Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

حج 2026: غروبِ آفتاب کے ساتھ حجاج میدانِ عرفات سے رخصت ہوجائیں گے

حجاج کی آمد و رفت کو منظم کرنے کے انتظامات مثالی تھے (فوٹو، علی خمج)
 دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں فرزندانِ اسلام حج کے رکن اعظم کی ادائیگی کےلیے میدان عرفات میں جمع ہیں، جہاں انہوں نے زوالِ آفتاب کے بعد ظہراور عصر کی نمازیں قصر و جمع کی صورت میں ادا کیں اور خطبہ حج سنا۔
 جبل الرحمہ اور اس کے اطراف میں بیٹھے حجاج دعاوں میں مصروف رہے۔ الرحمہ پہاڑ پر جانے اور واپس آنے کے لیے راستوں کو جدا رکھا گیا ہے تاکہ آمد ورفت میں حجاج کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
تفصیلات کے مطابق حج 2026 کا سب سے اہم مرحلہ اور رکنِ اعظم ’وقوف عرفہ‘ کی ادائیگی کے لیے حجاج 8 ذوالحجہ کی شب سے ہی عرفات منتقل ہونا شروع ہو گئے تھے۔

حجاج جبل الرحمہ پر خشوع و خضوع سے دعاوں میں مشغول رہے(فوٹو، علی خمج)

حجاج کی میدان عرفات میں آمد کا سلسلہ صبح تک جاری رہا، یہاں وہ غروبِ آفتاب تک قیام کریں گے، غروب کے ساتھ ہی حجاج قافلوں کی صورت میں مزدلفہ کے میدان میں پہنچا دیا جائے گا، جہاں وہ مغرب اور عشاء کی نمازیں قصر و جمع کی صورت میں ادا کرنے کے بعد رات قیام کریں گے۔ 10 ذوالحجہ کی صبح سویرے مزدلفہ سے وادی منی کے لیے رخصت ہوں گے۔
میدان عرفات میں وقوف عرفہ کے لیے حجاج کو لانے کے انتظامات مثالی رہے۔ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے میدان عرفات جانے والے تمام راستوں پر متعدد چیک پوائنٹس قائم کی گئیں، جہاں سے پرمٹ کے بغیر کسی کو گزرنے کی اجازت نہیں ۔
ٹریفک پولیس کی جانب سے حجاج کو لانے والی بسوں کے لیے خصوصی روٹس بنائے گئے جس کا مقصد ٹریفک ازدحام پرقابو پانا اور حجاج کی آمد ورفت کو بہتر طور پر جاری رکھنا ہے۔

جبل الرحمہ پر نصب اوپن ایئرکنڈیشنز سے گرمی کی تپش ٹھنڈک میں بدل گئی(فوٹو، اردو نیوز)

مسجد نمرہ اور جبل الرحمہ پر جانے والے حجاج کو سڑک عبور کرنے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے جامع سیکیورٹی منصوبہ مرتب کیا گیا۔ چوراہوں پر بڑی تعداد میں ٹریفک پولیس کے اہلکار تعینات ہیں تاکہ حجاج کو سڑک عبور کرنے میں دشواری نہ ہو۔
عرفات میں حجاج کی رہنمائی کے لیے وزارت اسلامی امور و دعوۃ والارشاد کی جانب سے مختلف مقامات پر خصوصی کیبنز قائم کیے گئے ہیں جہاں متعدد زبانوں میں دینی معلومات پر مبنی کتابچے تقسیم کیے جاتے رہے۔
سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ رضاکار بھی حجاج کی خدمت میں پیش پیش رہے، جبکہ فلاحی تنظیموں کی جانب سے پانی کی بوتلیں اور اشیائے خورونوش کی تقسیم کا جامع انتظام دیکھنے میں آیا۔
 
 

شیئر: