آبنائے ہرمز سے دو جہازوں کا گزر، ’ایک پاکستان دوسرا چین جا رہا ہے‘
سمندری سفر پر نظر رکھنے والے اداروں کے ڈیٹا کے مطابق پیر کو مائع قدرتی گیس سے بھرا جہاز آبنائے ہرمز سے ہوتا ہوا پاکستان کی طرف گیا جبکہ خام تیل کا چینی جہاز تقریباً تین ماہ تک پھنسے رہنے کے بعد اپنے ملک کی طرف روانہ ہوا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 28 فروری کو امریکہ و اسرائیل کے ایران پر حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز کے راستے گزرنے والی ٹریفک کو بری طرح متاثر کیا ہے اور یہ انتہائی اہمیت کی حامل آبی گزرگاہ ہے کیونکہ یہاں سے عالمی سطح پر ہونے والی تیل و گیس کی تجارت کا پانچوں حصہ گزرتا ہے۔
یہ ٹینکرز رواں ماہ اس روٹ سے گزرنے والے ان چند جہازوں میں شامل ہیں جس کے استعمال کی ہدایت ایران کی جانب سے کی گئی ہے۔
پچھلے ہفتے خام تیل کے بہت بڑے جہاز چین اور جنوبی کوریا کی طرف جاتے ہوئے گزرے تھے جن میں تقریباً 60 لاکھ بیرل خام تیل تھا۔
شپنگ ڈیٹا فراہم کرنے والی کمپنیوں کیپلر اور ایلسیگ کے مطابق پاکستان جانے والا جہاز کے منگل کو اپنی منزل پر پہنچنے اور کارگو اتارنے کی توقع ہے۔ یہ 28 مارچ کو قطر کی راس لفان بندرگاہ سے ایل این جی لے کر روانہ ہوا تھا۔
ڈیٹا کے مطابق چین جانے والا جہاز ویرونا سنیچر کو آبنائے ہرمز سے نکلا اور اس کے 12 جون کو چین کے مشرقی علاقے میں واقع ننگبو بندرگاہ تک پہنچنے کی امید ہے جہاں وہ اپنا کارگو اتارے گا۔
سنگاپور کے جھنڈے تلے سفر کرنے والا جہاز کو ایشیا کی سب سے بڑی ریفائنری یونیپک نے چارٹر کیا تھا اور اس میں 20 لاکھ بیرل کے قریب خام تیل موجود ہے جو کہ اس نے 26 فروری کو عراق میں بصرہ کی بندرگاہ سے لوڈ کیا تھا، جس کے دو روز بعد جنگ شروع ہو گئی تھی اور اس کو سفر روکنا پڑا تھا۔
جنگ شروع ہونے سے قبل آبنائے ہرمز سے اوسطاً ایک سو 25 سے ایک سو 40 تک جہاز روزانہ گزرتے تھے، تاہم اس کی بندش سے یہ تعداد سمٹ کر انتہائی کم ہو گئی ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر میں توانائی کے بحران نے سر اٹھایا ہے۔
اس وقت بھی کئی جہاز آبنائے ہرمز کے اردگرد کے علاقوں میں موجود ہیں اور وہ گزر نہیں پا رہے جن میں 20 ہزار کے قریب کارکن بھی پھنسے ہوئے ہیں۔