فرانس اور سپین: 100 سال پرانی دشمنی، ’فرینچ کرس‘ اور بدلے کی کہانی
فرانس اور سپین: 100 سال پرانی دشمنی، ’فرینچ کرس‘ اور بدلے کی کہانی
منگل 14 جولائی 2026 15:57
سوشل ڈیسک -اردو نیوز
جب بھی فرانس اور سپین فٹبال کے میدان میں آمنے سامنے آتے ہیں تو یہ صرف دو یورپی طاقتوں کا مقابلہ نہیں ہوتا بلکہ ایک صدی پر محیط ایسی رقابت کا نیا باب ہوتا ہے، جس میں تاریخی فتوحات، تلخ شکستیں، آنسو، تنازعات اور یادگار لمحات سب کچھ شامل ہے۔
دونوں ٹیموں کے درمیان پہلا میچ 1922 میں ہوا تھا۔ ابتدائی برسوں میں سپین کا پلڑا واضح طور پر بھاری رہا۔ اسی دور میں فرانس کو کئی بڑی شکستوں کا سامنا کرنا پڑا، جن میں 1929 میں ہونے والی 8-1 کی شکست بھی شامل ہے۔
اس میچ میں ریال میڈرڈ کے سٹرائیکر گاسپار روبیو نے چار گول کر کے فرانس کے دفاع کو تہس نہس کر دیا تھا۔
فرانس اور سپین کے درمیان پہلا فٹبال میچ 1922 میں کھیلا گیا تھا۔
1930 اور 1940 کی دہائی میں بھی سپین کی برتری برقرار رہی۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران بھی دونوں ٹیمیں مدمقابل آئیں اور سپین نے فرانس کو باآسانی شکست دی۔
بعد ازاں کوچ بینیٹو دیاز کی قیادت میں سپین نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی اور 1949 میں پیرس میں فرانس کو 5-1 سے شکست دے کر یہ ثابت کیا کہ وہ یورپ کی مضبوط ترین ٹیموں میں شامل ہو چکا ہے۔
سپین کی ٹیم نے آغاز سے ہی سنہری دور دیکھا اور یورپ کی بہترین ٹیمز میں شمار ہوئی۔ (فوٹو: وکیمیڈیا کامنز)
تاہم وقت کے ساتھ یہ مقابلہ یکطرفہ نہیں رہا۔ 1950 کی دہائی سے دونوں ٹیموں کے درمیان مقابلے زیادہ متوازن ہونے لگے، لیکن اس کہانی کا سب سے اہم موڑ یورو 1984 کا فائنل ثابت ہوا۔
یہ پہلا موقع تھا جب فرانس اور سپین کسی بڑے آفیشل ٹورنامنٹ میں آمنے سامنے آئے۔ پیرس میں کھیلے گئے فائنل میں میزبان فرانس نے سپین کو شکست دے کر پہلی مرتبہ یورپی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ اسی میچ کے بعد ہسپانوی میڈیا نے ایک نئی اصطلاح استعمال کرنا شروع کی، جسے بعد میں 'فرینچ کرس' (French Curse) کہا گیا۔
1984 کا یورو کپ فائنل پہلا موقع تھا جب فرانس اور سپین کسی بڑے مقابلے میں آمنے سامنے آئے، جبکہ کپ فرانس کے نام رہا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
اس اصطلاح کا مطلب یہ تھا کہ جب بھی دونوں ٹیمیں کسی بڑے ٹورنامنٹ میں ٹکراتیں، کامیابی اکثر فرانس کے حصے میں آتی۔ یہ سلسلہ کئی برس جاری رہا۔
یورو 2000 میں راؤل آخری لمحات میں پنالٹی ضائع کر بیٹھے اور سپین ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا۔
یورو 2000 میں راؤل گونزالیز نے فرانس کے خلاف فیصلہ کن پنالٹی ضائع کر دی۔ (فوٹو: ای پی اے)
پھر ورلڈ کپ 2006 میں زین الدین زیدان کی قیادت میں فرانس نے ایک بار پھر سپین کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
زین الدین زیدان کی قیادت میں ورلڈ کپ 2006 میں فرانس نے پھر سپین کو شکست سے دوچار کیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
یوں لگنے لگا تھا کہ بڑے مقابلوں میں فرانس، سپین کی سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ لیکن ہر کہانی کا ایک موڑ ہوتا ہے۔
یورو 2012 میں وسینتے ڈیل بوسکے کی ٹیم نے فرانس کو شکست دے کر تقریباً 28 سال سے جاری اس 'فرینچ کرس' کا خاتمہ کر دیا۔ اسی فتح نے سپین کے سنہری دور کو مزید مضبوط کیا اور ٹیم نے اسی سال یورپی چیمپئن شپ بھی اپنے نام کی۔
کئی برس بعد یورو 2012 میں سپین نے فرانس کے خلاف فتح حاصل کی۔ (فوٹو: اے ایف پی)
اگرچہ 2021 کی یوئیفا نیشنز لیگ کے فائنل میں کائلیان امباپے کے متنازع وی اے آر فیصلے کے بعد کیے گئے گول نے فرانس کو ٹائٹل دلا دیا، لیکن سپین نے زیادہ انتظار نہیں کیا۔
یوئیفا نیشنز لیگ 2021 میں کیلین امباپے کے متنازع گول پر کئی سوالات اٹھے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
یورو 2024 کے سیمی فائنل سے قبل فرانسیسی مڈفیلڈر ایڈرین رابیو نے نوجوان لامین یمال کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہ فائنل کھیلنا چاہتے ہیں تو انہیں مزید کچھ کر کے دکھانا ہوگا۔
لامین یمال نے اس کا جواب الفاظ میں نہیں بلکہ میدان میں دیا۔ انہوں نے ایک شاندار گول کر کے سپین کو فتح دلائی اور میچ کے اختتام پر کیمرے کی طرف دیکھتے ہوئے صرف دو الفاظ کہے 'speak now'۔
فوٹو: مین ان بلیزرز
یہ لمحہ نہ صرف اس ٹورنامنٹ بلکہ جدید فٹبال کی یادگار تصاویر میں شامل ہو گیا۔
اس کے بعد 2025 کی نیشنز لیگ کے سیمی فائنل میں دونوں ٹیمیں ایک بار پھر ٹکرائیں۔ فرانس بدلہ لینے کے ارادے سے میدان میں اترا، مگر سپین نے ایک سنسنی خیز مقابلے میں 5-4 سے کامیابی حاصل کر کے یہ واضح کر دیا کہ اب اس تاریخی رقابت کا توازن دوبارہ بدل چکا ہے۔
ایک صدی پہلے شروع ہونے والی یہ کہانی آج بھی جاری ہے۔
اسی لیے جب فرانس اور سپین آمنے سامنے آتے ہیں تو یہ صرف ایک فٹبال میچ نہیں ہوتا بلکہ 100 سال پرانی دشمنی، ادھورے حساب، تاریخی شکستوں، یادگار فتوحات اور نئی نسل کے ستاروں کے درمیان برتری کی جنگ بن جاتا ہے۔
لامین یمال اور کائلیان امباپے اس داستان کے نئے کردار ضرور ہیں، لیکن اس رقابت کی بنیاد ایک صدی پہلے رکھی گئی تھی، اور ہر نئی ملاقات اس تاریخ میں ایک اور باب کا اضافہ کر دیتی ہے۔