈراپ سین ہو گیا ہے۔ 
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور سید ذیشان رضا نے جمعے کو پریس بریفنگ میں بتایا کہ ’بچوں کی سفاک ماں ہی اس واقعے کی مرکزی ملزمہ ثابت ہوئی ہے۔‘ 
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’کیس میں ملوث مزید دو افراد کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے جن میں ایک کیمیکل شاپ کا مالک جبکہ دوسرا رائیڈر ہے۔‘
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کے مطابق ’گرفتار کیمیکل شاپ کا مالک آن لائن کیمیکل فروخت کرتا تھا اور اسی کے ذریعے مقتول خاتون کو زہریلا کیمیکل فراہم کیا گیا تھا۔‘
یاد رہے کہ رواں سال 17 جولائی کو لاہور کے علاقے ویلنشیا ٹاؤن میں 40 برس کی امریکی شہری علینہ اور اُن کے تین بچوں کی لاشیں گھر سے برآمد ہوئی تھیں۔ 
ابتدائی طور پر کھانے میں زہر کا شُبہ ظاہر کیا گیا تھا اور بچوں کے والد ناصر ڈوگر کو تفتیش کے لیے حراست میں لیا گیا تھا۔ شوہر نے الزام عائد کیا تھا کہ میری غیر موجودگی میں اہلیہ نے آئس کریم میں زہر ملا کر بچوں کو کھلایا۔ 
بعد میں پولیس نے ٹیلی فون کے امریکہ اور کینیڈا میں مقیم علینہ کی بہنوں کے بیانات بھی ذریعے قلم بند کیے جنہوں نے تصدیق کی کہ خاتون ذہنی عارضے کا شکار تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان روانگی سے قبل علینہ نے اپنی ادویات کا استعمال کم کر دیا تھا۔ واقعے کے بعد امریکی سفارت خانے کے حکام نے بھی تفتیشی ٹیم سے رابطہ کیا تھا۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نے مزید بتایا کہ امریکی نژاد خاتون طویل عرصے سے ذہنی عارضے میں مبتلا تھیں اور آن لائن، مرنے کے مختلف طریقے سرچ کرتی رہتی تھیں۔
’اسی دوران اُن کا رابطہ آن لائن کیمیکل فروخت کرنے والے ایک دُکان کے مالک سے ہوا جس نے زہریلا کیمیکل فراہم کرنے کے عوض ایک لاکھ 38 ہزار 540 روپے بذریعہ منی گرام وصول کیے۔‘
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کے مطابق ’خاتون اپنے شوہر اور بچوں کے ہمراہ امریکہ سے لاہور پہنچی تھیں اور انہوں نے ویلنشیا ٹاؤن لاہور میں کرائے کے مکان میں رہائش اختیار کی تھی۔‘
’انہوں نے کیمیکل پر مشتمل پارسل اپنی ایک دوست کے گھر منگوایا۔ 16 جولائی کو خاتون نے نجی پیزا شاپ پر اپنی دوست کے ہمراہ کھانا کھایا اور وہیں سے کیمیکل والا پارسل وصول کیا۔‘
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ’اگلے روز 17 جولائی کو انہوں نے آئس کریم میں پوٹاشیم سائنائیڈ ملا کر تینوں بچوں کو کھلا دی۔ بچوں کو زہر ملی آئس کریم کھلانے کے بعد ملزمہ نے خود بھی وہی آئس کریم کھائی اور بعد میں اپنے شوہر ناصر کو بھی زہر آلود آئس کریم کھلانے کی کوشش کی جو ناکام رہی۔‘
ڈی آئی جی نے واضح کیا کہ علینہ کے شوہر ناصر کا پولی گرافک ٹیسٹ کرایا گیا اور اُن سے مکمل تفتیش کی گئی جس کے بعد وہ اس واقعے میں ملوث نہیں پائے گئے۔ 
ان کے مطابق ’تمام حالات و واقعات اور فورینزک رپورٹ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ملزمہ نے بچوں کو زہر دینے کے بعد خود کشی کر لی۔‘
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ’دونوں گرفتار ملزمان کو جدید تفتیشی مہارت اور سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے شناخت کر کے گرفتار کیا گیا۔‘
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نے کہا کہ پولیس پراسیکیوشن پارٹنرشپ کی مدد سے گرفتار ملزمان کے خلاف مضبوط چالان مُرتب کر کے انہیں قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔
بریفنگ کے اختتام پر ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور سید ذیشان رضا نے تفتیشی ٹیم کے لیے نقد انعام اور تعریفی اسناد کا اعلان بھی کیا۔ 

شیئر: