Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کراچی کے پُرشور صدر میں خاموش کھڑی تاریخی عمارت جو ’مذہبی و ثقافتی ہم آہنگی کا نشان‘ ہے

کراچی کا مصروف ترین علاقہ صدر ویسے تو شور شرابے میں ڈوبا رہتا ہے مگر وہاں ایک ایسی عمارت بھی موجود ہے جو اپنے وجود سے اس شہر کے مہذب، منظم اور خوب صورت ماضی کی گواہی دیتی ہے۔ ایڈلجی ڈنشا چیریٹیبل ڈسپنسری بظاہر ایک چھوٹا سا عوامی شفا خانہ ہے مگر حقیقت میں یہ کراچی کی تہذیبی تاریخ، پارسی برادری کی فلاحی روایت اور نوآبادیاتی طرز تعمیر کا ایک خوبصورت نمونہ ہے۔
پریڈی سٹریٹ اور راجہ غضنفر علی روڈ کے مقام پر واقع اس عمارت کے متوازن خدوخال، بلند مرکزی گھڑیال اور پتھر کی تراشیدہ دیواروں پر نگاہ پڑتے ہی احساس ہوتا ہے کہ یہ صرف اینٹ اور پتھر کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک عہد کی جمالیاتی سوچ کا مظہر ہے۔
شہر کی تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے پیرزادہ سلمان کے مطابق یہ عمارت 1882 میں تعمیر ہوئی یہ اطالوی طرز تعمیر میں ڈیزائن کی گئی تھی۔ یہ طرز تعمیر 19ویں صدی میں یورپ میں مقبول ہوا اور اپنی ہم آہنگی، محرابی کھڑکیوں، متناسب ساخت اور شاندار منظرنامے کے لیے جانا جاتا ہے۔ کراچی جیسے بندرگاہی شہر میں اس طرز کی عمارت کا تعمیر ہونا اس بات کی علامت تھا کہ شہر صرف تجارتی مرکز ہی نہیں بلکہ ایک ثقافتی اور شہری تجربہ گاہ بھی بن رہا تھا۔
ایک شخص جس نے دولت کو خدمت میں بدل دیا
اس عمارت کی تعمیر کے پس منظر میں ایک ایسی شخصیت کا نام آتا ہے جنہوں نے اپنی کامیابی کو صرف ذاتی آسائش تک محدود نہیں رکھا۔ سیٹھ ایڈلجی ڈنشا کراچی کے معروف پارسی تاجر اور مخیر شخصیت تھے۔ انہوں نے غربت سے سفر شروع کیا اور بعدازاں بڑے زمین داروں میں شمار ہونے لگے۔ تاہم ان کی اصل شناخت دولت نہیں بلکہ خدمت خلق تھی۔
جب کراچی کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی تھی اور مزدور طبقے کو بنیادی طبی سہولیات کی ضرورت تھی، تو ایڈلجی ڈنشا نے اس مقصد کے لیے دل کھول کر تعاون کیا۔ انہوں نے ڈسپنسری کی تعمیر پر آنے والی لاگت کا نصف حصہ، یعنی قریباً پانچ ہزار پانچ سو روپے عطیہ کیے۔ اس زمانے میں یہ رقم ایک خطیر سرمایہ شمار ہوتی تھی۔
پیرزادہ سلمان بتاتے ہیں کہ ’ڈنشا کا یہ اقدام اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ کراچی کی تعمیر میں مختلف مذہبی اور نسلی برادریوں نے مشترکہ کردار ادا کیا۔ پارسی برادری نے تعلیمی اداروں، ہسپتالوں، پارکوں اور دیگر فلاحی منصوبوں کے ذریعے شہر کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔‘

ابتدائی دور میں یہاں روزانہ 100 سے زائد مستحق مریضوں کا علاج کیا جاتا تھا (فوٹو: ویکیپیڈیا)

جیمز اسٹریچن کا فن تعمیر
ڈسپنسری کا نقشہ جیمز اسٹریچن نے تیار کیا جو اس دور میں کراچی میونسپلٹی کے انجینیئر تھے۔ جیمز اسٹریچن نے شہر کی کئی اہم عمارتوں کی منصوبہ بندی کی جن میں ایمپریس مارکیٹ بھی شامل ہے۔
ایڈلجی ڈنشا ڈسپنسری میں اسٹریچن نے اطالوی نشاۃ ثانیہ کے اثرات کو مقامی تعمیراتی مواد کے ساتھ اس انداز میں یکجا کیا کہ عمارت ایک طرف یورپی عظمت کی جھلک پیش کرتی ہے تو دوسری طرف کراچی کے موسم اور ماحول سے ہم آہنگ بھی نظر آتی ہے۔
اس عمارت کی نمایاں خصوصیات میں گزری کے پتھر سے بنی مضبوط بیرونی دیواریں، نیم دائرہ نما محرابی کھڑکیاں، بلند مرکزی گھڑیال، دھاتی مخروطی چھت سمیت دیگر شامل ہیں۔
صدر کے ہنگامے میں سکون کی ایک جگہ
آج جب صدر کا علاقہ بے ہنگم تجاوزات، اشتہاری بورڈز اور بے ترتیب تعمیرات سے گھرا ہوا ہے تو یہ ڈسپنسری ایک خاموش احتجاج کی مانند محسوس ہوتی ہے۔ اس کی نفیس ساخت اس دور کی یاد دلاتی ہے جب شہری منصوبہ بندی میں حسن، تناسب اور عوامی مفاد کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔
پیرزادہ سلمان کہتے ہیں کہ ’اگر اس عمارت کی 19ویں صدی کی تصاویر کا موجودہ منظر سے تقابل کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ کراچی نے محض عمارتیں نہیں کھوئیں بلکہ شہری وقار اور جمالیاتی شعور کا ایک اہم حصہ بھی گنوا دیا ہے۔‘

ماہرین اس کو ایک فعال تاریخی ورثہ قرار دیتے ہیں اور تحفظ کا مطالبہ کرتے ہیں (فوٹو: ویکیپیڈیا)

ایک فعال تاریخی ورثہ
کراچی کی بہت سی تاریخی عمارتیں یا تو مسمار ہو چکی ہیں، یا تجارتی دباؤ کے باعث اپنی اصل شناخت کھو بیٹھی ہیں۔ مگر ایڈلجی ڈنشا ڈسپنسری آج بھی فعال ہے اور عام شہریوں کو طبی سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ یہی امر اسے دیگر ورثہ عمارتوں سے ممتاز کرتا ہے۔
ابتدائی دور میں یہاں روزانہ 100 سے زائد مستحق مریضوں کا علاج کیا جاتا تھا۔ آج بھی یہ عمارت اپنے اصل مقصد کے مطابق خدمت انجام دے رہی ہے۔ اگرچہ اندرونی حصوں میں وقت کے ساتھ کچھ تبدیلیاں ہوئی ہیں لیکن اس کی بنیادی تاریخی شناخت برقرار ہے۔
مذہبی اور ثقافتی ہم آہنگی کی علامت
یہ ڈسپنسری اس حقیقت کا روشن ثبوت ہے کہ کراچی کی بنیاد صرف سرکاری منصوبوں پر نہیں رکھی گئی بلکہ مختلف قوموں اور مذہبی برادریوں نے مل کر اس شہر کو سنوارا۔ پارسی، ہندو، مسلمان اور عیسائی برادریوں نے اپنے اپنے انداز میں اس بندرگاہی شہر کی ترقی میں حصہ ڈالا۔ ایڈلجی ڈنشا ڈسپنسری یاد دلاتی ہے کہ شہر کی اصل طاقت اس کی تنوع میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب مختلف برادریاں اجتماعی بھلائی کے لیے کام کرتی ہیں تو شہر صرف آبادی کا مجموعہ نہیں رہتا بلکہ تہذیبی شناخت بن جاتا ہے۔
تحفظ کی فوری ضرورت
اگرچہ یہ عمارت ابھی تک قائم ہے، لیکن اردگرد بڑھتا ہوا تجارتی دباؤ، آلودگی، غیر منصوبہ بند تعمیرات اور مناسب دیکھ بھال کی کمی اس کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسی تاریخی عمارتوں کا تحفظ صرف سرکاری اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ شہریوں، تعلیمی اداروں اور میڈیا کو بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

ڈسپنسری کا نقشہ جیمز اسٹریچن نے تیار کیا جو اس دور میں کراچی میونسپلٹی کے انجینیئر تھے (فوٹو: ویکیپیڈیا)

اس عمارت کو نصابی سرگرمیوں، ثقافتی دوروں اور شہری تاریخ کے مطالعات کا حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ نئی نسل اپنے شہر کی تہذیبی جڑوں سے واقف ہو سکے۔
صدر کے شور میں کھڑی ایڈلجی ڈنشا چیریٹیبل ڈسپنسری صرف ایک طبی مرکز نہیں بلکہ کراچی کے روشن ماضی کی ایک زندہ تصویر ہے۔ یہ عمارت بتاتی ہے کہ شہر کی ترقی صرف بلند عمارتوں اور کشادہ سڑکوں سے نہیں ہوتی بلکہ ایسے انسان دوست منصوبوں سے ہوتی ہے جو نسلوں تک عوام کی خدمت کرتے رہیں۔
پیرزادہ سلمان کے الفاظ میں ، یہ عمارت کراچی کی اس روح کی نمائندہ ہے جس میں خوب صورتی، خدمت اور تنوع ایک ساتھ موجود تھے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ 1882 میں تعمیر ہونے والی یہ خاموش عمارت آج بھی صدر کے شور میں نہایت وقار کے ساتھ کھڑی ہے، جیسے وقت کو یاد دلا رہی ہو کہ اصل عظمت وہی ہے جو انسانوں کی خدمت اور شہر کی تہذیبی شناخت دونوں کو محفوظ رکھے۔

شیئر: