Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

تبوک میں ’ہداج‘ کے کنوئیں کو فیاضی کا خراج کیوں پیش کیا جا رہا ہے؟

پانچویں صدی عیسویں میں تیماء کے حکمران نے ہداج کے کنویں کا ذکر شاعری میں کیا (فوٹو: ایس پی اے)
تبوک ریجن میں جزیرۂ عرب کے قدیم ترین تاریخی کنوؤں میں ’بئر ہداج‘ کا بھی شمار ہوتا ہے، یہ کنواں تیماء کے تاریخی شہر کے وسط میں واقع ہے۔
شاہ عبدالعزیز پبلک لائبریری کے انسائیکلوپیڈیا آف سعودی عرب کے مطابق اس کنویں کی تاریخ چھٹی صدی قبل از مسیح تک جاتی ہے۔
سعودی خبر رساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق ’ہداج کنواں‘ پانی کی بڑی مقدار کی وجہ سے مشہور رہا ہے جبکہ مقامی روایت میں اسے سخاوت و فیاضی کی علامت مانا جاتا ہے۔
کنویں کا دہانہ 65 میٹر چوڑا اور گہرائی 12 میٹر تک ہے۔ اس کی منڈیر اور اندرونی دیواروں کو تراشے ہوئے پتھروں سے تعمیر کیا گیا ہے۔
کنویں سے پانی نکالنے اور اسے تقسیم کرنے کے لیے 31 نالیاں ہیں جنہیں مخصوص پتھروں سے تعمیر کیا گیا ہے۔ موسمِ گرما میں اس کنویں سے بیک وقت 100 اونٹوں کو پانی پلانے کی گنجائش ہوتی ہے۔
مقامی طور پر اسے ’شیخ الجویہ‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کنویں کو مختلف ادوار میں متعدد ناموں سے جانا جاتا رہا ہے جن میں’عین ہداج، القلیب، البئر، الماء، راعی التسعین غرب اور مروی العطشا‘ کے نام شامل ہیں۔

کنویں کی دیواریں مخصوص پتھروں سے تعمیر کی گئی ہیں (فوٹو: ایس پی اے)

عربی شاعری میں بھی سخاوت کی علامات کے طور پر ’بئر ہداج‘ کا ذکر نمایاں رہا ہے۔
پانچویں صدی عیسوی میں تیماء کے حکمران ’السموال‘ ان اولین شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی شاعری میں اس کنویں کا ذکر ’الماء‘ (پانی) کے نام سے کیا تھا۔ وہ اپنے قلعے اور تیماء کے اس کنویں پر فخر کرتے تھے اور اس حوالے سے ان کے اشعار بھی موجود ہیں۔
ہداج کنواں 1954 تک علاقے کے رہائشیوں، کھیتوں اور خانہ بدوش قبائل کو راویتی طریقے سے (اونٹوں کے ذریعے) پانی نکالنے کے لیے مخصوص تھا۔

کنویں کی بحالی کا منصوبہ سال 2012 میں مکمل کیا گیا (فوٹو: ایس پی اے)

مختلف ادوار میں تجارتی قافلوں اور مسافروں کے لیے بھی یہ کنواں بے حد اہمیت کا حامل رہا ہے۔
سال ہجری 1433 بمطابق 2012 میں اس کنویں کی بحالی اور اصلاح و مرمت کا کام مکمل کیا گیا جس کے بعد یہ دوبارہ ایک نمایاں تاریخی اور سیاحتی مقام بن گیا۔ یہ کنواں آج بھی پانی کا اہم ذریعہ ہے۔

شیئر: