غزہ کے حوالے سے بیانیہ تبدیل ہو رہا ہے: معروف ہسپانوی اداکار خاویئر ہارڈیم
غزہ کے حوالے سے بیانیہ تبدیل ہو رہا ہے: معروف ہسپانوی اداکار خاویئر ہارڈیم
اتوار 17 مئی 2026 22:04
اداکار خاویئر بارڈیم ہسپانوی ہدایت کار روڈریگو سوروگوئین کی فلم ’دی بیلووڈ‘ میں کام کر رہے ہیں (فائل فوٹو: گیٹی)
اپنے بے باک مؤقف کے لیے معروف ہسپانوی اداکار خاویئر بارڈیم نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے خلاف کھل کر مہم چلانے کے باوجود انہیں ’پہلے سے کہیں زیادہ کام‘ مل رہا ہے، جس کی وجہ انہوں نے اس تنازعے کے بارے میں ’بیانیے میں تبدیلی‘ کو قرار دیا۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق فروری میں ہونے والی آخری آسکر تقریب میں، فلم ’نو کنٹری فار اولڈ مین‘ کو اس سیاسی طور پر واضح مؤقف رکھنے والے اداکار نے بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کا ایوارڈ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’جنگ کو انکار اور آزاد فلسطین کو ہاں۔‘
فلسطین کے حق میں مہم چلانے والوں میں شامل معروف اداکارہ سوزن سرینڈن کے ساتھ ساتھ دیگر کم معروف شخصیات نے شکایت کی ہے کہ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی اقدامات کی مذمت کے بعد انہیں کام ملنا کم ہو گیا ہے۔
خاویئر بارڈیم ہسپانوی ہدایت کار روڈریگو سوروگوئین کی فلم ’دی بیلووڈ‘ میں کام کر رہے ہیں، انہوں نے کانز فلم فیسٹیول میں اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے خیال میں یہ ضروری ہے کہ انسان یہ حقیقت جانتے ہوئے اپنا نقطۂ نظر بیان کر سکے کہ کچھ لوگ اس سے اتفاق کریں گے اور کچھ نہیں کریں گے۔‘
رواں سال کانز جیوری کے رکن سکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والے سکرین رائٹر پال لاورٹینے نے ہالی وڈ پر الزام لگایا کہ ’وہ سرینڈن، بارڈیم اور مارک روفالو جیسی فلمی شخصیات کو ان کے سیاسی مؤقف کی وجہ سے بلیک لسٹ کر رہے ہیں۔‘
57 سالہ بارڈیم نے کہا کہ ’مجھے اس بات کی کوئی فکر نہیں کیونکہ میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے کام مل رہا ہے۔ میں ایسی جگہ پر ہوں جہاں میں اپنے خیالات کا اظہار کر سکتا ہوں اور مجھے کام کی پیشکش بھی ہوتی رہتی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ کچھ لوگ اس بات سے خوفزدہ ہوتے ہوں گے کہ انہیں اس وجہ سے بلایا نہیں جائے گا، لیکن میرے ساتھ ایسا نہیں ہے۔‘
اداکارہ سوزن سرینڈن نے شکایت کی ہے کہ اسرائیلی اقدامات کی مذمت کے بعد انہیں کام ملنا کم ہو گیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
انہوں نے مزید کہا کہ ’حقیقت میں اس کے برعکس ہو رہا ہے۔ وہ اب تو مجھے پہلے سے زیادہ بلاتے ہیں کیونکہ بیانیہ بدل رہا ہے۔ اب یہ ان لوگوں کے کنٹرول میں نہیں رہا جو ہمیشہ اسے کنٹرول کرتے تھے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اب یہ سمجھنے لگے ہیں کہ جب آپ کسی نسل کشی کی حمایت یا اس کا جواز پیش کرتے ہیں جیسا کہ اس وقت ہو رہا ہے تو اس کے نتائج بھی برآمد ہوتے ہیں، اور معاشرہ اس حقیقت سے آگاہ ہے۔‘
فلم ’دی بیلووڈ‘ میں بارڈیم نے شاندار اور اثرانگیز کردار ادا کیا ہے، جس میں وہ ایک مشہور فلم ڈائریکٹر کا کردار ادا کر رہے ہیں جو امریکہ میں کئی سال گزارنے کے بعد سپین واپس لوٹ آتا ہے تاکہ اپنی علیحدہ رہنے والی اداکارہ بیٹی (وکٹوریہ لوئینگو) کے ساتھ ایک فلم بنا سکے۔
اس فلم کا پریمیئر سنیچر کو ہوا جو مغربی صحارا پر سپین کے سابق نوآبادیاتی قبضے کے موضوع کو بھی اجاگر کرتی ہے، اور یہ ایک ایسا علاقہ ہے جس پر مراکش اور آزادی کے حامی صحرا کے گروہ پولیساریو فرنٹ کے درمیان تنازع جاری ہے۔